سیاست
3 منٹ پڑھنے
بھارتی وزیر اعظم مودی کو صوبائی انتخابات میں ایک اہم امتحان کا سامنا ہے
بھارت میں اہم انتخابات میں ووٹ گنتی کا عمل متنازع الزامات کے درمیان جاری ہے، جس میں مبینہ طور پر ووٹرز کو انتخابی فہرست سے خارج کیے جانے کا الزام ہے۔
بھارتی وزیر اعظم مودی کو صوبائی انتخابات میں ایک اہم امتحان کا سامنا ہے
انتخابی اہلکار 4 مئی 2026 کو کولکتہ کے نیتا جی انڈور اسٹیڈیم میں مغربی بنگال قانون ساز اسمبلی انتخابات کے بعد ووٹ گن رہے ہیں۔ / AFP

سخت سکیورٹی کےتحت اہم بھارتی ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی جاری  ہے، جہاں وزیر اعظم نریندر مودی کی پارٹی اہم کامیابیوں کی امید رکھتی ہے۔

اپریل اور مئی میں پانچ ریاستوں اور علاقوں میں انتخابات ہوئے تھے، اور مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، جو وفاقی پارلیمنٹ میں بھاری اکثریت کی حامل جماعت ہے، مخالفین کے زیرِ تسلط صوبوں میں جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

مغربی بنگال میں، ہندو قوم پرست بی جے پی نے 2011 سے اقتدار میں موجود آل انڈیا ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی  وزیراعلیٰ مامتہ بنرجی کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے جارحانہ مہم چلائی، اس ریاست کی آبادی تقریباً دس کروڑ ہے۔

گزشتہ ہفتے کے ایگزٹ پولز نے پیشن گوئی کی کہ بی جے پی کو ٹی ایم سی پر معمولی برتری حاصل  ہے، حالانکہ ایگزٹ پولز کا ریکارڈ بھارت میں غیر مستقل رہا ہے۔

سیاسی تجزیہ کار بِسواناتھ چکربورتی نے کلکتہ کے مرکزی شہر میں اے ایف پی کو کہا، "پورا ملک اس ریاست کے انتخابی نتائج پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ یہ مقابلہ طاقت کے توازن کا پانسہ بدل  سکتا ہے۔"

اس مرتبہ مہم میں ووٹر رولز سے لاکھوں ناموں کے اخراج پر  وسیع پیمانے پر  احتجاج  کیا گیا، جسے اہل نہ سمجھے جانے والے ووٹرز کو ہٹانے کے طور پر پیش کیا گیا، مگر ناقدین کا کہنا تھا کہ اس عمل نے پسماندہ اور اقلیتی طبقات کے خلاف جانبداری کا  مظاہرہ کیا۔

بنرجی نے گنتی سے پہلے کہا کہ ان کی ٹی ایم سی جیتے گی۔

انہوں نے کہا،  "بی جے پی نہیں آئے گی، یہ میرا وعدہ ہے ۔ آخری لمحے تک صبر کریں۔"

انکار کا انتخاب

لیکن مغربی بنگال کے بی جے پی  کےسربراہ سَامِک بھٹاچاریہ نے کہا کہ وہ جیت پر  پُراعتماد ہیں۔

 ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک انکار کا انتخاب تھا،ریاستی عوام تبدیلی چاہتے ہیں۔ حاکم ترنمول کانگریس کو شکست ہوگی۔

ماضی کے انتخابات میں ریاست میں تشدد کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔

جنوبی  صوبہ  تامل ناڈو میں، جو آٹھ کروڑ سے زائد آبادی والا ایک اہم صنعتی مرکز ہے، وزیراعلیٰ ایم کے اسٹالن کی قیادت کی  ڈی ایم کے، کی دوبارہ  جیت ہونے  کی  کافی توقع ہے۔

مشرقی ریاست آسام میں، جس کی آبادی 31 ملین سے زائد ہے، ووٹوں کی گنتی  جاری ہے، جس پر بی جے پی کے کنٹرول برقرار رکھنے کی وسیع توقع ہے، اور چھوٹے ساحلی علاقے پوڈوچیری میں بھی ووٹ گنے جا رہے ہیں، جہاں بی جے پی حکومتی اتحاد کا حصہ ہے۔

کیرالہ میں، جس کی آبادی تقریباً 3.6 کروڑ ہے، مقابلہ سخت ہے اور ایگزٹ پولز بتاتے ہیں کہ کانگریس کی قیادت والا اتحاد کمیونسٹ پارٹی کو اقتدار سے ہٹانے کی جانب مائل نظر آتا ہے۔

یہ صوبائی  انتخابات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب مودی کی حکومت کو اقتصادی اور خارجہ پالیسی کے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں بلند  سطح کی بے روزگاری اور زیرِ التوا امریکی تجارتی معاہدہ شامل ہیں۔

 

دریافت کیجیے
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں ایک مناسڑ اور نن مکتب کو مسمار کر دیا
ایشیائی رہنماوں کی جانب سے یومِ مزدور  کے موقع پر  محنت کشوں  کے تحفظ میں بہتری لانے کا عندیہ
صدر ایردوان کی طرف سے TRT کی 62 ویں سالگرہ کی مبارکباد اور کثیر السانی خدمات کی پذیرائی
بحرین کے شاہ حمد نے ایران سے کہا ہے کہ وہ خلیجی ممالک کے امور میں مداخلت بند کرے
اسرائیل نے جنوبی لبنان پر تازہ حملے میں 2 افراد کو ہلاک اور 10 کو زخمی کر دیا
اسرائیلی افواج کا ہدف جنوبی لبنان میں "ہر چیز کو تباہ" کرنا ہے، انکشاف
ٹرمپ کو ایران پر ممکنہ حملوں کے بارے میں فوجی بریفنگ دی جائے گی، رپورٹ
غزہ کے لیے امدادی فلوٹیلا پر سوار بیس ترک شہریوں کو اسرائیل نے حراست میں لے لیا
ترکیہ اور اسپین کا مطالبہ: مشترکہ مؤقف اختیار کیا جائے
شاہ چارلس: ہم مل کر زیادہ مضبوط ہیں
طیارہ بردار جہاز "جیرالڈ فورڈ" جلد ہی وطن پہنچ جائے گا:واشنگٹن پوسٹ
"ٹرمپ کو دھمکی"سابق ایف بی آئی ڈائریکٹر کو عدالت میں پیش ہونا پڑ گیا
امریکہ اور ایران کے درمیان روابط ٹیلیفون پر جاری ہیں:ٹرمپ
امریکہ: ٹرمپ انتظامیہ اتحاد بنانے کی کوششوں میں
ترکیہ: اسرائیلی مداخلت "بحری قزاقی" ہے