سیاست
3 منٹ پڑھنے
ٹرمپ نے زیلنسکی سے کہا کہ ماسکو پر حملہ نہ کرے۔
ٹرمپ کے حالیہ بیانات فنانشل ٹائمز کی اس خبر کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ کے صدر ،یوکرین کو روس کے خلاف حملے تیز کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔
ٹرمپ نے زیلنسکی سے کہا کہ ماسکو پر حملہ نہ کرے۔
Trump: Raketat Patriot për Ukrainën "tashmë po dërgohen" nga Gjermania / AA
16 جولائی 2025

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کو ماسکو کو نشانہ بنانے سے گریز کرنا چاہیے۔ یہ بیان اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جو منگل کو "دی فنانشل ٹائمز" نے شائع کی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے زیلنسکی کو روس پر حملوں میں اضافہ کرنے کی ترغیب دی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ٹرمپ نے مبینہ طور پر زیلنسکی سے پوچھا کہ اگر امریکہ کی طرف سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار فراہم کیے جائیں، تو کیا وہ ماسکو پر حملہ کرے گا؟

پیر کے دن، ٹرمپ نے اعلان کیا  ہے کہ کیف کو مزید ہتھیار بھیجے جائیں گے اور روس کی یوکرین میں فوجی کارروائیوں کے سبب روس پر زیادہ سخت مؤقف اپنایا جائے گا۔ انہوں نے کریملن کو 50 دن کی مہلت دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر جنگ ختم نہ ہوئی تو روس پر بڑے پیمانے پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

ٹرمپ اور نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے ایک معاہدے کا اعلان کیا، جس کے تحت یورپی نیٹو ممالک امریکہ سے اربوں ڈالر مالیت کے پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام سمیت دیگر ہتھیار خرید کر یوکرین کو فراہم کریں گے۔

اگرچہ ٹرمپ طویل عرصے سے امریکہ کے یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے کے کردار پر تنقید کرتے رہے ہیں، نیٹو نے واضح کیا ہے کہ اب زیادہ تر اسلحہ یورپ کی طرف سے بھیجا جا رہا ہے۔

ادھر جرمنی، ڈنمارک، سویڈن اور ہالینڈ جیسے یورپی ممالک نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکہ کے اس نئے منصوبے میں شامل ہوں گے یا شامل ہونے پر غور کریں گے ۔

امریکہ کو یوکرین کو مسلح کرنے میں "بوجھ بانٹنا چاہیے": یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ

یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ کایا کالاس نے کہا ہے کہ امریکہ کو یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے میں "بوجھ بانٹنا" چاہیے۔

کالاس نے برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد کہا ہے کہ"ہم صدر ٹرمپ کی جانب سے یوکرین کو مزید اسلحہ بھیجنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں، لیکن ہم یہ بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ امریکہ اس بوجھ کو دوسروں کے ساتھ بانٹے۔"
انہوں نے مزید کہا ہے کہ"اگر آپ اسلحہ دینے کا وعدہ کرتے ہیں لیکن اس کی قیمت کسی اور سے دلوانا چاہتے ہیں، تو یہ دراصل آپ کی طرف سے دیا گیا نہیں مانا جائے گا۔"

دوسری جانب، کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے منگل کو اپنے ایک بیان میں کہا  ہےکہ امریکہ، نیٹو اور یورپی یونین کی جانب سے یوکرین کو دی جانے والی فوجی امداد، کیف کی جانب سے "جنگ جاری رکھنے کے لیے ایک ترغیب" کے طور پر دیکھی جائے گی۔ ماسکو میں ایک پریس کانفرنس کے دوران پیسکوف نے کہا ہے کہ یورپی رہنماؤں کے سیاسی بیانات امن کی تلاش کے بجائے تنازعات کو ہوا دینے کی سمت جا رہے ہیں۔

پیسکوف نے مزید کہا  ہےکہ روس اب بھی یوکرین کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لیے تیار ہے اور وہ تیسرے دور کی بات چیت کے لیے تاریخوں کی تجاویز کا منتظر ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ"ہم تیار ہیں، لیکن ہمیں کیف سے کوئی تجویز موصول نہیں ہوئی۔ واشنگٹن اور یورپ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ مکالمہ چاہتے ہیں، لیکن ان کے اقدامات اس کے برعکس ہیں۔"

 

دریافت کیجیے
ایرانی رہنما: ایران دشمن کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا، ہم ہمسایہ ممالک سے معذرت خواہ ہیں
یوکرین کی ایک رہائشی عمارت پر روسی حملے میں متعدد افراد ہلاک
ایردوان اور میلونی نے مشرق وسطیٰ کے بڑھتے ہوئے بحران کے درمیان علاقائی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا
اقوام متحدہ کا مشرق وسطی میں پھیلتی ہوئی جنگ کے باعث 'سنگین انسانی ہنگامی صورتحال' کا اعلان
امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ کے پہلے 36 گھنٹوں میں 3,000 سے زیادہ فضائی حملے کیے: رپورٹ
چین: مشرقِ وسطیٰ میں احتیاط سے کام لیا جائے
یورپی یونین: ترک مصنوعات پر 'میڈ ان ای یو' لیبل چسپاں ہو گا
امریکہ: ہم بھارت کو چین کی طرح اپنا رقیب نہیں بننے دیں گے
امریکی تحقیقات میں ایرانی اسکول پر حملے میں امریکی کردار کی تائید ہوتی نظر آتی ہے — رپورٹ
نیپال میں 2025 کی بغاوت کے بعد پہلے پارلیمانی انتخابات
سعودی عرب نے 3 بیلسٹک میزائلوں کو ناکارہ کر دیا
ایران میں برّی کاروائی کا سوچنا فی الحال وقت کا زیاں ہو گا: ٹرمپ
اسرائیل: ہم نے، بیروت کے جنوبی مضافات پر، نئے فضائی حملے کئے ہیں
اسپین: ٹرمپ سے اپیلیں کرتے رہنا بالکل بے فائدہ ہے
ترک قومی خفیہ سروس کا شام میں کلیدی داعش آپریشن