اسرائیل نے غزہ بھر پر فوجی حملے کر کے 7 فلسطینی شہریوں کو قتل اور 10 کو زخمی کر دیا ہے۔ مقتولین میں ایک میاں بیوی اور ان کے میں 2بچے بھی شامل ہیں ۔
یہ حملے اور قتل و غارت گری، طے شدہ جنگ بندی معاہدے کی، مسلسل خلاف ورزیوں کا حصّہ ہیں۔
انادولو ایجنسی کو فراہم کردہ معلومات میں طبی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ وسطی غزہ میں نصیرات پناہ گزین کیمپ کے مغرب میں واقع السوارحہ قبرستان کے قریب اسرائیلی حملے میں ایک فلسطینی شہید اور دوسرا زخمی ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ، وادی غزہ کے علاقے میں اسرائیلی فوج نے فائرنگ کر کے ایک بچے کو قتل کر دیا ہے۔
شمالی غزہ میں جبالیہ پناہ گزین کیمپ کے علاقے القصیص پر اسرائیلی ڈرون حملے میں زخمی ہونے والا ایک اور فلسطینی بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا ہے۔
غزہ شہر کے جنوب مشرقی محلّے 'زیتون' میں بھی ایک فلسطینی کی شہادت کی اطلاع ملی ہے۔
ادھر غزہ شہر کے مغرب میں اسرائیلی حملہ آور ہیلی کاپٹر نے الشفا اسپتال کے قریب ایک گھر پر میزائل داغا، جس کے نتیجے میں ایک میاں بیوی شہید ہوگئےاور 3 عورتوں سمیت 4 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
اس حملے کے باعث گھر میں آگ لگ گئی، جس پر بعد میں شہری دفاع کی ٹیموں نے قابو پایا۔
وسیع پیمانے پر بمباری
جنوبی غزہ میں بھی جانی نقصان ہوا ہے۔ اسرائیلی فوج نے، خان یونس کے جنوب میں واقع کیزان ابو رشوان کے علاقے میں بھی، فائرنگ کر کےایک بچے کو قتل کر دیا ہے۔
اسی دوران، اسرائیلی بحریہ کی جنگی کشتیوں نے غزہ شہر کے شمالی ساحلی علاقے پر بمباری کی اور بکتر بند گاڑیوں نے شمال مغربی علاقے السودانیہ میں فائرنگ کی۔
غزہ وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل، جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے دوران 10 اکتوبر 2025 سے تا حال 1,522 فلسطینیوں کو قتل اور 5,421 کو زخمی کر چکا ہے۔
اکتوبر 2023 سے غزّہ پر مسّلط کردہ نسل کشی جنگ میں اسرائیل کے قتل کردہ فلسطینیوں کی تعداد74 ہزار سے زیادہ ہے۔اسرائیل1 لاکھ 75 ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو زخمی کرچکا اور علاقے کے تقریباً 90 فیصد شہری بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرچکا ہے۔




















