کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو کی پُکار پر کل بروز جمعرات ملک بھر میں ہزاروں مظاہرین نے احتجاجی مارچ کی۔
اپنی حکومت کے، کم ترین اُجرت میں جامع اضافے کے، فیصلے کو مسترد کرنے سے متعلقہ عدالتی فیصلے کے جواب میں صدر گوستاوو پیٹرو نے اپنے حامیوں سے سڑکوں پر نکلنے کا مطالبہ کیا تھا۔
کولمبیا کونسل آف اسٹیٹ کی طرف سے، طریقہ کار کی خامیوں اور فیصلے کے معاشی اثرات کا حوالہ دے کر، حکومت کی طرف سے دسمبر میں نافذ کیے گئے 23.7 فیصد اجرتی اضافے کو عارضی طور پر معطل کئے جانے کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔
دارالحکومت بوگوٹا مظاہروں کا مرکز بن گیا، شہر کی بڑی شاہراہوں کو بند کر دیا گیا اور مظاہرین کے شہر ی مرکز میں ہجوم کی شکل اختیار کرنے پرعوامی نقل و حمل مفلوج ہو گئی۔
کالی، میڈیلن اور بارانکیلا میں بھی احتجاجی جلوس نکالے گئے جو تنخواہوں کے بارے میں اس تدبیری اقدام کے خلاف ملک گیر حرکت کی عکاسی کرتی ہیں۔
پلازا دے بولیوار میں جمع ہونے والے مظاہرین میں لیبر یونینوں کے نمائندے بھی شامل تھے۔
مظاہرین سے خطاب میں صدر گستاوو پیٹرو نے کہا ہے کہ ان کی حکومت دو ملین پیسوس (تقریباً $544) کی نئی کم از کم اجرت کو برقرار رکھے گی اور حکم نامے کا 'ایک بھی ہندسہ' تبدیل نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ نئے تکنیکی مطالعات اجرتوں میں اضافے کی حمایت کرتے ہیں اور تصدیق کی کہ حکومت نے نظرِ ثانی کے لیے مذکورہ بِل کو عدالت میں جمع کروا دیا ہے۔
کونسل آف اسٹیٹ کی مداخلت ان مقدمات کے بعد ہوئی جن میں کہا گیا تھا کہ اجرتوں میں اضافے کا فیصلہ بِل قانونی تقاضوں کو نظر انداز کر کے افراطِ زر، پیداواریت میں کمی اور کاروباری مراکز کو غیر سرکاری معیشت کی طرف دھکیلنے کا سبب بن سکتا ہے۔








