چین نے پہلی بار این ویڈیا H200 چپ کی درآمدات کی منظوری دے دی
این ویڈیا کی دوسری سب سے طاقتور AI چِپ H200 کا معاملہ ، امریکہ اور چین کے تعلقات میں  کشیدگی کا موجب بنا تھا۔
چین نے پہلی بار این ویڈیا H200 چپ کی درآمدات کی منظوری دے دی
بیجنگ مصنوعی ذہانت کی ضروریات اور ملکی صنعت کی ترقی کے درمیان توازن تلاش کر رہا ہے۔ / Reuters

رائٹرز کی خبر کے مطابق چین نے این ویڈیا کے H200 مصنوعی ذہانت چِپ کی پہلی کھیپ کی درآمد کی منظوری دے دی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بیجنگ اپنی AI ضروریات اور ملکی ترقی کو فروغ دینے کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش  میں  ہے۔

دو ذرائع نے اپنی شناخت خفیہ رکھنے کی شرط پر  رائٹرز  کو بتایا ہے  کہ بائٹ ڈانس، علی بابا اور ٹینسینٹ کو مجموعی طور پر چار لاکھ سے  زائد H200 چِپس خریدنے کی منظوری دی گئی ہے، جبکہ دیگر ادارے بھی اگلی منظوریوں کے لیے قطار میں شامل ہو رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق یہ منظوری اس دوران دی گئی جب این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹو جینسن ہوانگ اس ہفتے چین کے دورے پر تھے۔

چین کی  وزارت برائے صنعت و تجارت اور این ویڈیا دونوں نے اس پر  تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ بائٹ ڈانس، علی بابا اور ٹینسینٹ نے بھی  اس حوالے سے کوئی اعلان جاری نہیں کیا۔

این ویڈیا کی دوسری سب سے طاقتور AI چِپ H200 کا معاملہ ، امریکہ اور چین کے تعلقات میں  کشیدگی کا موجب بنا تھا۔

چینی کمپنیوں کی جانب سے  بلند سطح کی مانگ  اور برآمدات کے لیے امریکی منظوری کے باوجود، درآمدات کی اجازت دینے میں بیجنگ کی ہچکچاہٹ سب سے بڑی رکاوٹ بنی رہی۔

اس ماہ کے اوائل میں امریکہ نے باضابطہ طور پر این ویڈیا کو H200 چین کو بیچنے کی راہ ہموار کر دی تھی۔

تاہم،  حتمی فیصلہ  چینی حکام کے ہاتھ میں تھا۔

حالیہ ہفتوں میں یہ واضح نہیں تھا کہ بیجنگ منظوری دے گا یا نہیں، کیونکہ حکومت جدید AI چِپس کی بڑھتی ہوئی مقامی طلب کو پورا کرنے اور ملکی سیمی کنڈکٹر صنعت کے درمیان توازن قائم کرنا چاہتی ہے۔

توازن برقرار رکھنا

چینی کسٹم حکام نے ایجنٹس کو کہا کہ H200 چِپس کو چین میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔

لیکن چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے دو ملین سے زائد H200 چِپس کے آرڈر دے رکھے ہیں، جو این ویڈیا کے دستیاب اسٹاک سے کہیں زیادہ ہیں۔

یہ اب بھی غیر یقینی ہے کہ آئندہ کھیپوں میں مزید کتنی کمپنیوں کو منظوری ملے گی یا بیجنگ اہلیت کا تعین کرنے کے لیے کون سے معیار استعمال کر رہا ہے۔

ہوانگ گزشتہ جمعہ کو این ویڈیا کے چین کے ملازمین کے ساتھ روایتی سالانہ تقریبات کے لیے شنگھائی پہنچے اور اس کے بعد انہوں نے  بیجنگ اور دیگر شہروں کا سفر کیا۔

H200 کی منظوریوں سے اشارہ ملتا ہے کہ بیجنگ بڑی چینی انٹرنیٹ کمپنیوں کی ضروریات کو ترجیح دے رہا ہے، جو AI خدمات کو تیار کرنے اور اوپن اے آئی سمیت امریکی حریفوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے ڈیٹا سینٹر بنانے پر اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہیں۔

اگرچہ چینی کمپنیاں، جیسے ہواوی، اب ایسی مصنوعات تیار کرتی ہیں  جو این ویڈیا کی چِپ کارکردگی کے قریب ہے تا ہم پھر بھی H200 کے مقابلے میں کافی پیچھے ہیں۔

H200 این ویڈیا کی H20 چِپ کے مقابلے میں تقریباً چھ گنا بہتر کارکردگی مہیا کرتی ہے۔

اس کے باوجود، بیجنگ نے غیر ملکی سیمی کنڈکٹرز کی درآمد کی منظوری کے بدلے کمپنیوں سے مقامی چِپس کے ایک مخصوص کوٹے کو خریدنے کا تقاضا کرنے پر بات چیت کی ہے۔

 

دریافت کیجیے
امریکی اسٹاک مرکیٹوں میں تناو، تیل 100 ڈالر سے اوپر چلا گیا
اسرائیلی فوج نے تین فلسطینیوں کو قتل کر کے لاشیں قبضے میں لے لیں
روسی گودام پر یوکرینی ڈرون حملے
جاپان امید کرتا ہے کہ فلسطین کے لیے حمایت میں اضافہ ہوگا
ترکیہ COP31 پروگرام میں رضاکار بننے کے لیے درخواستیں جاری
چین نے آبنائے تائیوان میں دو روزہ فوجی مشقیں شروع کر دیں
ایران: ہمارا دفاعی نظریہ بالکل واضح ہے، "آنکھ کے بدلے آنکھ"
اسرائیل نے تازہ خلاف ورزیوں میں چار فلسطینیوں کو قتل کر دیا ہے
امریکہ نے ایران پر حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا
نیٹو کا 'فرنٹ ڈور' منصوبہ ،ترک دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کا ہدف
ترک خواتین اور مردوں کی ٹیمیں VNL فائنلز میں پہنچ گئیں
فرانس میں پھِیلتی جنگلاتی آگ،سینکڑوں افراد کا انخلا
حملے جاری رہے تو امریکہ اور اس کے عرب اتحادی بھی نہیں بچیں گے:ایران
یورپی یونین کے سفیر روس پر نئے پابندیوں کی تیاریوں میں
"الزامات بے بنیاد ہیں"عدالت میں اپنا مقدمہ چیلنج کروں گا: مادورو