سیاست
3 منٹ پڑھنے
ترکیہ اور پاکستان کا فلسطینی عوام کے لیے اپنی حمایت کا ایک بار پھر اعادہ
صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان فلسطینی عوام کو ہر ممکنہ سیاسی، سفارتی، انسانی اور اخلاقی حمایت فراہم کرنے کے موقف کو جاری رکھے گا۔
ترکیہ اور پاکستان کا فلسطینی عوام کے لیے اپنی حمایت کا ایک بار پھر اعادہ
فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا عالمی دن ان کے حقوق اور ریاست کے قیام کی جدوجہد کے لیے عالمی حمایت کو اجاگر کرتا ہے۔ / Reuters

انقرہ اور اسلام آباد نے 29 نومبر کو فلسطینی عوام کے ساتھ بین الاقوامی یکجہتی کے دن کے موقع پر مسئلہ فلسطین کے لیے ایک منصفانہ اور پائیدار حل کے مطالبے کو اعادہ کیا۔

وزارتِ خارجہ نے ہفتہ کو جاری ایک بیان میں  مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے ترکیہ کی طویل المدتی وابستگی پر زور دیا۔

بیان میں ترکیہ کی 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، خودمختار اور متصل ریاستِ فلسطین  کے قیام کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا گیا ہے ایسی ریاست خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے ناگزیر ہے۔

انقرہ نے یہ بھی کہا کہ فلسطینیوں کے لیے اس کی حمایت 'متزلزل نہیں' ہے اور موجودہ علاقائی کشیدگی اور انسانی مسائل کے درمیان فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

بیان میں بین الاقوامی برادری پر زور  دیا گیا  کہ وہ ایک جامع حل کے لیے اپنی کوششیں تیز کرے اور ترکیہ نے فلسطینی عوام کے حقوق اور آزادیوں کے تحفظ کے لیے تمام اقدامات میں حصہ لینے کی اپنی آمادگی کی تصدیق کی۔

اسرائیلی فورسز کے مکمل انخلاء کا مطالبہ

پاکستانی خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق اسلام آباد نے بھی فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے بین الاقوامی دن کے موقع پر اپنے حمایتی موقف کی توثیق کی۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کو ہر ممکنہ سیاسی، سفارتی، انسانی اور اخلاقی حمایت فراہم کرتا رہے گا۔

ہم 1967ء کے جون سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، خودمختار، قابلِ عمل اور متصل فلسطینی ریاست کہ جس کا دارالحکومت مشرقی القدس  ہو کے قیام کے لیے اپنی ثابت قدم حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔

زرداری نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے اور اسلام آباد کی فلسطینی معاملے کی حمایت انسانی عظمت، انصاف اور مساوات جیسی عالمی اقدار پر مبنی ہے۔

دوسری طرف، پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ فلسطینیوں نے اس دور کے  تباہ کن المیوں میں سے  ایک کا سامنا کیا ہے، انہیں خود ارادیت کا حق نہیں دیا گیا، ان کی زمینیں چھینی گئیں، اور ان کا امن تباہ کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ 'ان سنگین حقائق کے پیشِ نظر، بین الاقوامی قانون کے مطابق اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف کیے گئے جنگی جرائم اور نسل کشی کے اقدامات کے لیے مکمل اور معتبر احتساب ہونا چاہیے۔'

انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ فلسطینی عوام مستقل امن اور خوشحالی کے حقدار ہیں، غزہ سمیت قبضہ شدہ فلسطینی اراضی سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلاء کا مطالبہ کیا ۔

فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس اور اسرائیل مصر، قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں اور امریکہ کی حمایت کے ساتھ ایک جنگ بندی معاہدے تک پہنچے، جس کا پہلا مرحلہ 10 اکتوبر کو نافذ ہوا۔

اسرائیل نے اکتوبر 2023 کے بعد سے غزہ میں حملوں میں تقریباً 70,000 افراد، جن میں اکثریت خواتین اور بچے ہیں، ہلاک کر دیے اور 170,000 سے زائد کو زخمی کیا ہے۔

دریافت کیجیے
قالیباف: ہمیں ہمسایہ ممالک سے سیکیورٹی اور اقتصادی تعاون کے پیغامات موصول ہوئے ہیں
امریکی سفیر: شام میں اسرائیلی حملے کے پیچھے غلط معلومات کا ہاتھ تھا
کولمبیا میں زلزلے سے اموات کی تعداد میں اضافہ؛ ترکیہ کی انسانی امداد کی فراہمی میں تیزی
یوکرینی ڈراونز نے روسی علاقے ثمارا میں ایک صنعتی تنصیب اور اوزون گودام کو نشانہ بنایا
ترکیہ کی صدر ایردوان کے خلاف تبصروں پر اسرائیل کی مذمت
ایرانی فوج دفاعی نظریے سے حملہ آور نظریے کی طرف مڑ رہی ہے: فوجی ترجمان
امریکہ: چارٹر طیارے کے حادثے میں تمام 8 افراد ہلاک
روس: ماسکو ایران پر کوئی دباؤ نہیں ڈال رہا
امریکہ: ٹریژری بانڈوں کی پیداوار ایک بار پھر بڑھ گئی
فلسطین: عالمی کمپنیاں اسرائیل کے 'ای 1' منصوبے میں شرکت سے گریز کریں
پاکستان: ڈار۔شیبانی ملاقات، دوطرفہ تعاون و علاقائی صورتحال پر بات چیت
ترکیہ کی زیرِ آب گاڑی نمائش کے لئے پیش کر دی گئی
اسرائیل کی جنوبی لبنان پرگولہ باری
شامی وزیر  خارجہ پاکستان میں، دو طرفہ مذاکرات کریں گے
شمالی چین میں آتشزدگی، 8 افراد ہلاک، 3 زخمی