جاپان کے جنگلات میں لگی آگ پر قابو پانے کے لیے سینکڑوں فائر فائٹرز نبرد آزما ہیں تو حکام نے 3,200 سے زائد افراد کو اپنے گھروں کو خالی کرنے کی ہدایت کی ہے۔
مقامی حکام نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اِواتے کے پہاڑی علاقوں میں تین روز قبل لگنے والی آگ نے ہفتے کی صبح تک تقریباً 700 ہیکٹر رقبے کو راکھ کے ڈھیر میں بدل دیا ہے۔
اوٹسوچی کے قریب وادی سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھ رہے ہیں جن کا مشاہدہ 30 کلومیٹر دوری سے کیا جا سکتا ہے۔
اوٹسوچی میں، فائر انجن آگ کے قریب گھروں کے پاس جنگل پر پانی پھینک رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ قریباً بارہ ہیلی کاپٹر، 1,300 سے زائد فائر فائٹرز اور جاپان کی خوددفاعی افواج کے دستے ہفتے کو آگ بجھانے کے لیے متحرک کیے جائیں گے۔
بیان کے مطابق کم از کم آٹھ عمارتیں جل چکی ہیں، مگر تمام رہائشیوں کا انخلاء کر لیا تھا۔
اِواتے کے ایک اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ'ہم آگ بجھانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
اوٹسوچی کے ایک شخص نے عوامی نشریاتی ادارے NHK کو بتایا کہ یہاں پر ضرور بارش پڑے گی۔
تیزی سے خشک ہوتی سردیوں نے جنگلاتی آگ کے خطرے کو بڑھا دیا ہے۔ پچھلے سال کے اوائل میں اِواتے کے شہر اوفوناتو میں بھڑک اٹھنے والی آگ گزشتہ نصف صدی کی بدترین تھی۔
سائنس دانوں نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی خشکی کے دورانیے کو زیادہ شدید اور طویل بنائے گی، جو جنگلاتی آگ کے لیے موزوں حالات پیدا کرتی ہے۔








