فلسطین اور اردن نے، اسرائیل کے انتہا پسند وزیرِ قومی سلامتی 'اتمار بن گویر' کے مسجدِ اقصیٰ پر اشتعال انگیز دھاوے کی اور یہودی عبادت گزاروں کو مسجد میں زیادہ سے زیادہ داخلے کی سہولت فراہم کرنے کے عزائم کی، شدید مذمت کی ہے۔
قومی سلامتی کے وزیر بن گویر نے مسجد کے احاطے میں بنائی گئی ایک ویڈیو میں کہا ہے کہ "مجھے آج یہاں ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے میں اس جگہ کا مالک ہوں۔ ابھی بہت کچھ کرنا اور بہتر بنانا باقی ہے۔ میں وزیرِ اعظم پر مسلسل دباؤ ڈال رہا ہوں کہ وہ مزید اقدامات کریں۔ ہمیں مزید بلندیوں کی طرف اور ہمیشہ آگے کی طرف بڑھنا چاہیے"۔
2022 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے بن گویر کم از کم 16 بار مسجدِ اقصیٰ پر دھاوا بول چُکا ہے اور وہ اسرائیل میں تیزی سے بڑھتی ہوئی غیر قانونی آباد کاری تحریک کا حصہ ہے۔
فلسطین وزارتِ خارجہ نے بن گویر اور آباد کاروں کے مسجدِ اقصیٰ پر مسلسل دھاووں کی مذمت کی ہے۔ جاری کردہ بیان میں وزارتِ خارجہ نےکہا ہے کہ ان دوروں کا مقصد غیر قانونی آباد کاروں کی دراندازی کو معمول بنانا اور وقت اور جگہ کے اعتبار سے مسجد اور اس کے صحنوں پر تقسیم کو مسلّط کرنا ہے۔
وزارت نے متنبہ کیا ہےکہ یہ اقدامات مقبوضہ مشرقی القدس میں مقّدس اسلامی اور مسیحی مقامات کی بڑھتی ہوئی بے حرمتی، نمازیوں پر پابندیوں اور قدیم شہر میں سخت کنٹرول کے ساتھ بیک وقت شکل میں کئے جا رہے ہیں۔
فلسطین وزارتِ خارجہ نے مشرقی القدس کی قانونی و تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنے کے تمام اسرائیلی اقدامات اور قوانین کو مسترد کیا اور بین الاقوامی قانون کی رُو سے انہیں "بے حیثیت" قرار دیا ہے۔
اردن وزارتِ خارجہ نے بھی جاری کردہ بیان میں بن گویر کے اس اقدام کو "مقدس مقام کی بے حرمتی، قابلِ مذمت کشیدگی اور ناقابلِ قبول اشتعال انگیزی" قرار دیا ہے۔ وزارت نے کہا ہے کہ یہ قدم "حرم الشریف کی تاریخی و قانونی حیثیت کی خلاف ورزی ہے اور اس کے تقدس کو پامال کرنے کی کوشش ہے۔"
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی پولیس کی جانب سے جاری خلاف ورزیوں اور اس طرح کے اقدامات میں سہولت کاری کو "قطعی طور پر مسترد کیا جاتا اور اس کی مذمت" کی جاتی ہے۔ اردن نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام مسجدِ اقصیٰ کی زمانی اور مکانی تقسیم کر کے "نئی حقیقتیں مسلط کرنے کی ایک اشتعال انگیز کوشش" ہے۔








