اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے جنوبی لبنان کے علی الطاہر علاقے کے قریب آنے والے کسی بھی شخص کو 'ختم ' کر دینے کی دھمکی دی ہے اور کہا کہ فوج اس علاقے کا کنٹرول سنبھالنے کی تیاری کر رہی ہے۔
کاٹز نے اتوار کو دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فورسز نے وہاں حزبِ اللہ کے جنگجوؤں کو ہلاک کیا اور ان کے سرنگی راستے تباہ کیے، اب ہم کسی گروہ یا کسی اور فریق کو دوبارہ مضبوط بننے سے روکنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ اُس علاقے کا حصہ ہے جسے اسرائیل 'پیلی لائن' کہتا ہے اور لبنان کے اندر ایک خودساختہ 'سیکیورٹی زون' کے طور پر قبول کرتا ہے، یہ مقام تقریباً 700 مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی افواج اس وقت تک واپس نہیں جائیں گی جب تک لبنان بھر میں حزبِ اللہ کو غیر مسلح نہیں کیا جاتا۔
لبنانی حکام کی طرف سے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔
اسرائیل اب بھی جنوبی لبنان کے حصوں پر قابض ہے
جمعرات کو اسرائیلی فوج نے علی الطاہر ریج پر ایک طاقتور دھماکہ کیا، اور دعویٰ کیا کہ اس نے حزبِ اللہ کے سرنگی نیٹ ورک اور دو کلومیٹر سے طویل ایک دیگر انفراسٹرکچر کو تباہ کیا ہے۔
بعد ازاں بنیامین نیتن یاہو نے اس جگہ کو 'ایران کے باہر سب سے بڑا ایرانی مرکز' قرار دیا۔
یہ ریج دریائے لیطانی کے شمال میں، کفر تبنِت اور نباطیہ الفوقا کے درمیان واقع ہے اور جنوبی لبنان کے وسیع حصوں کا نظارہ کرتا ہے، جو اسے عسکری نقطۂ نظر سے اہمیت عطا کرتا ہے۔
اس مہینے کے اوائل میں، نیتن یاہو نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیلی فورسز نے علاقے کی ' صفائی' مکمل کر لی ہے۔
سرکاری لبنانی اعداد و شمار کے مطابق، 2 مارچ سے اسرائیلی حملوں میں لبنان میں تقریباً 4,400 افراد ہلاک اور 12,500 دوسرے زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیل جنوبی لبنان کے علاقوں پر قابض ہے، بشمول وہ علاقے جو دہائیوں سے قبضے میں رہے اور وہ مقام جو حالیہ جنگوں اور تنازعات کے دوران قبضے میں لیے گئے۔





















