دنیا
3 منٹ پڑھنے
جنگ بندی کا انحصار پوٹن پر ہے: ٹرمپ
ٹرمپ سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا پوٹن کے لیے جنگ بندی کی  مہلت  اب بھی برقرار ہے تو انھوں نے وائٹ ہاؤس میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ 'یہ ان پر منحصر ہے،ہم دیکھیں گے کہ وہ کیا کہتے ہیں
جنگ بندی کا انحصار پوٹن پر ہے: ٹرمپ
/ AP

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ روس اور یوکرین کی جنگ روکنے کا فیصلہ مکمل طور پر ولادیمیر پیوٹن پر منحصر ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ وہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ یا اس کے بغیر پوٹن سے ملاقات کے لیے تیار ہیں تاکہ  اس قتل عام کو روکا جا سکے'۔

ٹرمپ سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا پوٹن کے لیے جنگ بندی کی  مہلت  اب بھی برقرار ہے تو انھوں نے وائٹ ہاؤس میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ 'یہ ان پر منحصر ہے،ہم دیکھیں گے کہ وہ کیا کہتے ہیں.

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا ٹرمپ کے روسی رہنما کے ساتھ ملاقات  سے پہلے پوٹن اور  زیلنسکی کے درمیان ملاقات کی ضرورت ہے تو  صدر نےاس کا  جواب نہیں میں  دیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ 'وہ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں اور میں اس قتل عام  کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کروں گا۔'

اسی دن پیوٹن نے ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے لیے متحدہ عرب امارات کو ممکنہ مقام کے طور پر پیش کیا اور اسے 'کافی مناسب جگہ' قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ماسکو اور واشنگٹن دونوں نے مذاکرات میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

زیلنسکی کے ساتھ ممکنہ سہ فریقی سربراہی اجلاس کے بارے میں پوٹن نے کہا کہ انہیں اصولی طور پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن انہوں نے اس طرح کے اجلاس کے انعقاد سے پہلے "ضروری حالات پیدا کرنے" کی ضرورت پر زور دیا۔

روسی صدر کے معاون یوری اوشاکوف نے کہا کہ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے ماسکو میں ہونے والی بات چیت کے دوران سہ فریقی ملاقات کا امکان ظاہر کیا تھا۔

تاہم، کریملن نے کہا ہے کہ وہ اس متبادل  سے متعلق بات چیت میں شامل نہیں ہے اور ٹرمپ اور پوٹن کے درمیان ایک کامیاب دو طرفہ سربراہی اجلاس کے انعقاد پر توجہ مرکوز کر رہا ہے.

اپنے پہلے دور میں ٹرمپ اور پیوٹن نے قریبی رابطے برقرار رکھے، کم از کم پانچ   بالمشافمہ ملاقاتیں کیں ۔

ان کی بات چیت میں شام سے لے کر یوکرین اور اسلحے پر کنٹرول جیسے عالمی مسائل کا احاطہ کیا گیا۔

ٹرمپ نے اب اپنے معاونین کو ہدایت کی ہے کہ وہ پوٹن کے ساتھ ایک نئی بات چیت کا انتظام کریں، جس سے ممکنہ طور پر یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے مقصد سے ایک سربراہی اجلاس کی راہ ہموار ہوگی۔

اگرچہ کریملن نے دعوت نامے کے زیر التوا ہونے کی خبروں کو زیادہ اہمیت نہیں دی ہے لیکن ٹرمپ کا اصرار ہے کہ اس کی تیاریاں جاری ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اور پوٹن کی نئی ملاقات ذاتی سفارتکاری کی واپسی کی علامت ہو سکتی ہے جس نے دونوں رہنماؤں کے سابقہ تعلقات کی وضاحت کی تھی۔

دریافت کیجیے
امریکہ: چین کے ساتھ مذاکرات "بہت کامیاب" رہے ہیں
امریکہ نے یوکرین کے لیے  $2.68 بلین کے دفاعی پیکیج کی منظوری دے دی
چلی: سابق صدر نے اقوام متحدہ کے سربراہ کی دوڑ سےنام واپس لے لیا
ایران نےمذاکرات میں دوبارہ شامل ہونے کا شرط نامہ پیش کردیا
امریکہ کا منشیات کی ترسیل کرنے والے جہاز پر حملہ، 4 افراد ہلاک
اسرائیل کا غزہ پر حملہ، چار فلسطینی ہلاک
ڈیموکریٹ سینیٹر نے اسرائیل کو 2.8 بلین ڈالر کے اسلحے  کی فروخت روک دی
ترک صدر ایردوان نیویارک روانہ،جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے
ایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی   اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
صدر ایردوان کا یوم غازی کے حوالے سے پیغام
یورپ میں تعلیمی بحران: PISA کے نتائج تاریخ کی کم ترین سطح پر
سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا امریکہ کی طرف سے صدرِ فلسطین کو ویزا نہ جاری کرنے پر اظہارِ افسوس
پاکستان میں دہشت گرد حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 31 ہو گئی
اسرائیلی فوج کو تین سالہ جنگوں کے بعد عسکری سازو سامان میں 'شدید کمی' کا سامنا ہے: رپورٹ
صدر ایردوان:"ہم نے ترکیہ کو دنیا کے سب سے بڑے فضائی نیٹ ورکس  میں شامل کیا ہے"