دنیا
2 منٹ پڑھنے
امریکہ نے کشمیر حملے کا ذمہ دارٹہرائے گئے گروپ کو دہشت گرد قرار دے دیا
وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ریزسٹنس فرنٹ (TRF) گروپ کو لشکر طیبہ  کا پیش رو اور پراکسی قرار دیا، جسے اقوام "دہشت گرد"  گروپ  قرار دے چکا ہے۔
امریکہ نے کشمیر حملے کا ذمہ دارٹہرائے گئے گروپ کو دہشت گرد قرار دے دیا
مارکو روبیو، وزیر خارجه آمریکا / عکس :  Reuters / Reuters

امریکہ نے کشمیر حملے کا ذمہ دارٹہرائے گئے گروپ کو دہشت گرد قرار دے دیا

امریکہ نے ماہِ اپریل میں مقبوضہ   کشمیر میں ہونے والے حملے کہ جس نے گزشتہ  دہائی میں بھارت  اور پاکستان کے درمیان بدترین تصادم کو جنم  دیا کے ذمہ دار ٹہرائے گئے  ایک خفیہ گروپ کو "دہشت گرد" قرار دے دیا۔

وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ریزسٹنس فرنٹ (TRF) گروپ کو لشکر طیبہ  کا پیش رو اور پراکسی قرار دیا، جسے اقوام "دہشت گرد"  گروپ  قرار دے چکا ہے۔

روبیو نے ایک بیان میں کہا کہ یہ "دہشت گرد" کا عہدہ "قومی سلامتی کے مفادات کے تحفظ، دہشت گردی سے نمٹنے اور پہلگام حملے کے لیے انصاف کے مطالبات کو نافذ کرنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے عزم کا مظہر ہے۔"

اپریل میں پہلگام میں ایک حملے میں 26 افراد، جن میں تقریباً سبھی ہندو تھے، مسلح حملہ آوروں کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔

پکی تصدیق

ہندوستانی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں واشنگٹن کے فیصلے کو "ہندوستان-امریکہ انسداد دہشت گردی تعاون کا مضبوط ثبوت " قرار دیا۔

ٹی آر ایف کے بارے میں پہلے بہت کم معلومات دستیاب تھیں، جس نے ابتدائی طور پر پہلگام حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

لیکن جیسے جیسے عوامی تنقید بڑھتی گئی، گروپ نے حملے کی ذمہ داری واپس لے لی۔

پہلگام کے پر تشدد واقعات،  1999 کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان جھڑپوں کا موجب بنا، جس میں دونوں  فریقین کے  70 سے زیادہ لوگ مارے گئے۔

جھڑپوں کے دوران، پاکستان نے رافیل لڑاکا طیاروں سمیت کئی ہندوستانی طیاروں کو مار گرایا۔

مسئلہ کشمیر

مقبوضہ کشمیر کے علاقے میں باغی 1989 سے نئی دہلی حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ بہت سے مسلمان کشمیری اس خطے کے یا تو پاکستانی حکمرانی میں شامل ہونے یا ایک آزاد ریاست کے طور پر متحد ہونے کے مقصد کی حمایت کرتے ہیں۔

بھارت کشمیر کی شورش کو "پاکستان کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی" قرار دیتا ہے۔ پاکستان اور بہت سے کشمیری اس الزام کو مسترد کرتے ہیں اور جدوجہد کو آزادی کی ایک جائز جنگ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اس تنازعے میں دسیوں ہزار شہری، باغی اور ریاستی فورسز اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

دوسری جانب پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی زیر نگرانی ریفرنڈم کے کشمیری عوام کے مطالبے کی "صرف سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت کرتا ہے"۔

دریافت کیجیے
ترک صدر ایردوان نیویارک روانہ،جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے
ایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی   اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
صدر ایردوان کا یوم غازی کے حوالے سے پیغام
یورپ میں تعلیمی بحران: PISA کے نتائج تاریخ کی کم ترین سطح پر
سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا امریکہ کی طرف سے صدرِ فلسطین کو ویزا نہ جاری کرنے پر اظہارِ افسوس
پاکستان میں دہشت گرد حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 31 ہو گئی
اسرائیلی فوج کو تین سالہ جنگوں کے بعد عسکری سازو سامان میں 'شدید کمی' کا سامنا ہے: رپورٹ
صدر ایردوان:"ہم نے ترکیہ کو دنیا کے سب سے بڑے فضائی نیٹ ورکس  میں شامل کیا ہے"
پاکستان میں مسجد کے قریب دھماکہ،  کم ازکم  15 افراد جاں بحق، 50 سے زائد زخمی
ایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی،  لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
روس اور یوکرین میں کل شب کے حملوں میں متعدد افراد زخمی
جنوبی کوریا نے آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار کردیا؛ جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے شکار ایک محلے سے مزید 12 لاشیں بازیاب
بحری خلاف ورزیاں،پاک-بھارت کا ایک دوسرے سے احتجاج
اقوام متحدہ: "امریکا کے خلاف ایران میں جنگی جرائم کے مرتکب ہونے کے معقول دلائل موجود ہیں"