ایپل کے نئے سی ای او کے طور پر مقرر ہونے والے جان ٹرنس نے ٹم کک سے عہدہ سنبھال لیا ہے جو گزشتہ 15 سال سے اس ذمہ داری پر فائز تھے۔
یہ بتایا جا رہا ہے کہ ایپل اسمارٹ فون مارکیٹ میں تو ایک بے مثال پوزیشن رکھتا ہے، لیکن مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اپنے حریفوں سے پیچھے رہ گیا ہے۔
اس تبدیلی کے ساتھ ہی، ایپل کی سپلائی چین قائم کرنے والے آپریشنز کے ماہر ٹم کک کی جگہ اب ایک ایسے انجینئر نے لے لی ہے جس نے ہارڈ ویئر ڈویلپمنٹ کے کاموں کی قیادت کی تھی۔
51 سالہ ٹرنس نے 2001 میں ایپل کی ڈیزائننگ ٹیم میں شمولیت اختیار کی تھی اور وہ ہارڈ ویئر انجینئرنگ کے سینئر وائس پریذیڈنٹ کے عہدے تک پہنچے، جہاں انہوں نے کمپنی کی تمام پروڈکٹ لائنز کے پیچھے کام کرنے والی ٹیموں کی نگرانی کی۔
ٹم کک نے پیر کے روز ملازمین کو بھیجے گئے ایک پیغام میں اپنے جانشین کی تعریف کرتے ہوئے لکھا: ""بہت کم لوگ اس بات کو سمجھتے ہیں کہ دنیا کو بدل دینے والی مصنوعات تیار کرنے کے لیے کس چیز کی ضرورت ہوتی ہے، جیسا کہ جان سمجھتے ہیں۔""
ٹرنس 9 ستمبر کو ایپل کی سالانہ پروڈکٹ لانچ تقریب میں فوری طور پر اپنی نئی ذمہ داریوں کا آغاز کریں گے۔
توقع ہے کہ ٹرنس اس تقریب میں کمپنی کا پہلا فولڈ ایبل آئی فون متعارف کروائیں گے۔
منگل کے روز سامنے آنے والی ایک سیکیورٹیز فائلنگ کے مطابق، ٹرنس کی سالانہ بنیادی تنخواہ 3 ملین ڈالرز مقرر کی گئی ہے، جو کہ ٹم کک کی بطور سی ای او ملنے والی تنخواہ کے برابر ہے اور اسٹاک آپشنز کو ملا کر پہلے سال ان کا کل معاوضہ 58 ملین ڈالرز تک پہنچنے کی امید ہے۔
ٹم کک کی تنخواہ کم ہو کر 2 ملین ڈالرز رہ جائے گی، تاہم بورڈ کے ایگزیکٹو چیئرمین کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ان کا کل تنخواہ کا پیکیج 47 ملین ڈالرز تک پہنچ سکتا ہے۔





















