مشرق وسطی
2 منٹ پڑھنے
امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں کے بعد بھاری نقصانات کی اطلاع
تازہ حاصل کردہ تصاویر میں تباہ شدہ عمارتیں، گاڑیاں اور طیارے دکھائی دیتے ہیں جبکہ پینٹاگون کے نگران کا اندازہ ہے کہ یہ نقصان 3.7 بلین ڈالر تک ہو سکتا ہیے۔
امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں کے بعد بھاری نقصانات کی اطلاع
امریکی بحریہ کے اہلکار بحیرہ عرب میں یو ایس ایس جارج واشنگٹن کے فلائٹ ڈیک پر ایک لڑاکا طیارے کی دیکھ بھال کرتے ہوئے، 11 ستمبر 2026 [فائل] / Reuters

سی بی ایس نیوز کے مطابق ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں نے پورے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی ٹھکانوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا، جن میں عمارتیں، گاڑیاں اور طیارے شامل ہیں۔

یہ تصاویر فعال سروس  ارکان نے فوجی میڈیا پابندیوں کے باعث گمنامی کی شرط پر CBS News کو فراہم کیں اور ان میں خطے کے متعدد امریکی مقامات پر پہنچنے والے نقصانات دکھائے گئے ہیں۔

ایک تعینات سروس ممبر نے میڈیا کو بتایا”یہ ہمارے اڈوں کو بڑا نقصان ہے جسے امریکی عوام سے پویشدہ رکھا گیا ہے۔“

”ہم آنکھیں بند کیے کھڑے ہیں ، جبکہ ہم پر ضربیں  لگائی جا رہی  ہیں۔“

سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس  کی ایک تصویر کے بارے میں CBS News نے بوئنگ E-3 سینٹری طیارے کے پچھلے حصے پر براہِ راست ضرب قرار دیا، جس کی دم اس کے جلتے ہوئے دھڑ سے الگ ہو گئی۔

بیس  دیگر تصاویر میں بری طرح  تباہ شدہ عمارتیں اور رہائشی بلاکس دکھائی دیتے ہیں جن کے ساتھ کنکریٹ کی 'ٹی-وال' رکاوٹیں بھی موجود ہیں، جو بنیادی طور پر گرینیڈ اور مورٹر فائر جیسے خطرات کے خلاف تحفظ کے لیے بنائی جاتی ہیں۔

ہم بس دور سے تماشا  دیکھ رہے ہیں

رپورٹ کے مطابق، کیمپ بیورنگ، کیوویت کی تصاویر میں بھی وسیع پیمانے پر نقصان دکھایا گیا — یہ کیمپ امریکی فوجی عملے، زرہ پوش گاڑیوں اور بعض طیاروں کے لیے ایک اہم   پارکنگ  ایریا ہے۔

یہ تصاویر اس وقت سامنے آئیں جب امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل نے ایران کے خلاف جنگ سے مشینی خسارے کا تخمینہ تقریباً 3.7 بلین ڈالر تک لگایا، جس میں تقریباً 60 طیارے بھی شامل ہیں۔

کانگریس کو بھیجی گئی ایک رپورٹ میں انسپکٹر جنرل نے کہا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، عمان اور اردن میں امریکی اڈوں پر ایرانی حملوں کی اطلاع دی ہے۔

پینٹاگون نے CBS News کی تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا

”یہ 'سکوئٹرز' نہیں ہیں جو اندر آ رہے ہیں،“ سروس ممبر نے کہا، اس اصطلاح کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جو دفاعی وزیر پیٹ ہیگسیٹھ نے یکم مارچ کو کویت کے پورٹ آف شعیبہ پر ہونے والے اس حملے کے بعد استعمال کی تھی جس میں چھ امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔

اس سروس ممبر نے مزید کہا کہ ”ہم ان اڈوں کا دفاع نہیں کر رہے، بس  ہم انہیں تباہ ہوتے دیکھ رہے ہیں۔“

 

دریافت کیجیے
یمنی حوثیوں نے سعودی عرب کے کنگ خالد ہوائی اڈے کو درجنوں میزائلوں اور ڈراونز سے نشانہ بنایا
ترکیہ نے سویٹزرلینڈ کو پہلی سی ای وی یورپی چیمپئن شپ میں ہرا دیا
9 یورپی ممالک نے ہوائی اڈوں پر شدید رش  کے باعث داخلی اور خارجی چیکنگ کو ملتوی کر دیا
اسرائیلی فلم سازوں کی شہریت منسوخ کروادوں گا:اسرائیلی وزیر
اسرائیلی وزیر دفاع کی جنوبی لبنان کے پہاڑوں کی طرف رخ کرنے والوں کو 'ختم کرنے' کی دھمکی
ایران اور متحدہ عرب امارات باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے اور تعاون میں توسیع پر متفق
اسرائیل نے ڈرون حملہ کر کے دو فلسطینیوں کو قتل اور 13 کو زخمی کر دیا
فلسطین: ہم برکس کے اعلامیے کا خیر مقدم کرتے ہیں
عراق: ڈرون لانچنگ پلیٹ فارم کو قبضے میں لے لیا گیا ہے
یوکرین کی طرف سے تاتارستان پر ڈرون حملے
ترکیہ: ہم، سعودی عرب پر ڈرون حملوں کی مذّمت کرتے ہیں
شمالی قبرصی ترک جمہوریہ: امریکہ کا فیصلہ انتہائی  افسوسناک ہے
ترکیہ: ہم، شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کے موقف سے اتفاق کرتے ہیں
فرانس میں ٹرین حادثے کی تحقیقات ممکنہ طور پر سبوتاژ کے طور پر کی جا رہی ہیں
لبنان سے انخلاء تک اسرائیل کے ساتھ کوئی نئی مذاکرات نہیں: عون