چین نے کہا ہے کہ جاپان 'علاقائی سکیورٹی تعاون 'اور 'آزاد اور کھُلے ہند۔بحرالکاہل' حکمتِ عملی کو فوجی توسیع کےلئے بطور پردہ استعمال کر رہا ہے۔
گلوبل ٹائمز کی ہفتے کے روز شائع کردہ خبر کے مطابق چین وزارتِ دفاع کے ترجمان جیانگ بِین نے جاپان کی وزیرِ اعظم سنائے تاکائچی کے، سکیورٹی تعلقات کو مضبوط بنانے کے زیرِ مقصد کئے گئے، آسٹریلیا اور ویتنام دوروں کے حوالے سے کہا ہے کہ ٹوکیو دھڑوں کے درمیان تصادم کو فروغ دے رہا ہے۔ ٹوکیو کےیہ اقدامات علاقائی امن اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔
جیانگ نے کہا ہے کہ جاپانی حکام نام نہاد'آزاد اور کھلے ہند۔بحرالکاہل' اور 'سکیورٹی تعاون' کے بہانے سےعالمی دھڑوں کے درمیان تصادم کو ہوا دے رہے اور 'چھوٹے حلقے' تشکیل دے رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہاہے کہ "یہ حرکت دیگر ممالک کی اسٹریٹجک سلامتی اور مفادات کو نقصان پہنچا رہی اور جاپان کو اپنی فوجی ترقی پر عائد پابندیوں سے نکلنے کا جواز فراہم کر رہی ہے۔ہم اس کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں"۔
جیانگ نے جاپان میں جنگِ عظیم دوم کے بعد نافذ کیے گئے پُرامن آئین میں ترمیم کے مطالبات پر بھی تنقید کی اور کہا ہےکہ ایسے اقدامات"خفیہ فوجی طاقت بڑھانے سے کھلی جنگی تیاری" کی جانب منتقلی کی عکاسی کرتے ہیں۔
بیجنگ نے خبردار کیا ہے کہ جاپان میں بڑھتا ہوا "نوعسکریت پسندی رجحان"(نیو ملٹریزم) ایشیا میں امن کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ بن رہا ہے۔
جیانگ نے "متعلقہ ممالک" سے بھی مطالبہ کیا ہےکہ وہ دھڑے بندی سے اور کیمپوں کے درمیان تصادم پیدا کرنے سے باز رہیں۔
جاپانی اور فلپائنی وزرائے دفاع کے حالیہ اجلاس پر تبصرہ کرتے ہوئے، جس میں دونوں ممالک نے دفاعی تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا تھا، چین وزارتِ دفاع کے ترجمان جیانگ بِین نے کہا ہے کہ "جاپان اور فلپائن کے بعض سیاست دان بحری معاملات سے متعلق غلط بیانی کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے اور چین پر بے بنیاد الزامات لگا رہے ہیں۔ چین اس صورتحال پر شدید عدم اطمینان رکھتا اور اس کی پُرزور مخالفت کرتا ہے"۔











