غّزہ جنگ
3 منٹ پڑھنے
اقوام متحدہ: غزہ میں قحط دانستہ فیصلوں کا نتیجہ ہے
غزّہ میں قحط ایسے دانستہ فیصلوں کا نتیجہ ہے جو انسانیت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں: انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ: غزہ میں قحط دانستہ فیصلوں کا نتیجہ ہے
خان یونس، جنوبی غزہ میں 21 اگست 2025ء کو ایک خیراتی باورچی خانے سے کھانا حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہوئی فلسطینی لڑکی۔ / Reuters
29 اگست 2025

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے، فلسطین کے شہر غزہ کے قحط بحران میں جان لیوا اضافے کی وجہ سے، علاقے میں انسانی امداد کی رسائی میں فوری بہتری کی اپیل کا اعادہ کیا ہے۔

کل بروز جمعرات، نیویارک میں، سلامتی کونسل اجلاس سے قبل صحافیوں سے بات چیت میں انہوں نے  کہا ہے کہ بحیثیت ایک قابض قوّت کے اسرائیل پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ شہریوں کی حفاظت کرے، انسانی امداد کی رسائی کو بہتر بنائے اور بنیادی ضروریات کو پورا کرے۔

گوتریس نے کہا ہے کہ خوراک، پانی اور صحت کے نظاموں کی منظم  شکل میں تباہی "ایسے دانستہ فیصلوں کا نتیجہ ہے جو انسانیت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں"۔

واضح رہے کہ قحط کے اعلان نے اسرائیل پر ، کہ جو 7 اکتوبر 2023 سے غزہ میں  نسل کش جنگ جاری رکھے ہوئے  ہے، بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ کر  دیا ہے۔

اسرائیل نے حالیہ بیان میں  کہا ہے کہ نیتان یاہو حماس کی قبول کردہ فائر بندی تجویز کو لٹکا رہے ہیں اور  غزہ شہر پر مکمل قبضے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ بھوک کے نگران عالمی ادارے انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن 'IPC' نے غزہ میں قحط کا اعلان کیا ہے۔ لیکن اسرائیل نے اس اعلان کو مسترد کر دیا  اور بدھ کے روز باضابطہ طور پر IPC سے اپنا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا  ہے ۔

امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں داخل کی جانے والی خوراک اور دیگر اشیاء کی امداد  22 ماہ کی لڑائی، رواں سال کے اوائل میں امداد کی ناکہ بندی اور غزہ میں خوراک کی پیداوار کے خاتمے کے بعدنا کافی ہے۔

جمعرات کو، عالمی خوراک پروگرام کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سنڈی مک کین نے کہا  ہےکہ اس ہفتے غزہ کے دورے کے دوران علاقے میں خوراک کی شدید قلت "بہت واضح"  دِکھائی دے رہی تھی۔

خوراک کے بحرانوں پر دنیا کے سب سے بڑی  اتھارٹی نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ غزہ کے سب سے بڑے شہر میں قحط کا سامنا ہے، اور اگر جنگ بندی اور انسانی امداد پر پابندیاں ختم نہ کی گئیں تو یہ قحط پورے علاقے میں پھیل سکتا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ "میں نے ذاتی طور پر غزہ میں ماؤں اور بچوں سے ملاقات کی جو بھوک سے مر رہے تھے۔ یہ سب کچھ  حقیقت ہے اور اس وقت درپیش  ہے۔"

اسرائیل اب غزہ شہر پر حملے کی تیاری کر رہا ہے، جہاں لاکھوں فلسطینی پناہ لئے ہوئے ہیں۔

دریافت کیجیے
عالمی صمود بحری بیڑہ دوبارہ غزہ کے لئے عازمِ سفر
ترکیہ: اردوعان۔ماکرون ملاقات
پاکستان میں 21 گھنٹے کے طویل امریکہ۔ایران مذاکرات بغیر معاہدے کے ختم ہو گئے
امریکی فریق کے غیر معقول مطالبات نے مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہونےدی: ایران ذرائع ابلاغ
اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات شروع
ایران جنگ می امریکی طیارہ نما ڈراون طیاروں کو وسیع پیمانے کا نقصان
اسرائیل کے غزہ کے ایک مہاجر کیمپ پر حملے میں فلسطینی شہری شہید
امریکی خفیہ رپورٹ کے مطابق چین ایران کو دفاعی فضائی نظام فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے
امریکی نائب صدر جے ونس امریکہ-ایران مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچ گئے
اسرائیل کا دعویٰ: ہم  نے ایران جنگ کے دوران 10,800 ہوائی حملے کیے ہیں
میلانیا ٹرمپ: میرے  جنسی جرائم کے مرتکب جیفری ایپسٹین سے کبھی کوئی تعلقات نہیں رہے
مشرق وسطی میں ایرانی ڈرونز گرانے میں مدد کی ہے:زیلنسکی
اسرائیل انسانیت کے لیے ایک "کینسر ہے": خواجہ آصف
ایرانی سینیئر سفارتکار  امریکہ۔اسرائیل دہشت گرد حملے میں ہلاک
بیلجیئم: جنگ بندی میں لبنان کو بھی شامل کیا جائے