ترکیہ میں علی خان کوریش کے مجرمانہ نیٹ ورک کے خلاف ایک بڑے آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
انقرہ کے چیف استغاثہ کے دفتر نے اعلان کیا ہے کہ نیٹ ورک کے سرغنہ علی خان کوُریش سمیت 30 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے جب کہ 49 افراد کے خلاف گرفتاری کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
کُل 123 پتے فراہم کیے گئے مقامات پر تلاشی لی گئی ہے جس کے دوران 33 کمپنیوں سے وابستہ ٹھکانوں کو باریک بینی سے جانچا جا رہا ہے۔
منظم مالیاتی جرائم کے دائرے میں جاری اس تحقیقات میں منی لانڈرنگ، بدعنوانی اور اربوں لیرا کے غیر قانونی تجارتی لین دین کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
مالی جرائم کے تحقیقاتی بورڈ کی رپورٹوں کے مطابق، دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نیٹ ورک سے منسلک کمپنیوں کے ذریعے 100 ارب لیرا سے زائد کے وسائل بیرون ملک منتقل کیے گئے ہیں اور فنڈز کے اس بہاؤ میں اسرائیل سے منسلک لین دین بھی شامل ہے۔
عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے متعدد کمپنیوں اور اثاثوں کو ضبط کر لیا گیا ہے، جب کہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ تحقیقات براہ راست اقتصادی اور تنظیمی مجرمانہ ڈھانچے پر مرکوز ہیں اور مذہبی سرگرمیاں انجام دینے والی کسی بھی انجمن یا تنظیم کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔
یہ آپریشن وسیع پیمانے پر جاری ہے۔
توقع ہے کہ اس تحقیقات کا دائرہ کار مساک کی رپورٹوں، کمپنیوں کے ریکارڈز، بینک ٹرانزیکشنز اور دیگر عدالتی شواہد کی تفصیلی جانچ کے بعد مزید واضح ہو جائے گا۔



















