ترکیہ عالمی سطح پر ونڈ انرجی میں پانچویں اور شمسی توانائی میں دسویں نمبر پر
گذشتہ سال لائسنس یافتہ تقریباً 19 گیگاواٹ استعداد کے حامل ونڈ انرجی  منصوبوں کی تعمیر کے نتیجے میں ترکیہ میں قابلِ تجدید توانائی کی مجموعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
ترکیہ عالمی سطح پر ونڈ انرجی میں پانچویں اور شمسی توانائی میں دسویں نمبر پر
موش کی ہوا سے تقریباً 32 ہزار گھرانوں کی بجلی کی ضرورت پوری کی جا رہی ہے۔ (آرکائیو)

بین الاقوامی توانائی تجزیہ اور تحقیقاتی ادارے BloombergNEF نے ترکیہ کی توانائی تبدیلی کا جائزہ لینے والی "Turkey Transition Factbook 2026" رپورٹ میں قابلِ تجدید توانائی، توانائی ذخیرہ نظام، بیٹریوں اور برقی گاڑیوں کے ایکو سسٹم، صاف صنعت، کاربن اور توانائی تبدیلی کی مالی اعانت کے موجودہ حالات اور 2035 و 2050 کے منصوبہ بند تخمینوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ترکیہ گزشتہ سال  ونڈ انرجی  کی تنصیبات میں دنیا میں پانچویں اور شمسی توانائی کی تنصیبات میں دسویں نمبر پر تھا، اور دونوں ٹیکنالوجیوں میں ملک دنیا کی نمایاں منڈیوں میں شمار ہوتا ہے۔

اس تناظر میں توقع کی جاتی ہے کہ ترکیہ میں 2026 تا 2035 کے عرصے میں مجموعی طور پر 25 گیگاواٹ  کی استعداد کے حامل ونڈ انرجی ٹربائنز لگائے جائیں گے۔

 گذشتہ سال لائسنس یافتہ تقریباً 19 گیگاواٹ استعداد کے حامل ونڈ انرجی  منصوبوں کی تعمیر کے نتیجے میں ترکیہ میں قابلِ تجدید توانائی کی مجموعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

ذخیرہ ٹیکنالوجیز کی ترقی سے  ونڈ توانائی  کا برقی نظام میں کردار مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے، تاہم اعلیٰ بیس لوڈ طلب کو پورا کرنے کے لیے  اضافی بیٹری سرمایہ کاری درکار ہوگی۔

مقامی شمسی توانائی کی استعداد  2030 تک دوگنا ہونے کی توقع

ترکیہ نے گزشتہ سال شمسی توانائی میں 6.4 گیگاواٹ نئی تنصیب کے ساتھ دنیا میں دسویں کردار حاصل کیا۔ اندازہ ہے کہ ترکی کی شمسی توانائی کی نصب شدہ صلاحیت 2030 تک تقریباً دوگنی ہو جائے گی۔

گزشتہ سال جو نئی شمسی صلاحیت فعال ہوئی اُس کا 84 فیصد حصہ زیادہ تر ذاتی استعمال کے مقاصد کے لیے لگائے گئے  بلالائسنس شمسی توانائی پلانٹس کا تھا۔

بلالائسنس شمسی منصوبے 2026 میں بھی نئی تنصیبات کا بنیادی ذریعہ رہیں گے، اور 2028 تا 2035 کے درمیان YEKA نیلامیوں اور بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے اثر سے لائسنس یافتہ شمسی پلانٹس کی تنصیبات میں حصہ داری میں اضافہ متوقع ہے۔

علاوہ ازیں، YEKA نیلامیوں کے ساتھ ساتھ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ ترقی یافتہ تعاون شمسی توانائی کی سرمایہ کاریوں کو سہارا دینے والے اہم عوامل میں شامل ہیں۔

ترکیہ میں بیٹری ذخیرہ  کے معاملے میں مستقبل قریب میں تیز رفتار نمو پانے کی توقع ہے۔ بیٹری لاگت میں کمی،  نصب شدہ قابلِ تجدید توانائی میں اضافہ اور مقامی پیداوار استعداد  کی بہتری کے ساتھ توانائی ذخیرہ میں سرمایہ کاری  میں تیزی آنے  کی پیشگوئی ہے۔

توقع ہے کہ ترکی 2035 تک 8 گیگاواٹ بیٹری اسٹوریج صلاحیت تک پہنچ کر توانائی  میں تبدیلی کے عمل  کو تیز کرے گا اور نصب ہونے والی ذخیرہ صلاحیت کا تقریباً 90 فیصد حصہ گرڈ-اسکیل منصوبوں پر مبنی ہوگا۔

 

دریافت کیجیے
آئی آر جی سی: ہم نے اردن میں امریکی طیاروں کو نشانہ بنایا ہے
ہم، ایران۔امریکہ مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے خواہش مند ہیں: فیدان
بحیرۂ کیسپین پائپ لائن کنسورشیم کے ٹرمینل پر دو آئل ٹینکروں پر حملے
جاپان: اب ہم ایٹمی موضوع پر "بات کرنے سے گریز نہیں کر سکتے"
اقوام متحدہ: غزہ کے بچوں میں تیزی سے خسرہ پھیل رہا ہے
یوکرین: روسی حملوں میں ایک شخص ہلاک اور 15 زخمی
امریکہ نے جزیرہ قشم کو بھی نشانہ بنایا
انگلینڈ نے فیفا ورلڈ کپ میں تیسری پوزیشن اپنے نام کر لی
آبنائے ہرمز پر کسی بھی ریاست کا دعوی خودمختاری "بین الاقوامی قانون کے خلاف" ہے
بھارت کا نجی خلائی دور وکرم-1 کے آغاز کے ساتھ شروع
ایران نے کویت کے بجلی اور پانی کی پلانٹس پر حملے کیے جبکہ بحرین نے ڈرون حملوں کو ناکام بنا دیا
عراقی وزیر اعظم نے دورہ امریکہ کے دوران 48 تجارتی معاہدے کر لیے
مشرقی ترکیہ میں ریکڑ اسکیل پر 5 کی شدت کا زلزلہ
یوکرین کے ڈراون حملے میں سات افراد ہلاک، 24 زخمی
ایران نے 7 راتوں سے جاری حملوں کے بعد امریکی فوجی اڈوں پر جوابی حملے کیے