سیاست
3 منٹ پڑھنے
ٹرمپ: ایران سے مذاکرات 'تعمیری' ہیں، لیکن محاصرہ حتمی معاہدے تک برقرار رہے گا
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین کو وقت لینا چاہیے اور اسے درست طریقے سے وضع کرنا چاہیے، اس میں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں۔
ٹرمپ: ایران سے مذاکرات 'تعمیری' ہیں، لیکن محاصرہ حتمی معاہدے تک برقرار رہے گا
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے تعلقات "بہت زیادہ پیشہ ورانہ اور نتیجہ خیز" ہو رہے ہیں۔ (تصویر: فائل) / Reuters

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات "منظم اور تعمیری" ہیں تا ہم ، محاصرے کا سلسلہ ایک حتمی معاہدے تک برقرار رہے گا۔

ٹرمپ نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ "محاصرے کو مکمل طور پر نافذ رکھا جائے گا جب تک کہ کوئی معاہدہ حاصل، تصدیق اور دستخط نہ کیا جائے۔ دونوں فریقوں کو وقت لینا چاہیے اور درست فیصلہ کرنا چاہیے۔ غلطی کی گنجائش نہیں!"

انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے تعلقات 'کافی زیادہ پیشہ ورانہ اور نتیجہ خیز' بنتے جا رہے ہیں، اور خبردار کیا کہ تہران کو جوہری ہتھیار تیار یا حاصل نہیں کرنے چاہئیں۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کا 'حمایت اور تعاون' پر شکریہ ادا کرتے ہیں، اور کہا کہ یہ عمل  ابراہیمی معاہدوں میں وسیع شرکت کے ذریعے مضبوط ہوگی، اور اشارہ دیا کہ ایران بھی ایک دن اس فریم ورک کا حصہ بن سکتا ہے۔

انہوں نے 2015 کے ایران جوہری معاہدے پر تنقید کی، اسے 'اب تک کے سب سے بد ترین معاہدوں میں سے ایک' قرار دیا، اور دوبارہ سابق صدر باراک اوباما کی انتظامیہ کو الزام دیا کہ یہ ایک معیوب معاہدہ تھا جس نے جوہری ہتھیار تیار کرنے کی راہ کھولی۔

اچھا اور مناسب معاہدہ

ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ موجودہ مذاکرات 'بہت بہتر' ہیں اور ایک موثر حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، اور زور دیا کہ جاری عمل تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے گا۔

اتوار کو ٹروتھ سوشل پر مزید ایک  پوسٹ میں، ٹرمپ نے لکھا کہ ایران کے ساتھ کوئی ممکنہ معاہدہ 'اچھا اور مناسب' ہوگا، جو سابق صدر باراک اوباما کے تحت 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے کی طرح نہیں ہے، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ  ہے کہ اس نے تہران کو 'بے پناہ آمدنی ' اور 'جوہری ہتھیار تک واضح اور کھلا راستہ' فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ مذاکرات 'بالکل برعکس' ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ  معاہدہ تا حال مکمل طور پر طے نہیں پایا۔

ٹرمپ نے مذاکرات کے ناقدین کو بھی مسترد کیا، کہا کہ وہ اس عمل کے بارے میں 'کچھ نہیں جانتے'، اور مزید کہا کہ سابقہ انتظامیہ کے برعکس ، وہ 'خراب معاہدے' نہیں کرتے۔

دریں اثنا، ایرانی میڈیا نے اتوار کو رپورٹ کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ سمجھوتے کی کئی شقوں پر اختلافات حل طلب ہیں۔

تسنیم نیوز ایجنسی (نیم سرکاری) نے کہا، 'آج ہونے والی بعض بات چیت کے باوجود، سمجھوتے کی بعض شقوں، بشمول ایران کے منجمد اثاثے جاری کرنے کے مسئلے پر امریکی رکاوٹ تا حال جاری ہے۔'

 

دریافت کیجیے
شمال مغربی پاکستان میں پولیس چوکی پر دہشت گرد حملہ، 15 افراد لقمہ اجل
اقوام متحدہ کے سربراہ کا 17 سال بعد دورہ دمشق
ٹرمپ: اب ایران مذاکرات کے لیے زیادہ سنجیدگی سے کام لے رہا ہے
شمالی یوکرین میں سومی ڈاک خانے پر روسی ڈراون حملے میں 2 افراد ہلاک
فرانس اور ہسپانیہ میں بے قابو ہونے والی جنگلات کی آگ کے باعث دو لاکھ افراد فرار
ترکیہ: یوروفائٹر ٹائیفون کی تربیت کے لئے پہلا پائلٹ گروپ برطانیہ بھیجا جا رہا ہے
ایران، جنگ کی بھاری قیمت چُکا رہا ہے: روبیو
امریکی اسٹاک مرکیٹوں میں تناو، تیل 100 ڈالر سے اوپر چلا گیا
اسرائیلی فوج نے تین فلسطینیوں کو قتل کر کے لاشیں قبضے میں لے لیں
روسی گودام پر یوکرینی ڈرون حملے
جاپان امید کرتا ہے کہ فلسطین کے لیے حمایت میں اضافہ ہوگا
ترکیہ COP31 پروگرام میں رضاکار بننے کے لیے درخواستیں جاری
چین نے آبنائے تائیوان میں دو روزہ فوجی مشقیں شروع کر دیں
ایران: ہمارا دفاعی نظریہ بالکل واضح ہے، "آنکھ کے بدلے آنکھ"
اسرائیل نے تازہ خلاف ورزیوں میں چار فلسطینیوں کو قتل کر دیا ہے