ترکیہ
3 منٹ پڑھنے
ترکیہ: جنگی مجرم کی تکریم ناقابلِ قبول اور مذموم حرکت ہے
بلقانی خطے کو ماضی سے ضروری سبق حاصل کر کے ایک پُرامن، خوشحال اور مشترکہ مستقبل کی تعمیر پر توجہ دینی چاہیے: ترکیہ وزارت خارجہ
ترکیہ: جنگی مجرم کی تکریم ناقابلِ قبول اور مذموم حرکت ہے
ترکیہ کا کہنا ہے کہ ملادچ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی کوششیں خطۂ بلقان میں امن اور مصالحت کے حصول کے لیے کی جانے والی برسوں کی محنت کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ (اے اے)

ترکیہ نے ’بوسنیا کے قصاب‘ راتکو ملادیچ کے لئے آخری رسومات کے اہتمام  پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

ترکیہ وزارت خارجہ کے ترجمان اونجو کیچیلی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے، سربرینیتسا نسل کشی کے سرکردہ ذمہ داروں میں شمار ہونے والے 'راتکو ملادیچ' المعروف ’’بوسنیا کے قصاب‘‘ کی آخری رسومات کے انعقاد کے حوالے سے، بیان جاری کیا ہے۔

کیچیلی نے کہا ہے کہ ’’بین الاقوامی عدالتوں کی طرف سے نسل کُشی، انسانیت سوز جرائم اور جنگی جرائم کے مجرم قرار دیئے گئے 'راتکو ملادیچ' کی آخری رسومات کو اس کے سنگین جرائم  سے انکار کے لیے استعمال کیا جانا ناقابل قبول ہے۔‘‘

’’امن اور مفاہمت کی کوششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے‘‘

کیچیلی نے کہا ہے کہ متعلقہ عدالتی فیصلوں کو مسترد کرنے یا سزا یافتہ مجرم کو بطور ہیرو پیش کرنے کی کوشش نے متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے دکھ میں مزید اضافہ کیا ہے۔علاوہ ازیں اس طرح کے اقدامات خطے میں امن اور مفاہمت کے لیے کئی برسوں سے جاری پُرعزم کوششوں کے لئے  بھی نقصان دہ ہیں۔

کیچیلی نے کہا ہے کہ بلقانی خطے کو ماضی سے ضروری سبق حاصل کر کے  ایک پُرامن، خوشحال اور مشترکہ مستقبل کی تعمیر پر توجہ دینی چاہیے۔

 انہوں نے سربرینیتسا نسل کشی کے متاثرین سمیت جنگِ بوسنیا کے دوران جان گنوانے والے تمام بے گناہ افراد کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے اہل خانہ سے اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔

ملادیچ کو جنگی جرائم کا مجرم قرار دیا گیا تھا

واضح رہے کہ ہیگ کی اقوام متحدہ عدالت نے 1992 سے 1995 تک جاری رہنے والی جنگِ بوسنیا کے دوران ہونے والے مظالم میں  کردار ادا کرنے کے جُرم میں راتکو ملادیچ المعروف ’’بوسنیا کے قصاب‘‘کو مجرم قرار دیا تھا۔ ان جرائم میں 1995 کی سربرینیتسا نسل کشی بھی شامل تھی۔

ملادیچ 27 اگست کو ہیگ میں عمر قید کی سزا کاٹتے ہوئے انتقال کر گیا۔ اس کی میت بعد ازاں بلغراد منتقل کی گئی جہاں پیر کو تدفین سے قبل اسے فوجی اعزازات کے ساتھ دفن کیا گیا۔

آخری رسومات میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ ان میں سرب حکام بھی شامل تھے جس پر بین الاقوامی مبصرین نے شدید تنقید کی۔

اس معاملے نے سربیا کے یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کو بھی متاثر کیا ہے۔

یورپی یونین کی کمشنر برائے توسیع مارتا کوس نے ملادیچ کو خراج تحسین  پیش کرنے اور اس کی تعریف و توصیف کو ان اقدار سے متصادم قرار دیا  ہےجو سربیا کی یورپی یونین میں شمولیت کی حمایت کی بنیاد ہیں۔ اسی بنیاد پر انہوں نے اپنا طے شدہ دورہ  سربیا منسوخ کر دیا ہے۔

ترکیہ نے جنگِ بوسنیا کے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے

ترکیہ  وزارت خارجہ نے اپنے ایک اور  بیان میں جنگِ  بوسنیا  کےشہداء اور خصوصاً سربرینیتسا نسل کشی کے متاثرین کو دعائے رحمت و مغفرت کے ساتھ  یاد کیا اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

وزارت خارجہ  نے کہا  ہےکہ ماضی کا سامنا کرنا، متاثرین کا احترام کرنا اور سزا یافتہ جنگی مجرموں کی تمجید کو مسترد کرنا بلقان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ناگزیر ہے۔

ترکیہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملادیچ کی آخری رسومات نے ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ سربیا اور پورا خطہ جنگِ بوسنیا  کے ورثے اور بین الاقوامی عدالتوں کی جانب سے ثابت کیے گئے جرائم کا کس طرح سامنا کرے گا۔

دریافت کیجیے
امریکہ: وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کے عائد کردہ جرمانوں کا نفاذ روک دیا
اسرائیل خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے: امریکی خفیہ رپورٹ
ایران: "امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں"
غزہ میں جنگ بندی مستقل طور سے بحال کروائی جائے: گوتیرس
اتحادی افواج کا یمن میں  آپریشن، حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے
"مکہ معاہدہ" سیکریٹری جنرل نعمان محمود ہونگے
ماسکو پر 650 ڈرونز سے حملہ،  روس کے خلاف گزشتہ دو برسوں میں بڑا ترین دوسرا حملہ تھا
ترکیہ کا ردعمل: اسرائیل، شام میں کاروائیاں کرنا بند کرے
فرانس:طلباء کی احتجاجی تحریک جاری، 500 ہائی اسکول بند ہو گئے
رونالڈو اگر چاہیں تو پرتگال ٹیم میں واپس آ سکتے ہیں:ہیڈ کوچ
روس میں لیبارٹری ملازمہ کی مشکوک موت سے وبا کا خدشہ پیدا
دہشتگردی کا خطرہ،امریکہ نے B-1 طیارے برطانیہ سے ہٹا دیئے
قاتل اسرائیل، 2023 سے اب تک، مقبوضہ مغربی کنارے پر تقریباً 63 ہزار حملے کر چکا ہے
ترکیہ: 21 ممالک نے انطالیہ اعلامیہ منظور کر دیا
حماس کے رہنما کے قتل کی ناکام کوشش  عیسائی ماں اور بیٹی ہلاک