ثقافت
3 منٹ پڑھنے
اسرائیلی فلم سازوں کی شہریت منسوخ کروادوں گا:اسرائیلی وزیر
فلم میں غزہ پر فوجی حملوں کو نسل کشی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ زوہر نے اس فلم کو "وطن سے غداری" کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ فلم کے ہدایت کاروں یوول ابراہام  اور راچل زوشر  کی شہریت منسوخ کرانے کے لیے فوری طور پر کارروائی کریں گے
اسرائیلی فلم سازوں کی شہریت منسوخ کروادوں گا:اسرائیلی وزیر
اسرائیل / AP

اسرائیلی وزیر ثقافت مکی زوہر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس  پر اپنی ایک پوسٹ میں دستاویزی فلم "NAZA" کو "مکروہ" قرار دیتے ہوئے، بین الاقوامی وینس فلم فیسٹیول میں اس کے لیے "جیوری اسپیشل ایوارڈ" کے اعلان کو "حیران کن" اور صدمہ پہنچانے والا قرار دیا ہے۔

یہ دستاویزی فلم اسرائیلی فوج کے ان اہلکاروں کے اعترافات پر مبنی ہے جو فلسطینیوں کی جاسوسی اور دور بیٹھ کر انہیں نشانہ بنانے والے میکانزم میں شامل رہے ہیں۔

 فلم میں غزہ پر فوجی حملوں کو نسل کشی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ زوہر نے اس فلم کو "وطن سے غداری" کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ فلم کے ہدایت کاروں یوول ابراہام  اور راچل زوشر  کی شہریت منسوخ کرانے کے لیے فوری طور پر کارروائی کریں گے۔

مکی زوہر نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ یہ بالکل وہی وجہ ہے جس کے تحت میں نے سینما کی دنیا میں ایک بڑی اصلاح کا آغاز کیا ہے، تاکہ اسرائیلی شہریوں کو اپنی جیبوں سے اسرائیلی فوج کے سپاہیوں اور ریاستِ اسرائیل کو پہنچنے والے نقصان کی قیمت نہ چکانی پڑے۔

وزیر ثقافت کی حیثیت سے، میں ریاست کے ساتھ غداری کرنے والے ان کمینے تخلیق کاروں کی اسرائیلی شہریت فوری طور پر منسوخ کرنے کے لیے کارروائی کروں گا۔

واضح رہے کہ اٹلی میں منعقدہ 83ویں بین الاقوامی وینس فلم فیسٹیول میں غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں سویلین ہلاکتوں کی دستاویز کاری کرنے والی فلم "NAZA" کو "جیوری اسپیشل ایوارڈ" سے نوازا گیا ہے۔


فلم کا نام "NAZA" اسرائیلی فوج کے اس ضابطے کی طرف اشارہ کرتا ہے جو کسی بھی حملے میں مردوں، عورتوں اور بچوں سمیت "توقع کے مطابق ہلاک ہونے والے عام شہریوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

دستاویزی فلم کی تیاری میں شرکاء کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے انٹرویو کے مختلف اور خفیہ طریقے استعمال کیے گئے ہیں۔ یہ فلم 3 سال کے عرصے کے دوران تل ابیب کی چھتوں پر خفیہ طور پر فلمائی گئی۔ ڈیجیٹل تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے شرکاء کی شناخت، آواز اور چہروں کو تبدیل کر کے چھپایا گیا ہے۔ فلم میں انٹرویو دینے والے سابق فوجیوں نے غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے استعمال کیے جانے والے "خفیہ نظام" اور پسِ پردہ طریقوں کی تفصیلات سے پردہ اٹھایا ہے۔

فلم کا حصہ بننے والے افراد نے اسرائیلی حملوں میں استعمال ہونے والے نگرانی کے جدید نظاموں اور طویل فاصلے سے کی جانے والی بمباری کی تفصیلی وضاحت کی ہے۔ ان کے مطابق، اس آپریشن میں مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال کر کے حماس کے ممکنہ اہداف کی نشاندہی کی جاتی ہے اور زیادہ تر ان گھروں اور اپارٹمنٹس کو بمباری کا نشانہ بنایا جاتا ہے جہاں خاندان رہ رہے ہوتے ہیں۔ فلم میں اسرائیلی فوجی انٹیلی جنس افسران اور ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کے براہِ راست بیانات اور گواہیاں شامل ہیں۔

جمعرات کے روز اپنے باضابطہ پریمیئر کے بعد، اس دستاویزی فلم نے ہفتے کے روز فیسٹیول کا باوقار 'اسپیشل جیوری ایوارڈ' جیتا۔

 پریمیئر کے اختتام پر ہال میں موجود شائقین نے تقریباً 25 منٹ تک کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں اور فلم کو زبردست داد دی۔



 

دریافت کیجیے
لبنان سے انخلاء تک اسرائیل کے ساتھ کوئی نئی مذاکرات نہیں: عون
سعودی عرب: عراق سے تیل پائپ لائن کو نشانہ بنائے جانے کے بعد بغداد اس واقع کی تحقیقات کر رہا ہے
یمنی فوج نے مغربی ساحل پر حوثی محاذوں پر فضائی حملے کیے
اقوام متحدہ نے یمن میں انسانی امداد کے مرکز پر حوثیوں کے قبضے کی مذمت کی
سعودی عرب کا کہنا ہے کہ عراق سے ہونے والے حملے میں مشرق۔ مغرب پائپ لائن کو نشانہ بنایا گیا ہے
ایران پر امریکی دباؤ 'خطرناک' مرحلے پر آن پہنچا ہے، پزشکیان
آکنجی کی نئے سپرسونک 300 میزائل کی کامیاب آزمائش
اگر ریپبلیکنز کو ووٹ نہیں دیا تو جہنم مقدر ہوگا:ٹرمپ
"نازا" غزہ نسل کشی کے پس پردہ عوامل پر مبنی فلم
ٹرمپ 9/11 کی 25 ویں برسی کی تقریب میں پینٹاگون میں شرکت کریں گے
جل کر خاکستر ہونے والی فلپائنی فیری کے 84 مسافر تا حال لاتہ ہیں
ترکیہ کوانٹم اور خلائی ٹیکنالوجی کے لئے خصوصی فنڈ مختص کر رہا ہے
اگست دنیا کا گرم ترین مہینہ
آبنائے ہرمز کا نام آبنائے ٹرمپ ہونا چاہیئے:ٹرمپ
اردن کے امریکی اڈے پر ایران کا حملہ،تفصیلات سامنے آ گئیں