پاکستان
3 منٹ پڑھنے
ایران نے افغانستان-پاکستان تنازعے میں ثالثی کی پیشکش کر دی
ایرانی وزیر خارجہ کی پیشکش کابل اور اسلام آباد کے درمیان بڑھتے ہوئے تناو اور جھڑپوں کے بعد سامنے آئی ہے۔
ایران نے افغانستان-پاکستان تنازعے میں ثالثی کی پیشکش کر دی
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی سہولت کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کو تیار ہے۔ / Reuters

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان اور افغانستان سے کہا ہے کہ وہ اپنے تیزی سے بڑھتے عسکری تصادم کو بات چیت کے ذریعے حل کریں اور تہران نے دونوں پڑوسیوں کے درمیان مذاکرات کی سہولت کے لیے مدد کی پیشکش کی ہے۔

عراقچی نے جمعے کو ایکس پر پوسٹ کیا کہ "رمضان کے بابرکت مہینے میں، جو خود پر قابو پانے اور عالمِ اسلام میں یکجہتی کے فروغ کا مہینہ ہے، مناسب ہے کہ افغانستان اور پاکستان اپنے موجودہ اختلافات کو حسنِ ہمسایگی کے دائرے میں اور گفت و شنید کے راستے سے سنبھالیں اور حل کریں۔"

انہوں نے مزید کہا: "اسلامی جمہوریہ ایران گفت و شنید کی سہولت فراہم کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان تفہیم اور تعاون کو مضبوط کرنے میں ہر قسم کی مدد دینے کے لیے تیار ہے۔"

اپنے پیغام کے ساتھ، ایرانی وزیرِ خارجہ نے فارسی شاعر سعدی شیرازی کا ایک مصرع بھی شیئر کیا، جس کا مفہوم تھا: "بنی آدم ایک دوسرے کےجزو ہیں، کیونکہ پیداوار میں وہ ایک ہی جوہر سے بنے ہیں۔"

یہ اپیل اسلام آباد اور کابل کے درمیان کشیدگی میں تیزی کے دوران سامنے آئی ہے۔

افغان حکام کے مطابق پاک فوج نے افغانستان کے مختلف حصوں میں فضائی آپریشن کیے ہیں، جن میں دارالحکومت کابل کے ساتھ کنڑ اور پکتیا صوبے بھی شامل ہیں۔

گزشتہ رات گئے وسطی کابل میں متعدد  بڑے دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔

ایک افغان سرکاری ترجمان نے کہا کہ ان آپریشنز میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

تاہم پاکستانی وزیراعظم کے ترجمان مشرف زیدی نے کہا کہ جوابی کارروائیوں میں 133 افغان فوجی ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ 27 افغان فوجی چوکیوں، دو کور ہیڈکوارٹرز اور 80 سے زائد ٹینک اور زرہ پوش گاڑیاں تباہ ہوئیں۔

پاکستانی سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کنڑ میں ایک گولہ بارود کا ڈپو اور ایک لاجسٹکس بیس کو  نشانہ بنایا گیا۔

افغان وزارتِ دفاع  کا کہنا  ہے کہ اس کے جوابی آپریشنز، جو پاک افغان سرحد کے کنارے پاکستانی اہداف کو نشانہ بنا رہے تھے، نصف شب پر ختم ہو گئے۔

اس ہفتے کے آغاز میں کم از کم آٹھ افغان فوجی اور دو پاکستانی فوجی ایک چار گھنٹے پر محیط سرحدی جھڑپ کے دوران ہلاک ہوئے، جو حالیہ مہینوں میں ہونے والی سب سے خونریز جھڑپوں میں سے ایک تھی۔

یہ کشیدگی گزشتہ ہفتے پاکستان کے فضائی حملوں کے بعد بڑھی، جن کے بارے میں اسلام آباد نے کہا تھا کہ ان میں 70 "دہشت گرد" ہلاک ہوئے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرش نے ان جھڑپوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ان کے ترجمان نے کہا کہ گوٹیرش "متعلقہ فریقین سے بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پابندی" اور ایک سفارتی حل تلاش کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہو چکے ہیں کیونکہ پاکستان کا الزام ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دہشت گرد افغان علاقے سے کارروائیاں کر رہے ہیں — جس کو کابل مسترد  کرتا ہے۔

 

دریافت کیجیے
روس: ہم نے یوکرین میں ایک بندرگاہ اور سفر کرنے والے کارگو جہاز کو نشانہ بنایا ہے
ترک خاتون اول امینہ ایردوان نے امام بخاری کے مزار پر حاضری دی
امریکہ کی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصِبات ہماری زد میں ہیں:ایران
اسرائیلی فوج نے گولی مار کر2 فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا
الہان عمر دھوکے باز ہے فوراً استعفی دے:ٹرمپ
بھارت: مودی۔ٹسک ملاقات، دفاع، خلاء اور ایٹمی توانائی کے شعبے میں تعاون پر اتفاق
امریکہ اسرائیل کو بموں کی فراہمی بند کرے: ڈیلیا رامیریز
ملائیشیا: ہم، آسیان سکیورٹی تعاون کو مضبوط بنائیں گے
امریکہ اور اسرائیل  ایران پر حملوں کا منصوبہ بنا رہے ہیں
پاک-ترک سعودی دفاعی معاہدہ،بل ترک پارلیمان میں پیش کردیاگیا
ہم روس کے ساتھ مذکرات کےلیے تیار ہیں:زیلسنکی
صدر ایردوان کا شام  اور ترکیہ کی خفیہ سروس کے کارکنان کے لیے تہنیتی پیغام
ایلون مسک نے اسپیس ایکس اور ٹیسلا کو یکجا کرنے کی حمایت کر دی
امریکی تجاویز اچھی ہیں مگر سیاسی رعائیتیں ملنا مشکل ہو گا:روس
اسرائیل نے غزہ میں 2 بچوں سمیت 7فلسطینی قتل کر دیئے