روس نے جمعرات کی صبح کئی گھنٹوں تک سینکڑوں ڈرونز اور درجنوں میزائلوں سے کیف پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے اور ماسکو کی جنگ کے خاتمے کی امیدوں کو مزید تار تار کر دیا گیا۔
اے ایف پی کے صحافیوں نے دارالحکومت میں فضائی الرٹ کے سائرن کی آوازیں سنیں، اس کے بعد کئی گھنٹوں تک زوردار دھماکوں اور آسمان میں چمکوں نے کیف کے باشندوں کو میٹرو اسٹیشنوں میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔
یوکرینی فضائیہ نے اطلاع دی ہے کہ روس نے 675 حملہ آور ڈرون اور 56 میزائل داغے، جن کا بیشتر ہدف کیف تھا، اور اس نے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی یونٹس نے 652 ڈرونز اور 41 میزائل گرا دیے۔
کیف کے رہائشی اینڈری نے سوویت یونین کے دور کی ایک رہائشی عمارت کے منہدم شدہ حصے کے قریب اے ایف پی کو بتایا کہ"ہر چیز جل رہی تھی۔ لوگ چیخ و پکار کررہے تھے۔"
صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اعلان کیا کہ دارالحکومت میں پانچ افراد ہلاک اور تقریباً 40 زخمی ہوئے، انہوں نے کہا کہ رہائشی عمارتیں، ایک اسکول، ایک ویٹرنری کلینک اور دیگر شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ"یہ یقینی طور پر اُن افراد کے اقدامات نہیں جو سمجھتے ہیں کہ جنگ ختم ہونے والی ہے۔ یہ اہم ہے کہ شراکت دار اس حملے کے بارے میں خاموش نہ رہیں۔"
زیلنسکی نے اپنے فضائی دفاعی یونٹس کی تعریف کی کہ انہوں نے 93 فیصد پروجیکٹائل گرائے، مگر کہا کہ تناسب مزید بہتر ہونا چاہیے اور اعتراف کیا: "سب سے مشکل چیلنج بیلسٹک میزائلوں سے دفاع ہے۔"
روس، جس نے چار سال سے زیادہ عرصہ قبل یوکرین میں فوجیں بھیجیں، نے ایک بیان میں کہا کہ اس کے حملے تلافی کی نوعیت کے تھے اور اس کی میزائل و ڈرونوں کی لہر نے فوج سے متعلقہ مقامات اور یوکرینی فوج کی امداد کرنے والی توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ۔
ہنگامہ خیز ریسکیو مناظر
سحر کے وقت، اے ایف پی کے صحافیوں نے منہدم ہونے والی رہائشی عمارت کے ملبے کے درمیان ریسکیو کارکنوں کو کھدائی کرتے ہوئے ہنگامہ خیز مناظر دیکھے جو حملے میں تہہ وبالا ہو گئی تھی۔
ایمرجنسی سروسز کے کارکنوں کو موقع سے زخمی اور ہلاک شدگان نکالتے دیکھا گیا، اور رہائشی اپنے پیاروں اور پڑوسیوں کی خبر کا انتظار کرتے ہوئے روتے نظر آئے۔
یہ بمباری تنازع ختم کرنے کی کوششوں کے لیے تازہ ترین بڑا دھچکا ہے، اس کے چند دن پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیف اور ماسکو کے درمیان تین روزہ جنگ بندی طے کروا کر امن کی مدہم امیدیں پیدا کی تھیں، اور روس کے رہنما ولادیمیر پوتن نے اشارہ دیا تھا کہ جنگ کم ہو سکتی ہے۔
وہ جنگ بندی، جو پوتن کے زیر صدارت ریڈ اسکوائر میں ورلڈ وار ٹو میں فتح کی سالگرہ کے موقع پر محدود فوجی پریڈ کے دوران نافذ کی گئی تھی، دونوں جانب سے خلاف ورزیوں کے الزامات کے باعث داغدار رہی۔
اور منگل کو جب وہ جنگ بندی ختم ہوئی تو فوراً ہی یوکرین اور روس دونوں نے دور برد ڈرون حملے شروع کر دیے۔
کیف فضائیہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ 36 گھنٹوں میں روس نے یوکرین پر 1,500 سے زائد ڈرون داغے ہیں۔
اقوام متحدہ کو'نشانہ بنایا گیا'
روس نے اس مطالبے کا اعادہ کیا ہے کہ جنگ بندی اور مکمل امن مذاکرات سے پہلے یوکرین کو مشرقی دونباس علاقے سے مکمل انخلا کر لینا چاہیے۔
کیف نے اس طرح کے اقدام کو ہتھیار ڈالنے کے مترادف قرار دے کر مسترد کر دیا ۔
روس نے چار سال سے زائد عرصے سے یوکرینی شہروں کو نشانہ بنایا ہے، مگر عام طور پر بڑے پیمانے پر ڈرون اور میزائل حملے رات کے وقت کرتا ہے۔
بدھ کو ایک گھنٹوں پر محیط بمباری میں کم از کم 800 روسی ڈرونز نے، جو بنیادی طور پر مغربی یوکرین کو ہدف بنا رہے تھے، چھ افراد کو ہلاک اور درجنوں کو زخمی کیا۔
زیلنسکی نے بعد ازاں ٹرمپ سے درخواست کی کہ وہ بیجنگ میں اس ہفتے چینی رہنما شی جن پنگ کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران تنازع کے خاتمے پر بات کریں۔
اے ایف پی کو ایک سینئر یوکرینی صدارتی عہدیدار نے بتایا کہ جمعرات کے حملوں کا دائرہ اتنا وسیع اس لیے تھا کہ اس سے پہلے ایک وقفہ ہوا تھا اور اس کا وقت امریکی اور چینی رہنماؤں کے اجلاس سے جوڑا گیا تھا۔
اس عہدیدار نے مزید وضاحت پیش کیے بغیر اسے 'ٹرمپ کی چین میں بات چیت کے دوران ایک مظاہرہ' قرار دیا ۔
جمعرات کو روسی ڈرونز نے جنوبی یوکرینی شہر خیرسون میں اقوامِ متحدہ کی گاڑی کو نشانہ بنایا، زیلنسکی نے ماسکو پر جان بوجھ کر حملہ کرنے کا الزام لگایا۔
انہوں نے ایکس پر لکھا ہے کہ "روسیوں نے دو بار اقوامِ متحدہ کے ہنگامی امور کی مربوطی دفتر کی ایک گاڑی پر FPV ڈرونز سے حملہ کیا، اور روسیوں کے لیے یہ ناممکن ہے کہ انہیں کس گاڑی کو نشانہ بنانے کی خبر نہ ہو"اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
فروری 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے نے یورپ میں دوسری جنگ عظیم کے بعد کی بدترین جنگ چھیڑی ، جس نے ہزاروں افراد کو ہلاک اور لاکھوں کو بے گھر کیا۔












