امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹروتھ سوشل' پر ایک نقشہ شیئر کیا ہے جس میں وینزویلا کے اوپر امریکی پرچم لگا ہوا ہے اور اسے "51 ویں ریاست کا نام دیا گیا ہے۔
یہ پوسٹ اس وقت سامنے آئی جب ٹرمپ ایک اہم سربراہی اجلاس کے لیے چین کے دورے پر تھے، اور اس سے قبل پیر کو انہوں نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا تھا کہ وہ اس جنوبی امریکی ملک کو نئی امریکی ریاست بنانے پر "سنجیدگی سے غور" کر رہے ہیں۔
وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز نے اس تصور کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ملک نے کبھی بھی 51 ویں ریاست بننے کا نہیں سوچا، یہاں تک کہ رواں سال جنوری میں امریکی افواج کی جانب سے معزول رہنما نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد بھی نہیں۔
ہیگ میں عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روڈریگز نے کہا، "ہمیں اپنی آزادی کے عمل سے محبت ہے، ہمیں اپنی آزادی کے ہیروز سے محبت ہے، اور ہم اپنی سالمیت، خودمختاری اور آزادی کا دفاع جاری رکھیں گے۔"
روڈریگز نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے، جس کے تحت کان کنی اور تیل کے شعبوں کو غیر ملکی کمپنیوں کے لیے دوبارہ کھولنے کی اصلاحات بھی کی گئیں۔
تاہم، وہ خودمختاری کے معاملے پر سخت موقف رکھتی ہیں۔
کولومبیا کے صدر گسٹاو پیٹرو نے بھی اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس خیال کو سائمن بولیوار کے نظریات کے " منافی" قرار دیا۔
پیٹرو نے دلیل دی کہ ایسی کوئی بھی تبدیلی وینزویلا کے عوام کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی۔
ٹرمپ کے حوالے سے بتایا گیا کہ 2 جنوری کو مادورو کی گرفتاری کے بعد اس تیل سے مالامال ملک پر امریکہ کا کنٹرول قائم ہو چکا تھا۔
جہاں ایک طرف وینزویلا کی اپوزیشن نے فوری انتخابات کا مطالبہ کیا ہے، وہیں یکم مئی کو روڈریگز نے کہا کہ وہ "نہیں جانتیں" کہ نئے انتخابات کب ہوں گے، اور انہوں نے اشارہ دیا کہ یہ "کبھی نہ کبھی" ہوں گے۔










