دنیا
3 منٹ پڑھنے
آرتیمیس دوئم کی ٹیم زمینی ماحول سے ہم آہنگی کے مرحلے میں
یہ ہفتہ طبی ٹیسٹوں، جسمانی معائنے، ڈاکٹروں اور سائنسی اہداف جیسی مصروفیات سے بھرا ہوا  تھا۔ ہم نے ابھی تک اس سکون کو محسوس نہیں کیا جو واپسی کے بعد ملتا ہے: ریڈ وائزمین
آرتیمیس دوئم کی ٹیم زمینی ماحول سے ہم آہنگی کے مرحلے میں
زمین پر واپسی کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں، خلا بازوں نے ہیوسٹن میں ناسا کے جانسن اسپیس سینٹر، جو ان کا آبائی اڈہ ہے، سے خطاب کیا۔ / Reuters

چاند کے گرد چکر لگانے والے آرتیمیس دوئم خلائی مشن کے خلانوردوں نے صحافیوں  کے ساتھ بات چیت میں کہا ہے کہ "ہمیں بحر الکاہل میں لینڈنگ کئے تقریباً ایک ہفتہ گزر چُکا ہے لیکن ہم  ابھی تک واپسی کے اس تاریخی لمحے کی عظمت کو مکمل طور پر محسوس نہیں کر پائے۔

مشن کے کمانڈر ریڈ وائزمین نے جمعرات کے روز ہیوسٹن میں ناسا کے جانسن اسپیس سینٹر میں منعقدہ  پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ "یہ ہفتہ طبی ٹیسٹوں، جسمانی معائنے، ڈاکٹروں اور سائنسی اہداف جیسی مصروفیات سے بھرا ہوا  تھا۔ ہم نے ابھی تک اس سکون کو محسوس نہیں کیا  جو واپسی کے بعد ملتا ہے۔"

50 سالہ وائزمین نے مشن میں شامل دیگر امریکیوں وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈین ساتھی جیریمی ہینسن پر مشتمل ٹیم کی قیادت کی۔ یہ وہ ٹیم ہے جو خلا میں وہاں تک گئی جہاں پہلے کبھی کوئی انسان نہیں گیا تھا۔

زمین کے ماحول سے دوبارہ ہم آہنگی

مشن کے پائلٹ وکٹر گلوور نے صحافیوں کو بتایا کہ "کل پورا ایک ہفتہ ہو جائے گا اور میں ایک ہفتے سے اپنی تنہائی میں رہنے کی کوشش کر رہا ہوں۔سوشل میڈیا سے دور رہا اور خبروں کا تعاقب نہیں کیا۔"

وائزمین نے بتایا کہ جب انٹیگریٹی کیپسول فضا میں واپسی کے تیز ترین اور گرم ترین مرحلے سے گزر رہا تھا تو میں نے اور گلوور نے ہیٹ شیلڈ میں "شاید دو بار کاربنائزیشن (جلنے) کا معمولی نقصان" محسوس کیا۔ ریسکیو جہاز پر سوار ہونے کے بعد میں نے جھک کر کیپسول کے نیچے بہت غور سے دیکھا تاکہ نقصان کا کوئی نشان دیکھ سکوں۔ ہم نے ہیٹ شیلڈ کے کندھوں سے جُڑے حصّے میں  کاربنائزڈ کی وجہ سے معمولی نقصان  محسوس کیا۔

وائزمین نے کہا کہ "ہم صرف ایک انسانی آنکھ سے ہیٹ شیلڈ کو دیکھ رہے تھے اور ہمارے لیے یہ منظر بہت شاندار تھا۔ یہ منظر بہت اچھا تھا اور واپسی کا سفر واقعی غیر معمولی تھا۔ تاہم تفصیلی تجزیہ بے حد ضروری ہے۔ ہم اس ہیٹ شیلڈ کے ایک ایک سالمے'مالیکیول' کا بلکہ یوں کہیں کہ  ایک ایک ایٹم کا، بال کی کھال اتارنے کی حد تک، باریک بینی سے معائنہ کریں گے۔"

تاریخی مشن

آرٹیمس II، 1972 کے بعد چاند کے مدار میں جانے والا پہلا انسانی مشن تھا۔ یہ  تاریخ کا وہ واحد مشن بن گیا جس میں ایک خاتون، ایک سیاہ فام خلانورد اور ایک غیر امریکی شامل تھے۔ ان کے سفر کو امریکی خلائی ایجنسی ناسا (NASA) نے براہِ راست نشر کیا، لانچنگ اور زمین پر واپسی کے لمحات کو کروڑوں لوگوں نے اپنی اسکرینوں پر دیکھا۔

آرٹیمس II مشن تقریباً 10 دن جاری رہا  لیکن ناسا کا ہدف مستقبل کے مریخ مشنوں کی تیاری کے لیے چاند پر ایک بیس قائم کرنے کی خاطر طویل مدتی دورے کرنا ہے۔ امریکہ اپنے چینی حریفوں کی دی گئی آخری تاریخ سے پہلے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدتِ ملازمت ختم ہونے سے پہلے، 2028 میں چاند پر لینڈنگ کا ارادہ رکھتا ہے۔

دریافت کیجیے
امریکا نے جنوبی کوریا کے ساتھ سیٹلائٹ اینٹیلجنس معلومات کا تبادلہ محدود کر دیا
ہمارے جہاز پر قبضہ بحری قزاقی ہے،مذمت کرتے ہیں :ایران
ایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
اسرائیل کا تازہ حملہ،3 فلسطینی ہلاک
جاپان: 7،4 کی شدت سے زلزلہ، سونامی کی وارننگ
پاکستان کا اشارہ: ایران مذاکرات میں شرکت کرے گا
ایران  نے اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کے جرم میں دو افراد کو تختہ وار پر لٹکا دیا
شمالی کوریا نے کلسٹر بم اور بیلسٹک میزائلوں کا آزمائشی تجربہ کر ڈالا
اسرائیل: جنوبی لبنان کے باشندے سرحدی علاقوں سے دور رہیں
روس: یوکرین نے تواپسے بندرگاہ کو نشانہ بنایا ہے
امریکی فوجی حملے میں کیریبین میں تین افراد ہلاک، 'منشیات اسمگلنگ' کے خلاف مہم میں تیزی
عیسی مسیح کے علامتی مجمسے کی بے حرمتی کی ہے:اسرائیلی فوج کا اعتراف
خلیج عمان میں امریکی ایرانی کشیدگی میں اضافہ
امریکہ، جاپان اور فلپائن نے بڑے پیمانے کی فوجی مشقیں شروع کر دیں
ایران: امریکہ کی "بحری قزاقی" کا بھرپور جواب دیا جائے گا