اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اسرائیلی فوج نے منگل کے روز غزہ جانے والے 'گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل 50 سے زائد بحری جہازوں میں سے تقریباً 40 کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔
اسرائیلی نیوز ویب سائٹ 'والا' (Walla) نے ایک نامعلوم سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ فوج نے بحری بیڑے پر موجود تقریباً 300 انسانی حقوق کے کارکنوں کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔
ویب سائٹ نے مزید کہا کہ اسرائیلی بحریہ نے ابھی تک فلوٹیلا کے تمام جہازوں کو نہیں روکا ہے اور کئی کشتیاں اب بھی کھلے سمندر میں موجود ہیں۔
اسرائیلی فوج نے پیر کے روز بین الاقوامی سمندر میں انسانی امداد لے جانے والے اس بحری بیڑے پر حملہ کیا تھا، جس کی عالمی سطح پر شدید مذمت کی جا رہی ہے۔
یہ بحری بیڑا 54 کشتیوں کے ساتھ جمعرات کو ترکیہ کے علاقے مارماریس (Marmaris) سے روانہ ہوا تھا، جس کا مقصد 2007 سے غزہ پر عائد غیر قانونی اسرائیلی محاصرے کو توڑنے کی ایک نئی کوشش تھا۔
یہ اس بحری بیڑے کے ساتھ پیش آنے والا پہلا واقعہ نہیں ہے۔
اس سے قبل اپریل کے آخر میں بھی اسرائیلی فوج نے یونانی جزیرے کریٹ (Crete) کے قریب بین الاقوامی سمندر میں فلوٹیلا کی کشتیوں پر حملہ کیا تھا۔ اس وقت اس قافلے میں 39 ممالک کے 345 شرکاء شامل تھے، جن میں ترک شہری بھی موجود تھے۔
اس وقت اسرائیلی افواج نے تقریباً 175 کارکنوں کو لے جانے والی 21 کشتیوں کو قبضے میں لے لیا تھا، جبکہ باقی جہاز یونانی سمندری حدود کی طرف بڑھ گئے تھے، بعد میں اسرائیلی افواج نے دو کارکنوں (ایک ہسپانوی اور ایک برازیلی) کے علاوہ تمام کارکنوں کو بین الاقوامی پانیوں میں رہا کر دیا تھا، جنہیں اسرائیل کے اندر حراستی مراکز منتقل کیا گیا اور بعد میں بیدخل کر دیا گیا۔
اس وقت غزہ میں تقریباً 24 لاکھ فلسطینی، جن میں تقریباً 15 لاکھ بے گھر افراد شامل ہیں، انتہائی تباہ کن انسانی حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ دو سال سے جاری اسرائیلی نسل کشی نے ان حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں اب تک 72,700 سے زائد افراد شہید اور 172,700 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔ اس کے علاوہ خطے میں شدید قحط کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔
مقامی حکام کے مطابق، اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کے اعلان کے باوجود، اسرائیل نے انسانی امداد کی رسائی کو محدود رکھا ہوا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں اب تک مزید 877 فلسطینی شہید اور 2,602 زخمی ہو چکے ہیں۔













