ترکیہ
3 منٹ پڑھنے
"فتح چناق قلعہ"ترک قوم کی شجاعت بھری داستان
ایردوان نے 18 مارچ یومِ شہداء اور چناق قلعہ بحری فتح کی 111ویں سالگرہ کے موقع پر ایک پیغام میں کہا  کہ چناق قلعہ ایک منفرد  داستان ہے جس میں صرف ایک لڑائی ہی نہیں بلکہ ایمان، قربانی، وطن سے محبت اور قوم ہونے کا شعور پوری دنیا کے سامنے ظاہر ہوا
"فتح چناق قلعہ"ترک قوم کی شجاعت بھری داستان
ترک صدر رجب طیب ایردوان / AA

ترک صدر رجب طیب ایردواان نے  پہلی جنگِ عظیم کے دوران سلطنتِ عثمانیہ کی گالی پولی مہم میں چناق قلعہ کی فتح کی یاد منائی۔

ایردوان نے 18 مارچ یومِ شہداء اور چناق قلعہ بحری فتح کی 111ویں سالگرہ کے موقع پر ایک پیغام میں کہا  کہ چناق قلعہ ایک منفرد  داستان ہے جس میں صرف ایک لڑائی ہی نہیں بلکہ ایمان، قربانی، وطن سے محبت اور قوم ہونے کا شعور پوری دنیا کے سامنے ظاہر ہوا،” ۔

اپنے پیغام میں، ایردواان نے کہا  کہ اس سالگرہ کو بڑے فخر اور جوش کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔

رحمت، شکرگزاری اور قدر کے ساتھ “وہ ہیروز جنہوں نے چناق قلعہ کو ناقابلِ تسخیر  بنایا ان  کو یاد کرتے ہوئےصدر  نے کہا کہ چناق قلعہ میں ایمان سےلبریز  دلوں کی جانب سے کی گئی جدوجہد ایک تاریخی موڑ بن گئی اور اس بات کی علامت بن گئی کہ ہماری قوم کبھی اپنی آزادی اور خودمختاری نہیں چھوڑے گی۔

انھوں نے یاد دلایا کہ ‘اناطولیہ کے ہر گوشے سے بہادروں’ نے وطن کے دفاع کے لیے محاذ پر دوڑ لگائی، اور قوم — مرد و خواتین، جوان اور بوڑھوں نے  یک جان بن کر اپنی زمین کی جان دے کر حفاظت کی۔

 ایردواان نے مزید کہا کہ ہمارے آباؤ اجداد کی یہ عظیم مزاحمت نہ صرف ہمارے وطن بلکہ دنیا بھر میں مظلوم قوموں کی تقدیر بدل گئی۔ چناق قلعہ میں دکھائی جانے والی بہادری ہماری قوم کے بھائی چارے، یکجہتی اور مشترکہ تقدیر کی سب سے مضبوط علامتوں میں سے ایک ہے۔”

ایک سو دس سال قبل، پہلی جنگِ عظیم کے دوران سلطنتِ عثمانیہ کے زیرِ اہتمام چناق قلعہ کی جنگ میں دنیا کی سب سے شدید لڑائیوں میں سے ایک میں ہزاروں  فوجی ہلاک ہوئے۔

یہ جنگ 25 اپریل 1915 سے 9 جنوری 1916 تک جاری رہی۔

برطانیہ اور فرانس اپنے حلیف روس کو محفوظ بنانا چاہتے تھے کیونکہ گالی پولی جزیرہ نما اُس وقت کی روسی سلطنت تک سمندری راستہ فراہم کرتا تھا۔

ان کا مقصد استنبول پر قبضہ کرنا تھا، جو سلطنت عثمانیہ کا دارالحکومت تھا۔

ترکوں نے بحری حملے کو پسپا کر دیا، اور آٹھ ماہ کے اس حملے کے دوران دونوں جانب بھاری جانی نقصان ہوا۔

جب زمینی مہم بھی ناکام رہی تو حملہ آور افواج نے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا۔

متحدہ افواج کے خلاف فتح نے ترکوں کے حوصلے بلند کیے، جنہوں نے بعد ازاں 1919-1922 میں ترکیہ کی جنگِ آزادی لڑی اور آخر کار 1923 میں پرانی سلطنت کی راکھ سے ایک جمہوریہ قائم کی گئی۔

 

دریافت کیجیے
قالیباف: ہمیں ہمسایہ ممالک سے سیکیورٹی اور اقتصادی تعاون کے پیغامات موصول ہوئے ہیں
امریکی سفیر: شام میں اسرائیلی حملے کے پیچھے غلط معلومات کا ہاتھ تھا
کولمبیا میں زلزلے سے اموات کی تعداد میں اضافہ؛ ترکیہ کی انسانی امداد کی فراہمی میں تیزی
یوکرینی ڈراونز نے روسی علاقے ثمارا میں ایک صنعتی تنصیب اور اوزون گودام کو نشانہ بنایا
ترکیہ کی صدر ایردوان کے خلاف تبصروں پر اسرائیل کی مذمت
ایرانی فوج دفاعی نظریے سے حملہ آور نظریے کی طرف مڑ رہی ہے: فوجی ترجمان
امریکہ: چارٹر طیارے کے حادثے میں تمام 8 افراد ہلاک
روس: ماسکو ایران پر کوئی دباؤ نہیں ڈال رہا
امریکہ: ٹریژری بانڈوں کی پیداوار ایک بار پھر بڑھ گئی
فلسطین: عالمی کمپنیاں اسرائیل کے 'ای 1' منصوبے میں شرکت سے گریز کریں
پاکستان: ڈار۔شیبانی ملاقات، دوطرفہ تعاون و علاقائی صورتحال پر بات چیت
ترکیہ کی زیرِ آب گاڑی نمائش کے لئے پیش کر دی گئی
اسرائیل کی جنوبی لبنان پرگولہ باری
شامی وزیر  خارجہ پاکستان میں، دو طرفہ مذاکرات کریں گے
شمالی چین میں آتشزدگی، 8 افراد ہلاک، 3 زخمی