اسرائیلی فوج نےجنوبی لبنان کے شہر صور کے شہریوں سے شہر سے نکلنے کا مطالبہ کیا اور کہا ہے کہ ہم نے صور پر نئے حملے شروع کر دیئے ہیں۔
جمعرات کو اسرائیلی فوج نے صور کے اطراف میں حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے اور علاقے پر نئے حملے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس اعلان سے ایک روز قبل اسرائیل نے، سرحد سے تقریباً 40 کلومیٹر دور واقع صور سمیت، دریائے زہرانی کے جنوب میں واقع تمام علاقوں کو 'جنگی علاقے' قرار دے کر ایرانی حمایت یافتہ گروپ 'حزب اللہ 'کے خلاف حملوں سے پہلے شہریوں کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایت دی تھی۔
17 اپریل کی جنگ بندی کے بعد پہلی بار جاری کی گئی یہ وسیع پیمانے کی وارننگ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب بہت سے لبنانی عید الاضحیٰ منانے کی تیاری کر رہے تھے۔
اسرائیلی فوج نے جمعرات کی صبح صور کے بعض علاقوں کے رہائشیوں کو نئے انخلا کے احکامات دیئے اور کہا ہے کہ حزب اللہ کے خلاف 'سخت کارروائی' کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ بعد ازاں فوج نے ٹیلیگرام سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ حزب اللہ کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔
لبنان کی سرکاری خبر ایجنسی نےجاری کردہ خبر میں کہا ہے کہ اسرائیل نے جمعرات کی صبح صور شہر اور اس کے مشرقی علاقے میں دومختلف حملے کئے جن میں ایک عمارت کو نشانہ بنایا گیا اور شہر میں آگ بھڑک اٹھی۔
اسرائیل نے اس ہفتے لبنان میں اپنی کارروائیاں تیز کرنے کا عزم ظاہر کیا اور زمینی آپریشنوں کو وسیع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب حزب اللہ نے کہا ہے کہ اس کے جنگجو اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان میں مقرر کردہ 'پیلی لکیر' کے پار اسرائیلی افواج سے جھڑپوں میں مصروف ہیں۔
اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زامیر نے کہا ہے کہ "ہم حزب اللہ تنظیم کو مزید سخت ضربیں لگانے کے لیے اپنی کارروائیاں تیز کر رہے ہیں"۔








