روس کے صدر ولادی میر پوتن نے جنگ کے خاتمے کے لئے، امریکہ کے صدرڈونلڈ ٹرمپ اور چین کے صدر شی جن پنگ کی شرکت سے، سہ فریقی اجلاس کی تجویز پیش کی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی سفارتی ذرائع کے حوالے سے شائع کردہ خبر کے مطابق صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین میں جاری جنگ پر بات چیت کرنے اور تنازعہ ختم کرنے کے مقصد سے اگلے ماہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور صدر شی جن پنگ کے ساتھ اعلیٰ سطحی سہ فریقی اجلاس منعقد کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔
اس مجّوزہ ملاقات کے بارے میں معلومات رکھنے والے ایک سابق روسی انٹیلی جنس اہلکار کے مطابق پوتن نے 9 اکتوبر کو ٹرمپ کے ساتھ ٹیلی فونک ملاقات کے دوران یہ تجویز پیش کی تھی۔
ملاقات میں ایک ایسے انتظام پر بھی اتفاق کیا گیا تھا جس کے تحت امریکہ، روس سے ڈیزل ایندھن خرید سکے گا اور اس ایندھن کو توانائی کی عالمی منڈیوں میں دوبارہ تقسیم کیا جا سکے گا۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ممکنہ سربراہی اجلاس کے حوالے سے ابتدائی بات چیت کی تصدیق کی ہے۔
پیسکوف نے اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ابھی تک اجلاس کے انعقاد یا اس کے ممکنہ ایجنڈے کے بارے میں کوئی واضح اتفاقِ رائے نہیں ہوا۔ تاہم، تینوں فریق اس امکان کو تسلیم کرتے ہیں کہ ایسا اجلاس منعقد ہو سکتا ہے۔‘‘
ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ ٹرمپ نے ابھی تک اجلاس میں شرکت کے حوالے سے باضابطہ طور پر کوئی یقین دہانی نہیں کرائی تاہم وہ ، اپنے انتخابی وعدوں کو پورا کرنے کی خواہش کے پیش نظر، جنگ روکنے کی اس تجویز پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔
ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون (APEC) سربراہی اجلاس کے موقع پر
مذاکرات سے واقف ذرائع کے مطابق ماسکو نے تجویز دی ہے کہ یہ سہ فریقی اجلاس 18 اور 19 نومبر کو چین کے شہر شینزن میں متوقع ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون سربراہی اجلاس کے موقع پر منعقد کیا جائے۔
روسی نمائندوں نے سفارتی ذرائع کے ذریعے یہ معاملہ بیجنگ تک پہنچایا ہے اور چینی حکام نے بھی اشارہ دیا ہے کہ اگر واشنگٹن منظوری دے دیتا ہے تو انہیں ایسے اجلاس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
روس کے مذکورہ سابق انٹیلی جنس اہلکار نے دعویٰ کیا ہےکہ پوتن اس طرز کی ملاقات کو 1945ء کی یالٹا کانفرنس کا جدید متبادل سمجھتے ہیں اور اس کے ذریعے عالمی اثر و رسوخ کے دائرہ کار کو ازسرِنو متعین کرنا چاہتے ہیں۔
یہ تجویز ایسے وقت پر سامنے آئی ہے کہ جب ٹرمپ نے امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں کمی کی خاطرپوتن کے ساتھ ڈیزل درآمد ات کا معاہدہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ صدر ٹرمپ نے جمعے کے روز ، کانگریس کی جانب سے ماسکو پر عائد، پابندیوں کو معطل کرنے کا فیصلہ بھی کیا تھا۔


















