یونان کی ایک عدالت نے مغربی تھریس میں ترک اقلیت کے چار افراد کو زانتی کے چِینار مسجد میں احتجاج سے منسلک واقعات کے سلسلے میں مجرم قرار دے کر ہر ایک کو 17 ماہ قید کی سزا سنائی، تاہم سزائیں معطل کر کے مالی جرمانوں میں تبدیل کر دی گئیں۔
زانتی کی عدالت نے ملزمان حسین بلتاجی، اوزان احمد اوغلو، بحری بلکو اور مراد کوسے کو اس واقعے سے متعلق دو الگ الگ الزامات میں مجرم قرار دیا۔
یہ مقدمہ مغربی تھریس میں چِینار مسجد کے سامنے پیش آنے والے واقعات سے متعلق ہے، جہاں ریاستی نامزد مذہبی حکام کی موجودگی پر کشیدگی پیدا ہوئی۔
11 اکتوبر 2024 کو زانتی مدرسے کے افتتاحی موقع پر ریاست کی طرف سے نامزد مفتیوں نے جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد میں داخل ہونے کی کوشش کی، لیکن مقامی جماعت کے بعض افراد نے احتجاج کرتے ہوئے انہیں داخلے سے روک دیا۔
یورپ میں مغربی تھریس ترکوں کی فیڈریشن نے ان سزاؤں کی مذمت کی، فیصلہ غیر جمہوری قرار دیا اور مجرم قرار دیے گئے افراد کی حمایت کا اظہار کیا۔
فیڈریشن نے کہا کہ یہ مقدمہ مفتیوں کی تقرری کے حوالے سے طویل المدتی تنازعے اور ترک اقلیت کے مذہبی حقوق سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔
اس نے یونان کی اس پریکٹس پر تنقید کی کہ مفتیوں کو ریاست کے ذریعے نامزد کیا جاتا ہے، بجائے اس کے کہ اقلیتی کمیونٹی کو اپنے مذہبی رہنماؤں کے انتخاب کا اختیار دیا جائے۔
بیان کے مطابق ملزمان نے ترک اقلیت کی جانب سے منتخب کیے گئے مفتی کی حمایت کی اور ریاستی نامزد مفتیوں کی مخالفت کی۔ فیڈریشن کا موقف تھا کہ عدالت کا فیصلہ مغربی تھریس کی ترک اقلیت کی مذہبی خود مختاری کو متاثر کرتا ہے۔
مقدمہ تقریباً 14 گھنٹے جاری رہا اور اس دوران ترک اقلیت کے بڑے تعداد میں افراد زانتی کی عدالت کے باہر جمع ہو کر ملزمان کے حق میں حمایت کا اظہار کرتے رہے۔
یونان میں مغربی تھریس کی ترک اقلیت کی خدمت کرنے والی خیراتی بنیادوں کے انتظام اور مفتیوں کے تقرر ریاست کے ذریعے کیے جاتے ہیں، جبکہ اقلیتی برادری طویل عرصے سے اپنے مذہبی رہنماؤں کے انتخابات کا حق مانگ رہی ہے۔













