ترکیہ
3 منٹ پڑھنے
روٹے نے شاندار طریقے سے نیٹو سربراہی اجلاس کی میزبانی پر صدر ایردوان کا شکریہ ادا کیا
سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ ترکیہ آئندہ سیکیورٹی حکمت عملی میں انتہائی اہم ہے،
روٹے نے شاندار طریقے سے نیٹو سربراہی اجلاس کی میزبانی پر صدر ایردوان کا شکریہ ادا کیا
انقرہ میں نیٹو رہنماؤں کے سربراہی اجلاس سے قبل نیٹو کے سیکرٹری جنرل روٹے پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔ / تصویر: رائٹرز

نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک رُوٹے نے صدر رجب طیب ایردوان اور ان کی ٹیم کا نیٹو اتحاد کے قائدین کو ایک "شاندار مقام" میں میزبانی کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

 جبکہ انہوں نے وہ اعداد و شمار بھی جاری کیے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپی نیٹو اتحادی اور کینیڈا پہلے ہی اپنے مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے قریباً 4 فیصد کے برابر دفاعی اخراجات بڑھا چکے ہیں۔

انہوں نے سوموار کو اجلاس کی شام انقرہ میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا: “پچھلے سال، یورپی اتحادیوں اور کینیڈا نے بنیادی دفاع پر تقریباً 20 فیصد زیادہ خرچ کیا جو انہوں نے ایک سال قبل کیا تھا۔”

انہوں نے کہا کہ 2025 اور 2026 کو ملا کر دیکھیں تو یہ اضافی سرمایہ کاری 258 بلین ڈالر بنتی ہے، اور یہ رجحان جاری ہے۔

گزشتہ سال کے سربراہی اجلاس میں نیٹو ممالک نے اتفاق کیا تھا کہ 2035 تک مجموعی دفاعی خرچ کو GDP کے 5 فیصد تک بڑھایا جائے گا، جس میں 3.5 فیصد بنیادی دفاعی سرمایہ کاری کے لیے اور اضافی 1.5 فیصد سکیورٹی سے متعلق اشیاء کے لیے مختص کیا جائے گا۔

رُوٹے نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ رکن ممالک انقرہ میں اس ہدف کو پورا کرنے کے واضح منصوبے لے کر آئیں گے۔

انہوں نے مزید کہا: "انقرہ میں، میں توقع کرتا ہوں کہ ممالک اس 5 فیصد کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے واضح، ٹھوس اور قابلِ اعتبار منصوبے پیش کریں گے۔ اور جو شواہد ہم نے اب تک دیکھے ہیں وہ متاثر کن ہیں۔"

رُوٹے نے نشاندہی کی کہ ایک دہائی کے منصوبے کے صرف ایک سال گزرتے ہی یورپی اتحادی اور کینیڈا پہلے ہی اپنے GDP کے قریب 4 فیصد دفاع اور سکیورٹی پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

رُوٹے نے اتحادیوں سے کہا کہ وہ محض بجٹ کے اعلانات سے آگے بڑھیں اور اخراجات کو ٹھوس عسکری طاقت میں بدلا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اتحادیوں کو "اقتصادی سوچ کو عسکری صلاحیتوں میں تبدیل" کرنا ہوگا اور رقم کو میزائلوں اور انٹرسیپٹرز پر استعمال میں لانا ہوگا، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ مالی عہد و پیمان اب حقیقی ہارڈویئر میں بدلنے چاہئیں۔

نیٹو کے ممالک متوقع طور پر منگل کو دفاعی صنعت کے فورم میں "دسوں ارب ڈالر کے نئے معاہدوں" کا اعلان بھی کریں گے۔

رُوٹے نے زور دیا کہ یوکرین کو متحدہ اتحادی حمایت مسلسل ملتی رہنی چاہیے، خاص طور پر فضائی دفاع کے حساس شعبے میں، اور انہوں نے اتحادیوں اور شراکت داروں سے تنازع کے دوران اپنی مدد برقرار رکھنے اور گہرا کرنے کی اپیل کی۔

رُوٹے نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ترکیہ نیٹو کی مستقبل کی سلامتی حکمتِ عملی کے لیے مجموعی طور پر واقعی اہم رہتا ہے، اور کہا کہ ملک کی جغرافیائی حیثیت اور اتحاد میں اس کی قیادت "اہم" ہے۔

نیٹو کے سربراہانِ مملکت اور حکومت 7-8 جولائی کو انقرہ میں اتحاد کے 2026 کے سربراہی اجلاس کے لیے ملاقات کر رہے ہیں، جس کی میزبانی ترکیہ کر رہا ہے۔

دو روزہ سربراہی اجلاس کا مرکز 2025 کے اجلاس میں طے کیے گئے دفاعی اخراجات کے وعدوں پر عملدرآمد، یوکرین کے لیے فوجی حمایت کو برقرار رکھنا، اور دفاعی صنعتی پیداوار کو بڑھانا ہوگا۔

یہ اجلاس ٹرانس اٹلانٹک بوجھ کی تقسیم کے حوالے سے دوبارہ شروع ہونے والی بحث اور روس-یوکرین جنگ کے بارے میں جاری غیر یقینی صورتحال کے درمیان ہو رہا ہے۔ یوکرائنی صدر وولودیمیر زیلنسکی کی بھی توقع ہے کہ وہ سربراہی اجلاس کی کارروائیوں میں شرکت کریں گے۔

 

دریافت کیجیے
کراچی کے قریب لاپتہ ہونے والے بوئنگ کارگو طیارے کی تلاش جاری
ایردوان نے نیٹو اتحادیوں میں دفاعی تعاون پر پابندیوں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا
نیٹو رہنما سمٹ کے آخری دن آرکٹک، ایران اور یوکرین کے معاملات پر توجہ دیں گے
یورپی یونین اور نیٹو کی طرف سے"اتحاد" کا پیغام
ایران کی طرف سے اسلام آباد فائر بندی مفاہمتِ یادداشت کی خلاف ورزی پر امریکہ کی مذمت
امریکہ  نے ایران پر تازہ حملوں کی لہر شروع کر دی
ترکیہ طویل فاصلے کے کروز میزائل 'آتماجا' فراہم کرے گا: نیٹو نائب سربراہ
صدر ایردوان کا نیٹو سمٹ کے آغاز پر انقرہ میں ٹرمپ کا خیرمقدم
دنیا بھر کی نظریں انقرہ پر مرکوز
نیٹو کا ترکیہ کو بھی  شامل کرتے ہوئے عظیم سطح کے بین الاقوامی دفاعی منصوبوں کا اعلان
نیٹو انقرہ سمٹ دفاعی صنعتی فورم کے انعقاد سے شروع
چین میں طوفانوں سے کم ازکم 15افراد ہلاک، سینکڑوں زخمی
ایران نے آبنائے ہر،مز میں تجارتی بحری جہازوں پر میزائل داغے: رپورٹ
روٹے نے شاندار طریقے سے نیٹو سربراہی اجلاس کی میزبانی پر صدر ایردوان کا شکریہ ادا کیا
تہران میں خامنہ ای کی رسمِ جنازہ میں لاکھوں افراد نے شرکت کی