دنیا
4 منٹ پڑھنے
روس:استنبول میں مذکرات کے ممکنہ دوبارہ آغاز کو مثبت دیکھتا ہے
روسی  وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ ان کا ملک یوکرین کے ساتھ مذاکرات کے استنبول میں دوبارہ شروع ہونے کے امکان کو "مثبت" نظر سے دیکھتا ہے
روس:استنبول میں مذکرات کے ممکنہ دوبارہ آغاز کو مثبت دیکھتا ہے
سرگی لاوروف / AA

روسی  وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ ان کا ملک یوکرین کے ساتھ مذاکرات کے استنبول میں دوبارہ شروع ہونے کے امکان کو "مثبت" نظر سے دیکھتا ہے۔

ہفتہ کے روز 5ویں انطالیہ سفارتکاری فورم میں انادولو ایجنسی کے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ کیا امن مذاکرات استنبول میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں اور انقرہ کی ثالثی کا کردار کتنا مؤثر ہے، لاوروف نے کہا کہ ہم مذاکرات کے استنبول میں دوبارہ شروع ہونے کے امکان کو مثبت طور پر دیکھتے ہیں۔"

لاوروف نے کہا کہ مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنا اس وقت ان کی "اولین ترجیح" نہیں ہے، اور روسی فریق نے کبھی بھی کسی پر مذاکرات مسلط نہیں کیے۔ لاوروف نے مزید کہا، "ہم نے ہمیشہ یہ فرض کیا ہے کہ اگر کوئی شراکت دار تیار ہو تو ہم بھی تیار ہوں گے۔ اور یہ صورتحال ان یوکرینی ساتھیوں کے بہت خراب ریکارڈ کے باوجود بھی برقرار ہے جن کے ساتھ ہم نے مذاکرات کیے۔"

لاوروف نے اپنی گفتگو کے دوران اپریل 2022 میں استنبول میں یوکرینی فریق کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں اور 2025 کے وسط میں اسی شہر میں ہونے والے امن مذاکرات کے تین ادوار کو بھی یاد دلایا۔ انہوں نے مزید کہا، "ہم مذاکرات سے بھاگ نہیں رہے۔ جب کوئی تیار ہو تو اپنی پیشکش کرے۔ پھر ہم دیکھیں گے کہ وقت مناسب ہے یا نہیں، مقام موزوں ہے یا نہیں اور ایجنڈا کیا ہے۔"

روس اور یوکرین نے گزشتہ سال استنبول میں — 16 مئی، 2 جون اور 23 جولائی کو  امن مذاکرات کے تین ادوار کیے تھے؛ ان مذاکرات کا نتیجہ بڑے پیمانے پر قیدیوں کے تبادلے اور ممکنہ امن معاہدے کے لیے دونوں فریقوں کے مؤقف کا خلاصہ پیش کرنے والی مسودہ یادداشتوں کی صورت میں نکلا تھا۔

امریکہ کی ثالثی میں، ماسکو اور کیف نے اس سال کے آغاز میں 23-24 جنوری، 4-5 فروری اور 17-18 فروری کو بھی تین ادوار میں امن مذاکرات کیے تھے۔ ان میں سے پہلے دو ابو ظہبی میں اور تیسرا جنیوا میں ہوا تھا۔ اس کے بعد سے اب تک، ماسکو اور کیف دونوں نے روس-یوکرین امن مذاکرات میں تعطل کو امریکہ کی ایران پر توجہ مرکوز کرنے سے جوڑا ہے، جس کے باعث مذاکرات میں وقفہ آ گیا ہے۔

روسی وزیر خارجہ نے دیگر امور پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ماسکو اس بات پر غور کرے کہ امریکہ کے ساتھ مستقبل کے اقتصادی تعلقات کیسے ہوں گے۔ لاوروف نے کہا، "خاص طور پر جب موجودہ پیش رفت جاری ہےسابق امریکی صدر جوبائیڈن کے دور سے پابندیاں نہیں ہٹائی گئیں، حتیٰ کہ سفارتی املاک بھی واپس نہیں کی گئیں۔"

لاوروف نے نوٹ کیا کہ لُوک آئل اور روزنیفٹ جیسی روسی کمپنیاں پہلے ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی طرف سے نئی پابندیوں کا سامنا کر رہی ہیں، اور واشنگٹن کے عالمی توانائی منڈیوں پر غلبہ حاصل کرنے کو ایک "واضح طور پر اعلان کردہ" ہدف قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے دوران بھی روس اور امریکہ کے درمیان "متعدد اختلافات" برقرار ہیں۔

آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی جاری رہنے کے دوران، لاوروف نے مشرق وسطیٰ کے دیگر مسائل، بشمول فلسطین کے مسئلے کو نظرانداز نہ کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مغربی کنارے کو یاد نہیں کرتا، کوئی بھی اس حقیقت کا ذکر نہیں کرتا کہ اسرائیلی حکومت نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ کبھی بھی فلسطینی ریاست نہیں بنے گی۔

 انہوں نے یہ بھی کہا کہ شام میں "انتہائی مشکل عمل" جاری ہے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے دو ریاستی حل کے فیصلے کو "سادہ طور پر نظرانداز کرنا اور بڑی حد تک تباہ کرنا شرمناک ہوگا۔"

 لاوروف نے مزید کہا، "خلیج میں جنگ، میری رائے میں کسی بدنیتی کا نتیجہ نہیں تھی۔ مجھے نہیں لگتا کہ تہذیب کو تباہ کرنے کے حقیقی منصوبے تھے۔ میرے خیال میں یہ ایک اظہار کا طریقہ ہے۔ تاہم، خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان سے گزرنے والے تیل کو کنٹرول کرنے کے منصوبے موجود تھے۔"

لاوروف نے اپنی گفتگو کے دوران ماسکو کو "کاغذی شیر" سے تشبیہ دینے میں احتیاط برتنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ روس اور چین کے درمیان تعلقات "روایتی فوجی اتحادوں سے زیادہ بلند، گہرے اور زیادہ قابلِ اعتماد معیار" کے ہیں

دریافت کیجیے
امریکا نے جنوبی کوریا کے ساتھ سیٹلائٹ اینٹیلجنس معلومات کا تبادلہ محدود کر دیا
ہمارے جہاز پر قبضہ بحری قزاقی ہے،مذمت کرتے ہیں :ایران
ایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
اسرائیل کا تازہ حملہ،3 فلسطینی ہلاک
جاپان: 7،4 کی شدت سے زلزلہ، سونامی کی وارننگ
پاکستان کا اشارہ: ایران مذاکرات میں شرکت کرے گا
ایران  نے اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کے جرم میں دو افراد کو تختہ وار پر لٹکا دیا
شمالی کوریا نے کلسٹر بم اور بیلسٹک میزائلوں کا آزمائشی تجربہ کر ڈالا
اسرائیل: جنوبی لبنان کے باشندے سرحدی علاقوں سے دور رہیں
روس: یوکرین نے تواپسے بندرگاہ کو نشانہ بنایا ہے
امریکی فوجی حملے میں کیریبین میں تین افراد ہلاک، 'منشیات اسمگلنگ' کے خلاف مہم میں تیزی
عیسی مسیح کے علامتی مجمسے کی بے حرمتی کی ہے:اسرائیلی فوج کا اعتراف
خلیج عمان میں امریکی ایرانی کشیدگی میں اضافہ
امریکہ، جاپان اور فلپائن نے بڑے پیمانے کی فوجی مشقیں شروع کر دیں
ایران: امریکہ کی "بحری قزاقی" کا بھرپور جواب دیا جائے گا