زیادہ تر امریکی رائے دہندگان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے، ایران کے ساتھ کشیدگیوں کو حل کرنے کے، طریقے کو ناپسند کرتے اور امریکہ کی فوجی کاروائی کے خلاف ہیں۔
این بی سی نیوز کے نئے سروے کے مطابق امریکی ووٹروں کے 54 فیصد نے ٹرمپ کی ایران پالیسی کے خلاف اور 41 فیصد نے اس کے حق میں رائے دی جبکہ 5 فیصد غیر یقینی میں رہے یا رائے دینے سے انکار کر دیا۔
فوجی کارروائی سے متعلق سوال کے جواب میں 52 فیصد نے کہا کہ امریکہ کو ایران پر حملہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ 41 فیصد نے اس فیصلے کی حمایت کی اور 7 فیصد نے غیر یقینی کا اظہار کیا ہے۔
عوامی رائے عام طور پر ان کی سیاسی پارٹی کے مطابق تھی لیکن سروے نے ریپبلکنوں میں ایک چھوٹا لیکن قابلِ ذکر حصہ ایسا بھی ظاہر کیا جو فوجی مداخلت سے ناخوش تھا۔
نسلوں کے درمیان فرق نے بھی سروے پر اثر ڈالا مثلاً نوجوان اور عمر رسیدہ ووٹروں نے جنگ کے ابتدائی مراحل میں مختلف ردِعمل پیش کئے۔
سروے نتائج، وائٹ ہاوس میں واپسی کے لئے اپنی انتخابی مہم کے دوران ایک طویل عرصے تک اوور سیز جنگوں کی مخالفت کرنے والے امریکی صدر کے 2024 میں وسیع پیمانے کے فوجی حملے کروانے سے متعلق، امریکیوں کے ردعمل کے عکاس ہیں۔
تاریخی حوالے سے دیکھا جائے تو این بی سی نیوز کے ماضی کےسروے ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی فوجی مداخلتوں کے لیے ابتدائی عوامی حمایت اکثر زیادہ رہی ہے۔
2002 کے اوائل سے ابتدائی 2003 کے سروے نے دکھایا کہ بیشتر امریکی صدام حسین کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے فوجی کارروائی کی حمایت کرتے تھے۔ اسی طرح، اکتوبر 2001 میں 87 فیصد امریکیوں نے 11 ستمبر کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد افغانستان پر اوّلین امریکی حملوں کے دوران صدر جارج ڈبلیو بش کی 'دہشت گردی کے خلاف جنگ' حکمت عملی کی حمایت کی۔
تاہم، بعد میں ان جنگوں کے لیے حمایت کم ہو گئی، اور بالآخر اکثریت نے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ جنگیں اتنی لاگت کے قابل نہیں تھیں۔
ریپبلکنز ایران کے خلاف جنگ کے حامی
ایران پر حملوں کی حمایت سب سے زیادہ ریپبلکنوں میں دیکھی جا رہی ہے۔
تقریباً 77 فیصد ریپبلکن ووٹر کہتے ہیں کہ امریکہ کا حملہ درست تھا جبکہ 15 فیصد اختلاف رکھتے ہیں۔
سروے نے پارٹی کے اندر تقسیم بھی ظاہر کی۔
ٹرمپ کی 'امریکہ کو دوبارہ عظیم بناو' (MAGA) تحریک سے وابستہ ریپبلکنوں کا 90 فیصد حملوں کی حمایت کرتا اور 5 فیصد مخالفت کرتا ہے۔
MAGA ونگ سے باہر کے ریپبلکنوں میں، 54 فیصد کارروائی کی حمایت کرتے ہیں اور 36 فیصد اس کے خلاف ہیں۔







