سیاست
3 منٹ پڑھنے
جنوبی کوریائی صدر بھی نیتن یاہو کے گرفتاری وارنٹ جاری کرنے پر غور کر رہے ہیں
صدر لی جے-میونگ نے غزہ کی طرف جانے والی امداد کی کشتی کے قبضے کی مذمت کی، جس میں جنوبی کوریا سے دو کارکنان موجود تھے، اور اسرائیل کی کارروائیوں کے قانونی جواز پر سوالات اٹھائے۔
جنوبی کوریائی صدر بھی نیتن یاہو کے گرفتاری وارنٹ جاری کرنے پر غور کر رہے ہیں
(فائل) ”کم از کم بین الاقوامی اصول موجود ہیں، اور اسرائیل ان سب کی خلاف ورزی کر رہا ہے،“ لی نے کہا۔ / Reuters

جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے بدھ کو کہا کہ سیول کو بین الاقوامی فوجداری عدالت کے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے خلاف جاری گرفتاری وارنٹس پر ہمیں بھی غور کرنا چاہیے، انہوں نے جنوبی کوریا کے کارکنوں کےسوار ہونے والےغزہ امدادی  فلوٹیلا پر اسرائیلی فوج کے قبضے کی شدید مذمت بھی کی۔

کابینہ اجلاس سے خطاب میں لی نے گلوبل صمود فلوٹیلا کو روکنے کی قانونی بنیاد پر سوال اٹھایا اور پوچھا کہ کیا وہ جہاز اسرائیلی بحری حدود میں داخل ہوا تھا یا کسی تسلیم شدہ سرحد کی خلاف ورزی ہوئی تھی۔

انہوں نے کہا"تقریباً تمام یورپی ممالک نے نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری وارنٹس جاری کرتے ہوئے  اعلان کیا ہے کہ اگر وہ ان کے علاقوں میں داخل ہوا تو اسے گرفتار کریں گے۔ ہمیں بھی اس پر غور کرنا چاہیے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ"اسرائیل بین الاقوامی اقدار کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ انہیں اصولوں کی پابندی کرنی چاہیے؛ ہم نے اسے بڑے  طویل عرصے تک برداشت کیا ہے۔"

لی کا کہنا تھا کہ "غزہ کے لیے رضاکارانہ طور پر  جانے   والے جہازوں اور ہمارے شہریوں کے جہازوں کو قبضے میں لینے یا ڈبونے کی اسرائیل کے پاس کون سی قانونی بنیاد ہے؟ کیا غزہ پر اسرائیل کا حملہ اور قبضہ بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی نہیں ہے"؟

قومی سلامتی کے مشیر وی سونگ-لاک نے اس سوال پر  کہا: "اس  معاملے کی جانچ ضروری ہے ۔۔۔

لی نے دریافت کیا کہ کیا غزہ اسرائیلی علاقہ ہے۔  جس کا جواب دیتے ہوئے وی نے کہا: نہیں، یہ اسرائیلی علاقہ نہیں ۔"

لی نے کہا کہ"کیا ہمیں احتجاج نہیں کرنا چاہیے؟ حتیٰ کہ جنگی صورتِ حال میں بھی کیا تیسرے ملک کے جہاز ضبط کیے جا سکتے ہیں؟ یہ صرف قانون کا نہیں بلکہ بنیادی عام فہم کا معاملہ ہے، ہے نا؟"

اسرائیلی بحریہ نے حملہ کر کے قبضے میں  جن بحری جہازوں کو قبضے میں لیا ہے اس پر دو جنوبی کوریائی شہری بھی سوار تھے۔

یہ فلوٹیلا، جس میں 50 سے زیادہ کشتیاں شامل تھیں، نے جمعرات کو ترکیہ کے بحیرۂ روم کے ضلع مارمرس سے روانہ ہو کر غزہ پر 2007 سے نافذ اسرائیلی محاصرے کو توڑنے کی ایک نئی کوشش کی تھی۔

منتظمین نے کہا کہ مشن میں 426 افراد حصہ لے رہے تھے، جن میں 96 کا تعلق ترکیہ سے تھا ۔  دیگر شرکاء میں جرمنی، امریکہ، ارجنٹینا، آسٹریلیا، بحرین، برازیل، الجزائر، انڈونیشیا، مراکش، فرانس، جنوبی افریقہ، برطانیہ، آئرلینڈ، سپین، اٹلی، کینیڈا، مصر، پاکستان، تیونس، عمان اور نیوزی لینڈ  کے شہری شامل تھے۔

فلوٹیلا پر حملہ  پہلی بار نہیں  ہوا۔

اسرائیلی افواج نے 29 اپریل سے 30 اپریل کی درمیانی شب بھی یونانی جزیرے کریٹ کے ساحل کے قریب گلوبل صمودامدادی فلوٹیلا پر حملہ کیا تھا۔

دریافت کیجیے
عراق سے آنے والے 3 ڈرونز کو تباہ کر دیا گیا:سعودی عرب
امریکہ: فضائی مظاہرے کے دوران دو جنگی طیارے آپس میں ٹکرا گئے
آئی سی سی نے5 اسرائیلی حکام کے خلاف وارنٹ جاری کر دیئے
کیف کے روس پر ڈرون حملے جائز ہیں:زیلنسکی
بلغاریہ 2026 یورو ویژن مقابلہ موسیقی جیت گیا
چین اور امریکا نے ٹیرف کم کرنے پر اتفاق کر لیا
برطانیہ نے خلیج میں کم لاگت والا اینٹی ڈرون میزائل نظام نصب کر دیا
غزہ میں گاڑی پر حملہ،2 فلسطینی ہلاک
اسرائیل کی مشرق وسطی میں اشتعال انگیز کارروائیاں ختم ہونی چاہئیں، صدر ایردوآن
ترک قومی خفیہ ایجنسی نے جاسوسی نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا
حماس کے فوجی سربراہ اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو گئے ہیں، حماس سینیئر حکام
روس نے 528 اجساد یوکرین کے سپرد کر دیے: کیف
امریکہ-ایران کے درمیان مذاکرات کی میز پر مفاہمت، میدان میں حملوں کی تیاری
اسرائیل کے تازہ حملوں میں غزہ میں 7 افراد ہلاک اور 45 سے زائد زخمی
ترک اور ازبک صدور  کی ترکستان میںترک ریاستوں کی تنظیم کے اجلاس کے دوران ملاقات