ترکیہ
3 منٹ پڑھنے
ترکیہ اور اسپین کا مطالبہ: مشترکہ مؤقف اختیار کیا جائے
غزہ جانے والے امدادی بحری بیڑے کے خلاف اسرائیلی غیر قانونی مداخلت کے مقابل "بین الاقوامی برادری کو مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے: کیچے لی
ترکیہ اور اسپین کا مطالبہ: مشترکہ مؤقف اختیار کیا جائے
سی سی ٹی وی ویڈیوز سے لیا گیا ایک اسکرین گریب گلوبل سمود فلوٹیلا کے عملے کو دکھا رہا ہے، جب بحیرہ روم میں اسرائیلی جنگی جہازوں اور ڈرونز نے فلوٹیلا کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ / AA

ترکیہ اور اسپین نے صمود فلوٹیلا کے خلاف اسرائیلی مداخلت کو غیر قانونی قرار دیا اور بین الاقوامی برادری سے  اس غیر قانونی اقدام کے مقابل مشترکہ مؤقف اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔

ترکیہ وزارتِ خارجہ کے ترجمان اونجو کیچے لی نے جمعرات کے روز وزیر خارجہ خاقان فیدان اور وزیر خارجہ خوسے مانوئل الباریس بوینو کے درمیان ٹیلی فونک ملاقات کے بعد بیان جاری کیا ہے۔

کیچے لی نے کہا ہے کہ دونوں وزراء نے اس بات پر زور دیا ہےکہ غزہ جانے والے امدادی بحری بیڑے کے خلاف اسرائیل کی غیر قانونی مداخلت کے مقابل "بین الاقوامی برادری کو مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے"۔

کیچےلی کے مطابق گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ " جزیرہ کریٹ کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں سفر کرنے والے عالمی صمود امدادی بیڑے پر اسرائیلی فوج کی طرف سے  غیر قانونی مداخلت نے مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے متعدد شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال دیا اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔"

کیچےلی نے مزید کہا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے "اس غیر قانونی مداخلت کے خلاف بین الاقوامی برادری کی جانب سے مشترکہ مؤقف اپنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔"

اسرائیلی بحریہ نے بدھ کو رات  دیر گئے غزہ کی جانب بڑھتے امدادی جہازوں کو روک لیا  تھا ۔ یہ جہاز طویل عرصے سے جاری ناکہ بندی کو توڑنے کے لئے عازمِ سفر تھے۔

گروپ کے مطابق اسرائیلی فوج نے قافلے کو جزیرہ کریٹ کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں گھیر لیا،  جہازوں کا مواصلاتی رابطہ منقطع کر دیا اور چند جہازوں کو  تحویل میں لے لیا ہے۔

غزہ کے لیے انسانی امداد لے جانے والا یہ بیڑا اسرائیلی ناکہ بندی کو ختم کرنے اور سمندر کے راستے ایک انسانی راہداری کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

یہ اقدام، اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی جاری کردہ اس خبر سے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا  ہے جس مین کہا گیا تھا کہ اسرائیل، مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً 100 کارکنوں  اور  تقریباً 100 کشتیوں پر مشتمل بیڑے کو روکنے کی تیاری کر رہا ہے۔

غزہ پر اسرائیلی محاصرہ

اسرائیل 2007 سے غزہ کا محاصرہ کئے  ہوئے ہے اور حالیہ نسل کُشی  جنگ کے دوران گھروں کی تباہی کے باعث تقریباً 24 لاکھ فلسطینیوں میں سے 15 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں ہونے والی نسل کُشی جنگ میں، زیادہ تر عورتوں اور بچوں پر مشتمل، 72,500 سے زائد فلسطینیوں کو قتل  اور  172,000 سے زیادہ کو زخمی کر چکا ہے ۔

اسرائیلی حملوں نے علاقے کے بڑے حصے کو کھنڈر بنا دیا  اور تقریباً پوری آبادی کو بے دخل کر دیا ہے۔

دریافت کیجیے
صدر ایردوان : "ہم نے اپنے دوستوں اور دشمنوں کو خطے میں عدم استحکامی برداشت نہ کرنے کا پیغام دیا ہے
"دست خدا" گول میں زیر استعمال گیند 33٫5 لاکھ ڈالر میں فروخت
جنوبی تھائی لینڈ میں چار صوبوں میں 70 سے زیادہ مقامات پر آتشزدگی اور بم حملے
اسرائیلی فوج نے تین سالہ جنگ میں 30 سال کے استعمال کے لائق گولیاں استعمال کی ہیں
امریکہ میں، 75 ممالک کے شہریوں پر عائد کردہ امیگرینٹ ویزے پر پابندی کالعدم قرار
امریکہ، ایران کے خلاف ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ میں داخل ہو گیا ہے: بیسنٹ
اسرائیلی فوج کی جنوبی شام میں  ایک نئی فوجی کارروائی
غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں نے قصرہ میں تین فلسطینی گھروں کو گھیرے میں لے لیا
کینیڈا ہماری ریاست بنے بغیر تمام فوائد چاہتاہے:ٹرمپ
ہمسایہ ممالک امریکہ کا آلہ کار نہ بنیں ورنہ انجام ٹھیک نہ ہوگا:ایران
"اسرائیل پر پابندی ختم "کولومبیا کوئلہ برآمد کرےگا
جب تک اقتدار پر ہوں فلسطینی ریاست کا قیام ممکن نہیں ہوگا:نیتن یاہو
ایران ' نہ جنگ ، نہ امن' کی صورتحال کا خاتمہ چاہتا ہے:پزشکیان
اسرائیلی فوجی حکام نیتن یاہو انتخابات میں تاخیر کرنے کے لیے تشدد میں اضافے کی کوشش کر سکتے ہیں: رپورٹ
قالیباف: ہمیں ہمسایہ ممالک سے سیکیورٹی اور اقتصادی تعاون کے پیغامات موصول ہوئے ہیں