ترکیہ
3 منٹ پڑھنے
ترک وزیر خارجہ کی امریکہ۔ایران معاہدے کے ایجنڈے پر مصر، پاکستان اور سعودی عرب کے ہم منصبوں سے ملاقات
فیدان نے جمعہ کو پانچویں انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے دائرہ کار میں یہ اجلاس منعقد کیا، تاہم مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
ترک وزیر خارجہ کی امریکہ۔ایران معاہدے کے ایجنڈے پر مصر، پاکستان اور سعودی عرب کے ہم منصبوں سے ملاقات
مصر، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے انطالیہ میں ملاقات کی۔ / Reuters

سفارتی ذرائع کے مطابق وزیر خارجہ  حاقاان فیدن نے مصر، پاکستان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے تیسرے  اجلاس کی میزبانی کی۔

ذرائع نے بتایا کہ فیدان نے جمعہ کو پانچویں انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے دائرہ کار میں یہ اجلاس منعقد کیا، تاہم مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

عالمی رہنما اور سینئر حکومتی عہدیدار جمعہ سے اتوار تک ترکیہ میں انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے لیےیکجا ہوئے۔ یہ جنوبی بحیرہ روم کے شہر میں ہونے والا ایک بڑا بین الاقوامی اجلاس ہے جو اس سال عالمی غیر یقینی صورتحال کے انتظام پر مرکوز ہے۔

فورم ترک صدر رجب طیب ایردوان کی سرپرستی اور وزارتِ خارجہ کی میزبانی میں منعقد ہو رہا ہے اور اس کا مرکزی خیال "مستقبل کا تعین، غیر یقینی صورتحال سے نمٹنا" ہے۔

انادولو ایجنسی فورم کی عالمی مواصلاتی شراکت دار ہے۔

اپنے ہم منصبوں کے ساتھ اجلاس کی میزبانی سے قبل، فیدان نے فورم کے شرکاء سے خطاب میں خطے میں "امن و امان کے قیاما" کی اہمیت پر زور دیا اور امید ظاہر کی کہ حاصل شدہ جنگ بندی کو پائیدار امن میں تبدیل کیا جائے گا۔

فیدن نے کہا: "ہماری مخلصانہ امید ہے کہ جو جنگ بندی قائم ہوئی ہے وہ مکمل طور پر نافذ کی جائے گی اور یہ عمل ایک دیرپا امن میں تبدیل ہو جائے گا۔"

فیدان نے خبردار کرتے ہوئے کہا  کہ دنیا بھر کو ایک دوسرے کو متحرک کرنے والے کثیرالجہتی خطرات کا سامنا ہے، غیر یقینی کی صورتحال اور بحران اب ہمارے دورکے نمایاں موضوعات بن چکے ہیں۔"

گزشتہ سال کا موضوع غزہ میں جاری نسل کشی اور اس کے عالمی نتائج پر مرکوز تھا، کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فیدان نے کہا کہ امسال کا موضوع ایران میں جنگ اور اس کے دنیا پر اثرات ہے۔

ٹرمپ: امریکہ-ایران معاہدے کے قریب

ایک پاکستانی عہدیدار نے اے ایف پی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ مذاکرات جمعہ کی شب  منعقد ہوئے ہیں۔

پاکستان نے خود کو ایک اہم علاقائی ثالث کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے، اس نے پچھلے ہفتے ایران اور امریکہ کے درمیان نایاب مذاکرات کی میزبانی کی تھی جو کسی نتیجے تک نہ پہنچ سکے تھے۔

وائٹ ہاؤس نے کہا کہ اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مزید مذاکرات "بہت ممکنہ طور پر" ہوں گے، جہاں نائب صدر جے ڈی ونس نے گزشتہ مذاکراتی دور کے دوران امریکی وفد کی قیادت کی تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اے ایف پی کو بتایا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے کے لیے اب "کوئی رکاوٹ باقی نہیں" ہے، اور کہا کہ کوئی معاہدہ "عنقریب" ہے۔

ٹرمپ نے ایک مختصر ٹیلیفون انٹرویو میں کہا کہ "ہم معاہدے کے بہت قریب ہیں" ۔ جب پوچھا گیا کہ کون سے غیرفعال مسائل باقی ہیں، تو ٹرمپ نے کہا: "کوئی رکاوٹ نہیں بچی۔"

 

دریافت کیجیے
ترکیہ: صدارتی سرپرستی میں منعقدہ 7 ویں بین الاقوامی یاٹ ریس اختتام پذیر ہو گئی
استنبول میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کمیٹی کا پہلا اجلاس
ترکیہ: اسرائیلی وزارتِ خارجہ کی ہرزہ سرائی اسرائیلی حکومت کی فرسودہ ذہنیت کی عکاس ہے
ترکیہ نے یوکرین کے سفیر کو طلب کر لیا
وزارت خارجہ کے ترجمان کیچیلی کا یونان کے حوالے سے بیان
ترکیہ، شام اور عراق کی ترقی میں ایک کلیدی ملک
صدر ایردوان کی معرکہ عظیم کی سالانہ یاد کے موقع پر خصوصی پوسٹ
ترکیہ: اناطولیہ میں طاعون کے قدیم ترین شواہد
ترکیہ: جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کی 25 ویں سالگرہ
صدر ایردوان : "ہم نے اپنے دوستوں اور دشمنوں کو خطے میں عدم استحکامی برداشت نہ کرنے کا پیغام دیا ہے
امریکی سفیر: شام میں اسرائیلی حملے کے پیچھے غلط معلومات کا ہاتھ تھا
ترکیہ کی صدر ایردوان کے خلاف تبصروں پر اسرائیل کی مذمت
ترکیہ کی زیرِ آب گاڑی نمائش کے لئے پیش کر دی گئی
کانگریس F-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
مصر بھی 'مکہ معاہدے' میں شامل ہو سکتا ہے: اردوعان
ترکیہ کا "دہشت گردی سے پاک ترکیہ" اقدام مزید مضبوط اتحاد کی راہ ہموار کرے گا: قورطلمش
میزائل پیداوار کے لیے ترکیہ کے دروازے پر دستک ہو سکتی ہے
ترکیہ۔پاکستان۔سعودی عرب دفاعی معاہدے کا مقصد مشترکہ صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے: انقرہ
ترکیہ: ،علی خان کوریش نیٹ ورک کے خلاف آپریشن کا آغاز
گولان شام کا اٹوٹ حصہ ہے:ترکیہ