دنیا
5 منٹ پڑھنے
جاپان: COP31 جاپان۔ترکیہ تعاون میں ایک نیا دور بن سکتا ہے
COP31 دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں تعاون کے ایک نئے دور کے آغاز کا ذریعہ بن سکتا ہے: تامورا ماسامی
جاپان: COP31 جاپان۔ترکیہ تعاون میں ایک نیا دور بن سکتا ہے
COP31

جاپان کے سفیر برائے انقرہ، تامورا ماسامی نے 2024ء میں ترکیہ ۔جاپان سفارتی تعلقات کے قیام کی 100ویں سالگرہ  کی یاد دہانی کرواتے ہوئے کہا ہے کہ COP31 دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں تعاون کے ایک نئے دور کے آغاز کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف جدوجہد میں عملی اقدامات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے تامورا نے کہا ہے کہ’’ہم ترکیہ کی حکومت کے اس مؤقف سے مکمل اتفاق کرتے ہیں کہ COP31 کو وعدوں اور عہد و پیمان سے آگے بڑھنا اور وعدوں کو  عملی مرحلے میں تبدیل کرنا چاہیے۔ ہم اپنے وعدوں اور عزائم کو عملی جامہ پہنانا چاہتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف جدوجہد میں ہمارا مشترکہ ہدف ہے، تاہم مختلف ممالک کے معاشی اور جغرافیائی حالات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اس لیے اس ہدف کے حصول کے لیے مختلف راستے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔‘‘

توانائی کا تحفظ مشترکہ ترجیح

تامورا نے کہا  ہےکہ ترکیہ اور جاپان کو وسائل ِ توانائی  کے لیے بیرونی ممالک پر انحصار کے حوالے سے یکساں نوعیت کے چیلنجوں کا سامنا ہے، جبکہ توانائی کا تحفظ اور اس کی پائیدار فراہمی دونوں ممالک کی مشترکہ ترجیحات ہیں۔

انہوں نے توانائی کی پیداوار، ترسیل اور ذخیرہ کرنے کے نظام میں کارکردگی بڑھانے کے شعبوں میں دونوں ممالک کی  کوششوں کا ذکر کیا اور کہا ہے کہ ترکیہ میں پن بجلی، ہوا اور شمسی توانائی کے شعبوں میں نمایاں صلاحیت موجود ہے۔

تامورا نے کہا ہے کہ’’توانائی کی منتقلی کے مختلف مراحل میں ترک اور جاپانی کمپنیوں کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ توانائی کی بچت، ذخیرہ کرنے کی ٹیکنالوجیاں اور قابلِ تجدید توانائی کی ٹیکنالوجیاں ایسے شعبے ہیں جن میں جاپان اور ترکیہ کے درمیان تعاون کے مواقع نمایاں ہیں۔‘‘

ترکیہ میں جاپانی کمپنیوں کی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے تامورا نے کہا ہے کہ ہٹاچی انرجی گزشتہ 60 برس سے زائد عرصے سے صوبہ کوجائیلی میں کام کر رہی اور بجلی کی ترسیل کے آلات تیار کر رہی ہے۔یہ آلات ترکیہ میں قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کو بجلی کے قومی نظام سے منسلک کرنے اور بجلی کے ترسیلی نظام کو مستحکم رکھنے کے حوالے سے اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ترک اور جاپانی کمپنیوں کے درمیان مشترکہ منصوبے توانائی کی منتقلی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ترک اور جاپانی کمپنیوں کے لیے تیسرے ممالک میں شراکت داری کے مواقع

تامورا نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعلقات کو ایک ادارہ جاتی فریم ورک کے تحت فروغ دینے کے لیے 2024ء میں ترکیہ۔جاپان انرجی فورم کے قیام سے متعلق مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ فورم توانائی کی بچت اور توانائی کے تحفظ کے شعبوں میں مزید ٹھوس تعاون کو فروغ دینے کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔

انہوں نے اس بات کی جانب بھی توجہ دلائی کہ ترکیہ اور جاپان کے درمیان تعاون کے ایسے طریقۂ کار تشکیل دیے گئے ہیں جن میں حکومت سے منسلک مالیاتی ادارے بھی شامل ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے کہا ہے کہ’’دونوں ممالک کے درمیان نجی شعبوں کو مشترکہ منصوبے تیار کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (JICA)، جاپان بینک فار انٹرنیشنل کوآپریشن (JBIC) اور ایکسِم بینک جیسے مالیاتی اداروں کو ایسے ذرائع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو تعاون کو آسان بنانے کے لیے مالیاتی سہولتیں فراہم کر سکتے ہیں۔ حکومتیں کمپنیوں کے درمیان شراکت داری کی حمایت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ تاہم، بالآخر اس شعبے میں حقیقی تبدیلی نجی کمپنیاں ہی لاتی ہیں۔ حکومت کی حیثیت سے ہم نجی کمپنیوں کے درمیان تعاون کو آسان بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔‘‘

تامورا نے کہا  ہےکہ توانائی کے شعبے میں تعاون کو صرف دونوں ممالک تک محدود رکھنے کے بجائے تیسرے ممالک میں مشترکہ منصوبوں کے ذریعے وسعت دینا بھی اہم مواقع فراہم کر سکتا ہے۔ترک کمپنیاں مشرقِ وسطیٰ، افریقہ، وسطی ایشیا اور یورپ میں سرگرم ہیں اور ترکیہ اقتصادی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک اہم اسٹریٹجک مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔

ان کے مطابق جاپانی کمپنیاں ترک اداروں کے علاقائی تجربے اور کاروباری صلاحیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بالخصوص وسطی ایشیا میں توانائی کے تحفظ، توانائی کی بچت اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف جدوجہد کے شعبوں میں مشترکہ سرگرمیاں انجام دے سکتی ہیں۔

جاپان COP31 میں توانائی کی ٹیکنالوجیاں متعارف کرائے گا

تامورا نے کہا ہے کہ ہائیڈروجن دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کا ایک نمایاں میدان ہے اور جاپان اس شعبے میں ٹیکنالوجیوں کی ترقی کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل مختص کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا  ہےکہ ہائیڈروجن کے علاوہ امونیا، جوہری توانائی اور قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع بھی موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف جدوجہد کے لیے مختلف حل فراہم کرتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں فوسل ایندھن کا زیادہ مؤثر استعمال بھی ضروری ہے۔

تامورا نے زور دیا ہے کہ ہائیڈروجن ٹیکنالوجیوں کی ترقی میں وقت لگ سکتا ہے، تاہم توانائی کے ذخیرے، نقل و حمل اور استعمال کے حوالے سے اس شعبے میں نمایاں صلاحیت موجود ہے۔ اس شعبے میں جاپانی کمپنیوں کی سرمایہ کاری توانائی کے تحفظ اور موسمیاتی اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

تامورا نے یہ توقع بھی ظاہر کی  ہے کہ جاپان کی متعدد کمپنیاں COP31 میں شرکت کریں گی اور سربراہی اجلاس کے دوران جاپان کا ایک خصوصی پویلین بھی قائم کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا ہے کہ اس پویلین میں جاپان کی بڑی کمپنیاں موسمیاتی تبدیلیوں اور توانائی کے مسائل کے حل کے لیے تیار کردہ اپنی مختلف ٹیکنالوجیوں کی نمائش کریں گی۔ یہ پویلین ترک اور جاپانی متعلقہ فریقوں کے درمیان تبادلۂ خیال اور تعاون کے نئے مواقع کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔

دریافت کیجیے
چین کی امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد واشنگٹن حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کی آمادگی
سینکڑوں حوثی ملیشیاوں کو غیر فعال کر دیا ہے:یمنی فوج
"بحرانوں سے نبرد آزمائی" یورپی کمیشن نے نئی تجاویز پیش کر دیں
صدرِ ترکیہ رجب طیب ایردوان  کی جنوبی کوریا کی  سرکردہ کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقات
ایران میں مظاہرہ "ٹرمپ کو قتل کر دیں گے"  کا بینر آویزاں
جنوبی کوریا کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں:ایردوان
3 ماہ تک سمندر کی لہروں کے رحم و کرم پر موجود 5 افراد بچا لیے گئے
سعودی وزیر دفاع کا امریکی ہم منصب سے رابطہ
پاکستان:خیبر پختون خوا میں حملہ،2 پولیس اہلکار ہلاک 1 زخمی
حملہ ہوا تو جواب زیادہ شدید ہوگا:ایرانی جرنیل
ایرانی فوج: "امریکہ کی جانب سے کسی نئی جارحیت کی صورت میں جنگ صرف خطے تک محدود نہیں رہے گی۔"
بیلجیئم: سپر مارکیٹوں کے فریزر کا درجہ حرارت اچانک بڑھ گیا،اشیا٫ خراب
"موراسو" طوفان بھارت کی جانب،مکینوں کی نقل مکانی
کواڈ  اجلاس: باہمی روابط بڑھانے  پر غور
ایران کی باقی تنصیبات 10 منٹ میں تباہ کر سکتے ہیں:ٹرمپ