دنیا
2 منٹ پڑھنے
ایران: تہران میں مرحوم خامنہ ای کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی
رواں ہفتے کے آخر میں مرحوم رہنما کے دفن سے قبل لاکھوں افراد کی جنازے میں شرکت متوقع ہے
ایران: تہران میں مرحوم خامنہ ای کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی
5 جولائی 2026 کو تہران کے گرینڈ مصلّیٰ میں ایران کے قتل کیے گئے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو آخری خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے سوگواران جمع ہیں۔ / AFP

تہران میں آج بروز اتوار  ایران کے مرحوم دینی رہنما علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی ہے۔

 یہ نمازِ جنازہ دارالحکومت میں دو روزہ عوامی سوگ کی تقریبات کے دوسرے دن کا اہم حصہ تھی۔

علی خامنہ ای 1989 سے اسلامی جمہوریہ ایران کے دینی رہنما  تھے۔ وہ 28 فروری کو 86 برس کی عمر میں ایران کے خلاف امریکہ۔ اسرائیل جنگ کے ابتدائی روز ہونے والے ایک فضائی حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

اتوار کی نمازِ جنازہ تہران کے عظیم مصلیٰ کمپلیکس میں ادا کی گئی۔ نماز جنازہ  کی امامت قم کے دینی مدارس کے معّلم 97 سالہ ممتاز شیعہ عالم آیت اللہ جعفر سبحانی نے کی۔

خامنہ ای کے بیٹے اور نامزد جانشین مجتبیٰ خامنہ ای، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ 28 فروری کے حملے میں زخمی ہوئے تھے، سپریم لیڈر نامزد کیے جانے کے بعد عوام کے سامنے نہیں آئے اور نمازِ جنازہ میں بھی موجود نہیں تھے۔

مرحوم رہنما کے دیگر تین بیٹے، مسعود، مصطفیٰ اور میثم، تقریب میں شریک تھے۔

اتوار کے روز ایران بھر میں سرکاری تعطیل کا اعلان کیا گیا۔ پیر کے روز دارالحکومت میں متوقع جلوس سے قبل عوامی دیدار کے لیے رکھا گیا  تابوت دن کے آئندہ اوقات میں  تہران کے عظیم مصلیٰ کمپلیکس سے اٹھایا جائے گا۔

ایران سرکاری ٹیلی وژن نشریات میں صدر مسعود پزشکیان کو پارلیمان کے اسپیکر اور ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف سمیت دیگر اعلیٰ حکام کے ہمراہ تقریب میں شرکت کرتے ہوئے دکھایا گیا۔

پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی شدید جھڑپوں  کے بعد امریکہ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ فی الحال رکی ہوئی ہے۔ تاہم واشنگٹن اور تہران دونوں نے خبردار کیا ہے کہ لڑائی کسی بھی وقت دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔

پیر کے روز متوقع جلوس کے بعد خامنہ ای کے تابوت کو منگل کے روز قم منتقل کیا جائے گا، بدھ کے روز ہمسایہ ملک عراق لے جایا جائے گا اور جمعرات کو انہیں ان کے آبائی شہر مشہد میں سپردِ خاک کر دیا جائے گا۔

دریافت کیجیے