سیاست
3 منٹ پڑھنے
بلاول بھٹو: پاکستان بھارت کے انفرادی طور پر کارروائی کرنے پر شملہ معاہدے سے نکل سکتا ہے
ٹی آر ٹی ورلڈ سے بات کرتے ہوئے، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین نے ملک کے قومی سلامتی کے حکام کی حالیہ ملاقاتوں کا حوالہ دیا، جہاں اس مسئلے پر تفصیل سے بات چیت کی گئی۔
بلاول بھٹو: پاکستان بھارت کے انفرادی طور پر کارروائی کرنے پر شملہ معاہدے سے نکل سکتا ہے
Bhutto-Zardari was in US as part of Pakistan's broad engagement campaign to present its perspective on the recent conflict with India. [File] / Reuters

اشنگٹن، ڈی سی — پاکستان کے سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر بھارت دو طرفہ معاہدوں کے حوالے سے یکطرفہ فیصلے کرتا رہا تو پاکستان شملہ معاہدے سے دستبردار ہونے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

ٹی آر ٹی ورلڈ سے بات کرتے ہوئے، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین نے ملک کے قومی سلامتی کے حکام کی حالیہ ملاقاتوں کا حوالہ دیا، جہاں اس مسئلے پر تفصیل سے بات چیت کی گئی۔

بلاول بھٹو زرداری امریکہ میں پاکستان کی وسیع سفارتی مہم کے تحت موجود تھے، جس کا مقصد بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی پر پاکستان کا مؤقف پیش کرنا اور نئی دہلی کی سفارتی مہم کا جواب دینا تھا۔

اس وفد میں سابق وزرائے خارجہ بلاول، حنا ربانی کھر اور خرم دستگیر؛ سینیٹرز شیری رحمان، مصدق ملک، فیصل سبزواری اور بشریٰ انجم بٹ؛ اور سینئر سفارتکار جلیل عباس جیلانی اور تہمینہ جنجوعہ شامل تھے۔

انہوں نے کہا، "میرا خیال ہے کہ جب میں آخری بار یہاں آیا تھا، تو حکومت نے اپنے سلامتی کے نظام کا اجلاس منعقد کیا تھا۔"

انہوں نے مزید کہا، "حکومتی حکام نے کئی فیصلے کیے۔ ہم نے اعلان کیا کہ اگر اس آبی معاہدے (انڈس واٹر ٹریٹی) کی خلاف ورزی کی گئی تو پاکستان شملہ معاہدے سے دستبردار ہونے کا حق محفوظ رکھتا ہے … اگر بھارت اپنے فیصلوں میں یکطرفہ رویہ اپناتا ہے۔"

تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

"مجھے یقین نہیں کہ ہم نے واقعی یہ فیصلہ کیا ہے یا نہیں۔ لیکن تکنیکی طور پر، یہ حق محفوظ ہے۔"

انڈس واٹر ٹریٹی

تکنیکی طور پر، شملہ معاہدہ اب بھی قائم ہے — لیکن اس کا مستقبل اب غیر یقینی ہے۔

بھارت نے پہلگام حملے کے بعد، جس کا الزام نئی دہلی نے اسلام آباد پر لگایا، پاکستان کے ساتھ انڈس واٹر ٹریٹی کو معطل کر دیا۔

پاکستان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

جواباً، پاکستان نے اعلان کیا کہ وہ بھارت کے ساتھ تمام دو طرفہ معاہدوں — بشمول شملہ معاہدہ — کا جائزہ لے گا اور انہیں وقتی طور پر معطل رکھے گا۔

حکومت نے واہگہ بارڈر کراسنگ بند کرنے اور بھارت کے ساتھ تمام تجارت معطل کرنے کا بھی حکم دیا۔ یہ اقدامات پاکستان کے غصے کا اظہار کرنے کے لیے وسیع تر سفارتی اور اقتصادی پابندیوں کا حصہ تھے۔

گزشتہ ماہ دونوں ممالک نے چار دن تک لڑائی میں لڑاکا طیارے، میزائل، ڈرونز اور توپ خانے استعمال کیے، جو دہائیوں میں ان کی بدترین جھڑپیں تھیں، اس کے بعد 10 مئی کو امریکہ کی ثالثی میں جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا۔

شملہ معاہدہ، جو جولائی 1972 میں ذوالفقار علی بھٹو اور اندرا گاندھی کے درمیان دستخط ہوا، 1971 کی جنگ کے بعد ہوا۔

اس کا مقصد پاک بھارت تعلقات میں استحکام لانا تھا۔

دونوں فریقین نے تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے اور لائن آف کنٹرول کا احترام کرنے پر اتفاق کیا، جو کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرتی ہے، جبکہ ایک حتمی حل کی طرف کام کرنے کا عزم کیا۔

لیکن حالیہ برسوں میں، پاکستان میں کئی لوگوں نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا یہ معاہدہ اب بھی اہمیت رکھتا ہے۔

دریافت کیجیے
ٹرمپ: ہم ایردوان کے ساتھ ایف-35 کے معاملے پر بات کریں گے
ترک وزیر خارجہ فیدان: یورپی سلامتی کو یورپی یونین تک محدود نہیں کیا جا سکتا
فیدان  کے انقرہ میں نیٹو سمٹ سے قبل امریکی سینیٹرز سے مذاکرات
یورپ انقرہ میں نیٹو اجلاس کو ٹرمپ کو اجتماعی دفاع میں اپنی دلچسپی دکھانے کا ،مظاہرہ کرے گا: جرمنی
انقرہ میں نیٹو سمٹ سے قبل پوتن اور ٹرمپ کی یوکرین کے معاملے پر بات چیت
اسرائیل حکومت اپنی بگڑتی ساکھ کو بچانے کے لیے نئے دشمن کی متلاشی ہے، ترک وزیر خارجہ
روس اور امریکہ پر  عظیم جوہری طاقتیں ہونے کے ناطے عالمی سلامتی کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، پوتن
ایردوان اور میلونی نے انقرہ نیٹو سمٹ سے قبل دفاعی روابط پر بات چیت کی
یوکرین سے ایران تک: نیٹو انقرہ سمٹ میں زیر غور آنے والے ممکنہ موضوعات کا جائزہ
نیٹو سیکریٹری جنرل: "ترکیہ میثاق کی سب سے طاقتور افواج میں سے ایک ہے"
امریکہ نے اسرائیل اور لبنان امن  معاہدے کے فریم کی تفصیلات جاری کر دیں
میلونی: ٹرمپ کے تبصروں سے مجھے ' سخت حیرانگی' ہوئی ہے
امریکہ اور ایران نے سوئٹزرلینڈ میں اعلی سطحی مذاکرات مکمل کر لیے ہیں، ثالث ممالک
وٹکوف اور عراقچی اسرائیل کے لبنان پر قبضے کے دوران سویٹزرلینڈ میں مذاکرات کے لیے جا رہے ہیں
ممکن ہے کہ نیتن یاہو ٹرمپ کے ایران امن معاہدے کو خطرے میں ڈال دے: امریکی انٹیلی جنس
امریکہ اور ایران کے درمیان مقرر کردہ مذاکرات میں تاخیر
امریکہ-ایران معاہدے سے متعلق تیکنیکی مسائل تا حال حل نہیں ہوئے: ترک وزیر خارجہ
2022 کا استنبول یوکرین معاہدہ مغربی مداخلت کی وجہ سے بگڑا، روس کا دعوٰی
امریکہ-ایران امن معاہدے کے باوجوداسرائیلی فوج لبنان میں طویل المدت قبضے کی تیاری کر رہی ہے — رپورٹ
لبنان میں جنگ کا خاتمہ ایران کی جنگ کے خاتمے کے لیے 'لازمی شرط' ہے: وزیر خارجہ عراقچی