ایشیا
2 منٹ پڑھنے
غزہ میں امن افواج کی تعداد 20,000 ہو سکتی ہے: انڈونیشیا
انڈونیشیا  کے  صدر پرابوو سبیانتو کے ترجمان نے منگل کو کہا کہ غزہ کے لیے تجویز کردہ کثیر القومی امن فوج کی تعداد تقریبا 20,000 ہو سکتی ہے، جبکہ انڈونیشیا کا اندازہ ہے کہ   وہ 8,000 تک فوجی فراہم کر سکتا ہے
غزہ میں امن افواج کی تعداد 20,000 ہو سکتی ہے: انڈونیشیا
انڈونیشیا / Reuters
11 فروری 2026

 انڈونیشیا  کے  صدر پرابوو سبیانتو کے ترجمان نے منگل کو کہا کہ غزہ کے لیے تجویز کردہ کثیر القومی امن فوج کی تعداد تقریبا 20,000 ہو سکتی ہے، جبکہ انڈونیشیا کا اندازہ ہے کہ   وہ 8,000 تک فوجی فراہم کر سکتا ہے

پرابوو کو اس ماہ کے آخر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے  امن بورڈ کے پہلے اجلاس کے لیے واشنگٹن مدعو کیا گیا ہے۔

انڈونیشیا  نے گزشتہ سال غزہ کی امن فوج کے لیے 20,000 فوجیوں کی تعیناتی  کا وعدہ کیا تھا، لیکن اس نے کہا ہے کہ وہ فورس کے مینڈیٹ کے بارے میں مزید تفصیلات کا انتظار کر رہا ہے تاکہ تعیناتی کی تصدیق کی جا سکے۔

صدارتی ترجمان پراسیٹیو ہادی نے  صحافیوں کو بتایا  کہ  تمام ممالک کی ملا کر کُل تعداد تقریبا 20,000 ہے، البتہ فوجیوں کی درست تعداد ابھی تک زیر بحث نہیں آئی لیکن انڈونیشیا  کا کہنا ہے کہ  وہ 8,000 تک فوجی فراہم کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم صرف خود کو تیار کر رہے ہیں اگر کوئی معاہدہ ہو جائے اور ہمیں امن فوج بھیجنی پڑے۔

ترجمان نے یہ بھی کہا کہ  امن بورڈ کی مستقل رکنیت کے لیے 1 ارب ڈالر ادا کرنے سے پہلے مذاکرات ہوں گے۔

 انہوں نے واضح نہیں کیا کہ مذاکرات کس کے ساتھ ہوں گے، اور کہا کہ انڈونیشیا نے ابھی تک پرابوو کی بورڈ میٹنگ میں شرکت کی تصدیق نہیں کی۔

 دریں اثنا ،انڈونیشیا کی وزارت دفاع نے اسرائیلی میڈیا میں ان رپورٹس کی بھی تردید کی ہے کہ انڈونیشی فوجیوں کی تعیناتی غزہ کے رفح اور خان یونس میں ہوگی۔

وزارت دفاع کے ترجمان ریکو ریکارڈو سیرات نے رائٹرز کو ایک پیغام میں بتایا کہ انڈونیشیا کے غزہ میں امن اور انسانی امداد میں حصہ ڈالنے کے منصوبے ابھی تیاری کے مراحل میں ہیں، آپریشنل معاملات ابھی حتمی شکل میں نہیں آئے اور جب کوئی سرکاری فیصلہ  اور بین الاقوامی مینڈیٹ واضح ہو جائے گا تو اعلان کیا جائے گا۔

 

دریافت کیجیے
سعودی عرب نے متعدد ایرانی ڈرون حملوں کو ناکام بنا دیا
توانائی بحران زور پکڑ رہا ہے تو ایران کے پیٹرول کے بنیادی ڈھانچوں پر حملے جاری ہیں
روس: اصفہان پر حملوں میں ہمارے قونصل خانے کو نقصان پہنچا ہے
یورپی یونین: مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد کا درجہ"ناقابلِ قبول" ہے
ٹرمپ انتظامیہ: برّی آپریشن پر غور کر رہی ہے
امریکہ-ایران جنگ کا نتیجہ، تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں
ہم، بین الاقوامی پیٹرول ذخائر کو کھولنے کی حمایت کرتے ہیں: ریوز
امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا:ایران
ایرانی پاسدارانِ انقلاب: 'جنگ کے خاتمے کا فیصلہ ہم کریں گے'
اسرائیل نے لبنانی مارونی کیتھولک پادری کو ہلاک کر دیا
امریکہ: افغانستان 'ناحق گرفتاریوں کا حامی ملک' ہے
ایردوان: ترکیہ کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا 'کوئی بھی جواز قابل قبول نہیں'
ایرانی بیلسٹک میزائل حملہ ترکیہ نے ناکام بنادیا
بریکنگ نیوز
ایران: امریکہ اور اسرائیل کے حامی شہریوں کی جائدادیں ضبط کر لی جائیں گی