یورپی یونین کی نمائندہ اعلیٰ برائے خارجہ امور' کاجا کالاس' نے رکن ممالک سے، بحیرہ احمر میں یورپی یونین کے میری ٹائم سکیورٹی مشن کو مضبوط بنانے کے لیے، اضافی جنگی بحری اور ہوائی جہاز وں کی تعیناتی کا مطالبہ کیا ہے۔
کاجا کلاس نے منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دائرہ کار میں منعقدہ یورپی یونین وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کے بعد نیویارک سے جاری کردہ بیان میں خبردار کیا ہے کہ موجودہ بحری طاقت بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے ناکافی ہے لہٰذا رکن ممالک کو بحیرہ احمر میں یورپی یونین کے میری ٹائم سکیورٹی مشن میں اضافی جنگی بحری اور ہوائی جہازوں کو بھیجنا چاہیے۔
انہوں نے کہا ہےکہ آبنائے باب المندب کے ارد گرد بحری خطرات میں اضافے کے باعث آپریشن ایسپائیڈس کو وسعت دی جانی چاہیے۔ اگر بحیرہ اسود، آبنائے ہرمز اور باب المندب میں سیر و سفر معطل ہوتا ہے تو ان اہم سمندری گزرگاہوں کے اثرات ان کے اپنے محلِ وقوع سے سے کہیں زیادہ دُور تک پھیل سکتے ہیں۔
کالاس نے کہا ہے کہ مشن کو بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔ یمن میں حوثیوں کے حملوں سے تجارتی بحری جہازوں کو بچانے میں مدد کے لیے 2024 میں آپریشن ایسپائیڈس شروع کیا گیا تھا۔ یہ دفاعی مشن بحیرہ احمر اور ارد گرد کے پانیوں میں کام کرتا اور تجارتی جہازوں کی حفاظت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ موجودہ سکیورٹی ماحول کا مناسب جواب دینے کے لیے آپریشن کو 10 سے زیادہ جنگی جہازوں کی ضرورت ہوگی۔
رائٹرز کے مطابق مشن کے پاس اس وقت چھ جنگی جہاز ہیں جن میں اٹلی اور یونان اہم تعاون کرنے والے ممالک میں شامل ہیں۔ کمک کے مطالبات کے باوجود، یورپی یونین کے رکن ممالک نے ابھی تک مشن کی ایک جامع توسیع کی یقین دہانی نہیں کروائی۔
کالاس نے کہا ہے کہ ایسپائیڈس کے لیے ابتدائی منصوبہ بندی کے مطابق کم از کم 10 جہاز مطلوب تھے لیکن اس کے بعد سے سلامتی کی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے لہٰذا نیا مطالبہ،براستہ نہر سویز بحر ہند کو بحیرہ روم سے ملانے والی سمندری راہداری میں درپیش خطرے کے بارے میں، یورپ میں بڑھتے ہوئے خدشات کو ظاہر کرتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس راہداری کی رکاوٹیں بحری نقل و حمل، رسدی زنجیر اور توانائی کی منڈیوں کو متاثر کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔

















