رروسی وزارتِ خارجہ نے برطانیہ کے چارج ڈی افیئرز کو طلب کرتے ہوئے یوکرین کو ڈراونز اور دیگر ہتھیاروں کے نظام کی فراہمی میں اضافے پر احتجاج کیا۔
جمعہ کو جاری ایک بیان میں وزارت نے لندن پر الزام لگایا کہ وہ جنگ کو طول دینے اور بڑھانے کے مقصد سے ایک 'متصادم' پالیسی اپنا رہا ہے، اور اس سے سیاسی حل کے امکانات میں تاخیر ہو رہی ہے۔
وزارت نے کہا کہ طویل فاصلے کے حملہ آور ہتھیاروں کی برطانوی فراہمی لندن کو یوکرین کے 'خونریز مظالم' میں 'شریک دار' بناتی ہے، اور ان مبینہ کارروائیوں کو 'دہشت گردی اور جنگی جرائم' قرار دیا۔
اس نے برطانیہ پر الزام لگایا کہ وہ کیف کی حمایت کے ذریعے بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور لندن کی 'تباہ کن' کارروائیوں سے پیدا ہونے والے خطرات کے بارے میں خبردار کیا۔
وزارت نے برطانوی کوششوں کو بے سود قرار دے دیا اور دعویٰ کیا کہ یوکرین کے معرکے میں روسی افواج میدانِ جنگ میں 'اسٹریٹجک برتری' کی پوزیشن رکھتی ہیں۔
وزارت نے کہا کہ روس نے خود دفاع کے حق کے تحت 'ضروری جوابی اقدامات' کرنے کا حق محفوظ رکھا ہے اور خبردار کیا کہ یوکرین میں موجود کوئی بھی برطانوی عسکری سہولتیں جو روسی علاقے پر حملے کے لیے استعمال ہوں گی، جائز اہداف تصور کی جائیں گی۔
اس نے لندن سے کہا کہ وہ جسے وہ 'تناؤ بڑھانے والی' پالیسی قرار دے رہا ہے ترک کر دے اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کرے۔

















