یوکرین نے کہا ہے کہ روس نے ملک بھر پر حملوں میں شدّت پیدا کر دی ہے۔
یوکرین کی اعلان کردہ یکطرفہ جنگ بندی بدھ کے روز نافذ ہونے کی توقع ہے اور اس دوران یوکرین نے روس کو ملک بھر میں حملوں میں شدت لانے کا قصوروار ٹھہرایا ہے۔
زاپوریژہیا کے علاقائی حکام کے مطابق ماسکو نے صبح کے وقت شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے۔
رواں ہفتے میں روس اور یوکرین دونوں نے مختلف تاریخوں کے لیے یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ روس چاہتا ہے کہ اس کی جنگ بندی 9 مئی کو متوقع یومِ فتح کی تقریبات کے ساتھ مطابقت رکھے، جبکہ ولادی میر زلنسکی نے ماسکو کو جنگ بندی کی بات کرتے ہوئے مہلک حملے جاری رکھنے پر "مکمل منافقت" کا مرتکب قرار دیا ہے۔
بھاری جانی نقصان
یوکرین کے وزیر داخلہ ایگور کلائیمنکو نے کہا ہے کہ جنگ بندی سے قبل پولتاوا، خارکیف، دونیتسک، دنیپرو، زاپوریژہیا، خرسون، اوڈیسا، چرنیہیو اور سومی کے علاقوں میں روسی حملوں کے نتیجے میں 27 افراد ہلاک اور کم از کم 120 زخمی ہوگئے ہیں۔ کراماتورسک سے تازہ اطلاعات کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 28 ہو گئی ہے۔
حملوں کی تفصیلات:
زاپوریژہیا پر حملوں میں 12 شہری ہلاک ہوئےہیں اور ولادی میر زلنسکی نے کہا ہے کہ اس حملے کا"کوئی فوجی جواز نہیں تھا"۔
کراماتورسک شہر کے مرکز پر حملے میں 6 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
دنیپرو میں 4 شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔
روسی حکام کے مطابق کریمیا پر یوکرینی ڈرون حملوں میں 5 شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔
یوکرین کے وزیر خارجہ اینڈری سائبیہا نے ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "جنگ بندی کے نفاذ سے چند گھنٹے پہلے بھی روس رُکنے کی بجائے دہشت گردی میں اضافہ کر رہا ہے"۔
سفارتی روابط
یہ حملے حالیہ ہفتوں کے مہلک ترین واقعات میں شمار ہو رہے ہیں۔ سفارتی سطح پر بھی ایک غیر متوقع پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے ٹیلی فونک ملاقات کی ہے۔ ملاقات لاوروف کی درخواست پرطے پائی ہے۔
امریکہ وزارتِ خارجہ کے مطابق مذاکرات کے دوران امریکہ۔روس تعلقات، یوکرین جنگ اور ایران سے متعلقہ امور زیر بحث آئے ہیں۔ تاہم تفصیلی معلومات جاری نہیں کی گئیں۔










