ترکیہ
3 منٹ پڑھنے
ایران پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے:ترکیہ
ترک وزارت خارجہ نے ایران پر اسرائیل کے حالیہ حملوں کے جواب میں سخت مذمت کرتے ہوئے ان حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور علاقائی اور عالمی استحکام کے لیے سنگین اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔
ایران پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے:ترکیہ
/ Anadolu Agency

ترک وزارت خارجہ نے ایران پر اسرائیل کے حالیہ حملوں کے جواب میں سخت مذمت کرتے ہوئے ان حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور علاقائی اور عالمی استحکام کے لیے سنگین اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔

وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم ایران کے خلاف اسرائیل کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

یہ ایک اشتعال انگیزی ہے جو خطے میں اسرائیل کی اسٹریٹجک عدم استحکام کی پالیسی کی تکمیل کرتی ہے۔

انقرہ نے متنبہ کیا کہ حملوں کا وقت اسرائیلی حکومت کی سفارتکاری میں عدم دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حملوں کا وقت ظاہر کرتا ہے کہ نیتن یاہو کی حکومت سفارت کاری کے ذریعے کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور اپنے مفادات کے لیے علاقائی استحکام اور عالمی امن کو خطرے میں ڈالنے کو تیار ہے۔

وزارت خارجہ نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی فوجی کارروائیاں روک دے۔

اسرائیل کو فوری طور پر اپنے جارحانہ اقدامات بند کرنے چاہئیں، جو مزید تنازعات کا باعث بن سکتے ہیں، "بیان میں خطے میں مزید خونریزی کے خلاف ترکئے کے موقف کا اعادہ کیا گیا۔

وزارت خارجہ نے عالمی برادری سے کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہم مشرق وسطیٰ میں مزید خونریزی اور تباہی نہیں دیکھنا چاہتے۔

ہم بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔

ترک نائب صدر  جودت یلماز نے بھی اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں 'غیر قانونی اور اشتعال انگیز' قرار دیا ہے۔

اپنے ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کیے گئے ایک بیان میں یلماز نے کہا: 'ایران پر حملہ کرکے اسرائیل نے ایک اور غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائی کو اپنے ریکارڈ میں شامل کر لیا ہے۔ ہم نیتن یاہو انتظامیہ کی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہیں جس کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے اور اس کا مقصد خطے کو غیر مستحکم کرنا ہے۔ ہم ہلاک شدگان پر ایران کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی کی پالیسیوں کے خلاف بین الاقوامی دباؤ بڑھ رہا ہے اور ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات جاری ہیں، یہ حملہ ایک وحشیانہ موقف کی عکاسی کرتا ہے جو انسانی اقدار اور سفارتکاری کو نظر انداز کرتا ہے۔

یلماز نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ سخت موقف اختیار کرے، "تمام بین الاقوامی اداروں اور متعلقہ ممالک کو اسرائیل کے ان اقدامات کے خلاف زیادہ مضبوط موقف اپنانا چاہئے جو انسانی اقدار، بین الاقوامی قانون اور علاقائی استحکام کے لئے خطرہ ہیں۔

دریافت کیجیے
ترکیہ کوانٹم اور خلائی ٹیکنالوجی کے لئے خصوصی فنڈ مختص کر رہا ہے
اگست دنیا کا گرم ترین مہینہ
آبنائے ہرمز کا نام آبنائے ٹرمپ ہونا چاہیئے:ٹرمپ
اردن کے امریکی اڈے پر ایران کا حملہ،تفصیلات سامنے آ گئیں
فلپائن : فیری میں آگ لگنے سے پانچ افراد ہلاک اور 80 سے زائد لاپتہ
شام میں دھماکہ،ترکیہ کی تعزیت
انڈونیشیا: صحافیوں کو لے جانے والی کشتی لاپتہ ہو گئی
ملائیشیا میں ہیلی کاپٹر کا حادثہ،5 افراد ہلاک
اسرائیل: مقبوضہ مشرقی القدس میں برطانوی قونصل خانہ بند کر دیا جائے
امریکہ کے ایرانی ٹینکروں پر حملے، مشرق وسطی میں تناؤ بڑھ گیا
نیتین یاہو نے مجرمانہ غفلت کا ارتکاب کیا ہے:نفتالی بینیٹ
نیوزی لینڈ: اسرائیلی کاروائیاں پائیدار امن کے امکانات کو خطرے میں ڈال رہی ہیں
جب تک حملہ آور پشیمان نہیں ہوتے ایران مزاحمت جاری رکھے گا: پزشکیان
ترک دفترِ خارجہ کی طرف سے ملادچ کے لیے آخری رسومات کے خصوصی اہتمام پر رد عمل
اسرائیلی فورسز کے چھاپے کے دوران ایک فلسطینی شخص کو قتل کر  دیا گیا