شام کے وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے اسلام آباد میں اپنے پاکستانی ہم منصب اسحاق ڈار سے ملاقات کی۔ مذاکرات میں دوطرفہ تعاون اور علاقائی صورتحال پر بات چیت کی گئی ہے۔
پاکستان کی وزارت خارجہ نے ایکس سےجاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ شیبانی بدھ کی شب اسلام آباد پہنچے۔ یہ دو روزہ دورہ دسمبر 2024 میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد ان کا پہلا دورہ پاکستان ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان بند کمرے کی ملاقات "پُرجوش اور تعمیری" رہی ہے۔ مذاکرات میں "پاکستان اور شام کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کی دوبارہ توثیق کی گئی ہے۔"
دونوں وزراء نے باہمی مفادات کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
پاکستان وزارت خارجہ کے مطابق شامی وزیر خارجہ اور ان کے وفد نے وزارت خارجہ میں اسحاق ڈار سے ملاقات کی۔
توقع ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر اعلیٰ حکام بھی اُن سے ملاقات کریں گے۔
یہ دورہ گزشتہ 19 برسوں میں کسی شامی وزیر خارجہ کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔
پاکستان کا آخری دورہ 2007 میں شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے کیا تھا۔
گزشتہ جون میں ایک پاکستانی وفد نے دمشق میں شیبانی سے ملاقات کی تھی۔
شیبانی کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اسلام آباد نے بدھ کے روز شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں واقع ابو ظہور فوجی ہوائی اڈے پر اسرائیلی قابض افواج کے بلاجواز حملے کی "سخت مذمت" کی ہے۔
اسلام آباد اور دمشق کے درمیان کئی دہائیوں سے تعلقات قائم ہیں، جو فوجی تعاون اور تربیتی تبادلے کے پروگراموں کے ذریعے مزید مضبوط ہوئے ہیں۔
بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد بھی پاکستان کا دمشق میں سفارتخانہ کھلا رہا تاہم گزشتہ دو برسوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون محدود سطح پر رہا ہے۔
پاکستان اور شام نے پاکستان کے قیام کے دو سال بعد، دسمبر 1949ء میں باضابطہ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔


















