ایک میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک ایرانی میزائل حملے نے سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر کم از کم 12 امریکی فوجیوں کو زخمی کر دیا ہے، جن میں سے دو شدید زخمی ہیں اور چند امریکی ایندھن بھرنے والے طیاروں کو نقصان پہنچا ہے ۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق عہدیداروں نے کہا کہ اس حملے میں ڈراون بھی استعمال ہوئے ۔
یہ حملہ علاقائی کشیدگی کے بڑھتے ہوئے تناظر میں ہوا ہے، جب کہ یو ایس سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران کے ساتھ چار ہفتوں کی جنگ میں 300 سے زائد امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں۔
اسٹیٹ سیکریٹری مارکو روبیو نے کہا کہ یہ جنگ 'مزید دو سے چار ہفتے' جاری رہ سکتی ہے، اورآبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول وصول کرنے سے ایران کو باز رکھنا جنگ کے بعد ایک اہم چیلنج ہوگا۔
انہوں نے اس اقدام کو 'غیر قانونی' اور 'دنیا کے لیے خطرناک' قرار دیا۔
اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر وسیع پیمانے پر حملوں کے بعد تیل کی قیمتیں فی بیرل 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں، جبکہ امریکی اسٹاک میں کمی آئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے توانائی شعبے پر حملوں کو معطل کر دیا۔
یمن میں حوثی باغیوں نے اشارہ دیا کہ وہ جنگ کو وسیع کر سکتے ہیں۔ اس گروپ نے، جو ملک کے بڑے حصے پر کنٹرول رکھتا ہے، کہا کہ 'ان کی انگلیاں براہِ راست فوجی مداخلت کے لیے ٹرگر پر ہیں' اگر مزید ریاستیں تہران کے خلاف لڑائی میں شامل ہوں، یا اگر امریکہ یا اسرائیل ریڈ سی کو آپریشنز کے لیے استعمال کیا۔
امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں، ایران نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جو عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے ایک اہم شریان ہے، اور اس نے دنیا بھر کی مارکیٹوں کو بے چین کر دیا ہے۔
ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں ڈرونز اور میزائلوں کی لہروں کے ذریعے اسرائیل، اردن، عراق اور خلیجی ممالک جو امریکی فوجی اثاثوں کی میزبانی کرتے ہیں کو نشانہ بنایا ، جن کے نتیجے میں جانی نقصان اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔








