دنیا
3 منٹ پڑھنے
ہم، "ہجرت کی حوصلہ افزائی" کریں گے: سموٹرچ
ہم، مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ سے فلسطینیوں کی "ہجرت کی حوصلہ افزائی" کی پالیسی اختیار کریں گے: بیزالل سموٹرچ
ہم، "ہجرت کی حوصلہ افزائی" کریں گے: سموٹرچ
مقبوضہ مغربی کنارے میں ہفتہ وار آباد کاروں کے دورے کے دوران، فلسطینی انتظار میں ہیں جبکہ اسرائیلی فوجی پہرے پر کھڑے ہیں۔ 31 جنوری 2026 (فائل) / Reuters
14 گھنٹے قبل

اسرائیل کے انتہائی متعصب وزیرِ خزانہ بیزالل سموٹرچ نے کہا  ہےکہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ سے فلسطینیوں کی "ہجرت کی حوصلہ افزائی" کی پالیسی اختیار کریں گے۔

 اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی بروز بدھ جاری کردہ خبر کے مطابق سموٹرچ نے منگل کے روز  اپنی مذہبی صہیونزم پارٹی کی طرف سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب  میں کہا ہے کہ "ہم ایک عرب دہشت گرد ریاست کے تصور کو ختم کر دیں گے"۔

سموٹرچ نے کہا ہے کہ "ہم بالآخر، سرکاری و عملی طور پر ملعون اوسلو معاہدوں کو منسوخ کر دیں گے اور خود مختاری کے راستے پر گامزن ہو جائیں گے"۔

خود بھی مقبوضہ مغربی کنارے کےغیر قانونی  آبادکار 'سموٹرچ'  نےمقبوضہ مغربی کنارے کے لئے عبرانی نام ' یہودیہ و شمرون' کا  استعمال کیا اور کہا ہے کہ "ہم  ،غزہ اور یہودیہ و شمرون ہر دو علاقوں سے فلسطینیوں کی  ہجرت کی حوصلہ افزائی کریں گے۔ اس کے علاوہ اور کوئی طویل المدتی حل موجود نہیں ہے"۔

واضح رہے کہ اسرائیل نےکٹّر وزراء کی حمایت سے گذشتہ ہفتے  ایک منصوبہ منظور کیا تھا جس کا مقصد مغربی کنارے پر قبضہ  سخت کرنا اور اسےمستقل بنانا ہے۔اسرائیل جن علاقوں پر قبضے کو مضبوط کرنا چاہتا ہے ان میں وہ  علاقے بھی شامل ہیں   جن کا انتظام  اوسلو معاہدوں کے تحت 1990 کی دہائی سے فلسطینی اتھارٹی کے ہاتھ میں  ہے۔

ان اقدامات میں مقبوضہ  مغربی کنارے کی زمین کا بحیثیت "ریاستی ملکیت" کے اندراج  کرنا اور یہودی اسرائیلیوں کے لیے زمین کی براہِ راست خریداری کو آسان بنانا شامل ہے۔

ان اقدامات نے وسیع پیمانے پر بین الاقوامی مذّمت کو جنم دیا ہے۔

ناقدین ان اقدامات کو فلسطینی علاقے کے عملی الحاق کے مترادف قرار دیتے ہیں اور منگل کو، اقوامِ متحدہ میں 85 ممالک کے سفارتی مشنوں نے ان اقدامات کی مذمت کی ہے۔

مذّمتی بیان میں کہا گیا ہے کہ "ہم ، مغربی کنارے میں اسرائیل کے غیرقانونی وجود میں اضافے پر مبنی ان یکطرفہ  فیصلوں اور اقدامات کی سخت مذّمت کرتے ہیں ۔یہ فیصلے بین الاقوامی قانون کی رُو سے  اسرائیل پر عائد ذمہ داریوں کے منافی  ہیں اور انہیں فوری طور پر واپس لیا جانا چاہیے۔ ہم اس حوالے سے کسی بھی قسم کے الحاق کی سخت مخالفت کا اعادہ کرتے ہیں"۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرش نے پیر کو جاری کردہ بیان میں اس پالیسی کو 'عدم استحکام" پر مبنی اور 'غیر قانونی' قرار دیا اور  اسرائیل سے 'زمینی اندراج پالیسی'  کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔

واضح رہے کہ مقبوضہ مغربی کنارہ مستقبل کی کسی بھی فلسطینی ریاست کا سب سے بڑا حصہ ہوگا۔ تاہم کٹّر اسرائیلی حلقے اسے اسرائیلی زمین قرار دیتے  ہیں۔

اسرائیلی غیر سرکاری تنظیموں نے بھی حکومت کے منظور کردہ  آبادکاری  منصوبے پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔ یہ منصوبہ  1967 کے بعد سے القدس  کی سرحدوں میں واقع اور زیرِ قبضہ 'مغربی کنارے ' کی طرف  پہلی توسیعی آبادکاری  ہوگی۔

اسرائیل وزارتِ تعمیرات و رہائش کے اعلان کردہ اس منصوبہ بند ترقیاتی پروگرام  میں شامل یہ غیر قانونی بستی  مغربی کنارے  میں اور القدس کے شمال مشرق کی طرف واقع ہے  اور وزارت نے اسے ' گیوا بنیامین' یا پھر ' آدم' کی مغرب کی طرف توسیع قرار دیا ہے ۔

موجودہ اسرائیلی حکومت نے بستیوں کی توسیع کو تیز کر دیا  اور سال 2025 میں 52 بستیوں کی ریکارڈ منظوری دی ہے۔

اسرائیل کے زیرِ قبضہ 'مشرقی القدس' خارج مقبوضہ مغربی کنارے کی بستیوں اور خارجی چوکیوں  میں 500,000 سے زائد اسرائیلی رہتے ہیں، جو بین الاقوامی قانون کے تحت غیرقانونی ہیں۔

1967 سے اسرائیل کے زیرِ  قبضہ اس علاقے میں تقریباً تین ملین فلسطینی رہتے ہیں ۔

دریافت کیجیے
ترک اور متحدہ عرب امارات کے صدور کے درمیان رابطہ، تعلقات کو فروغ دینے پر غور
فلسطینی خیموں پر اسرائیلی حملے
مارکو روبیو اسلواکیہ اور ہنگری کے دورے پر
آئی سی ای کے چھاپے 'آمریت' سے مشابہہ ہیں: اوباما
اسرائیل کی تازہ خلاف ورزی: جنوبی لبنان پر فضائی حملے
ٹرمپ، ایران کے ساتھ مذاکرات کو ترجیح دیتے ہیں: روبیو
روس نے برکس کے فوجی اتحاد میں تبدیل ہونے کا دعوی مسترد کر دیا
امینہ ایردوان نے7 ویں TRT ورلڈ سٹیزن ایوارڈز میں عالمی تبدیلیوں کی نمایاں شخصیات کو اعزازات سے نوازا
ارندھتی رائے نے غزہ میں نسل کشی کے بیانات پر احتجاج میں برلن فلم فیسٹیول سے کنارہ کشی کر لی
امریکہ  نے یمنیوں کے لیے دہائی پرانی عارضی تحفظ کی حیثیت ختم کردی
صدر ایردوان کی عراقی وزیر اعظم السودانی کے ساتھ تجارت اور دہشت گردی کے خلاف تعاون پر بات چیت
مانچسٹر یونائیٹڈ کے شریک مالک نے برطانیہ میں 'مہاجرین کی آبادی' کے دعوے پر معذرت کی
ترکیہ، شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کے ساتھ نئے اقتصادی معاہدے طے کریں گے
روس کا یوکرین پر مزید حملہ،1 شخص ہلاک 6 زخمی
امریکی طیارہ بردار جہاز مشرق وسطی کی طرف روانہ کر دیا گیا