ایشیا
3 منٹ پڑھنے
سنگاپور بھی فلسطین کو تسلیم کرسکتا ہے:امور خارجہ
سنگاپور نے کہا کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے اصولی طور پر تیار ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس طرح کے اقدام سے امن اور دو ریاستی حل کی جانب پیش رفت کو فروغ دینے میں مدد ملنی چاہیے
سنگاپور بھی فلسطین کو تسلیم کرسکتا ہے:امور خارجہ
/ AA

سنگاپور نے کہا کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے اصولی طور پر تیار ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس طرح کے اقدام سے امن اور دو ریاستی حل کی جانب پیش رفت کو فروغ دینے میں مدد ملنی چاہیے۔

ملکی وزارت خارجہ میں فائز  ایشیا بحرالکاہل کے نائب سیکریٹری کیون چیوک نے یہ بیان منگل کے روز نیویارک میں فلسطین کے بارے میں اقوام متحدہ کی اعلیٰ سطحی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔

انہوں نے کہا کہ سنگاپور نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل کی بنیاد پر فلسطینیوں کے اپنے وطن کے حق کی مسلسل حمایت کی ہے، ہم پختہ یقین رکھتے ہیں کہ اس دیرینہ تنازعے کے جامع، منصفانہ اور پائیدار حل کے حصول کے لیے یہی واحد قابل عمل راستہ ہے اس مقصد کے لیے ہم اصولی طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے مستقل جنگ بندی پر اتفاق کے بعد غزہ کی تعمیر نو کی کوششوں میں تعاون کرنے کے لئے سنگاپور کی آمادگی کا بھی اظہار کیا۔

انہوں نے جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر ضروری انسانی امداد کی فراہمی پر عائد تمام پابندیاں فوری طور پر ختم کرے۔

انہوں نے کہا کہ ہم غزہ کے مریضوں کے علاج میں مدد کے لیے خطے میں ایک  طبی  ٹیم کی تعیناتی پر غور کر رہے ہیں۔ مستقل جنگ بندی معاہدے تک پہنچنے کے بعد ہم طویل مدت میں غزہ کی تعمیر نو میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں پر بھی زور دیا کہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔

یہ بیان فرانس کے ایمانوئل میکرون، برطانیہ کے کیر اسٹارمر اور کینیڈا کے مارک کارنی کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کے متعلقہ ممالک ستمبر میں فلسطین کو تسلیم کر لیں گے۔

گزشتہ ہفتے میکرون نے کہا تھا کہ پیرس ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطین کو اس شرط پر تسلیم کرے گا کہ فلسطینی ریاست فوج کشی کو قبول کرے گی اور اسرائیل کو مکمل طور پر تسلیم کرے گی۔

رواں ہفتے اسٹارمر نے کہا تھا کہ اگر اسرائیل غزہ میں اپنے قتل عام کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے میں ناکام رہا تو ان کی حکومت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی فلسطین کو تسلیم کرے گی۔

اس سے قبل کارنی نے کہا تھا کہ وہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی فلسطین کو تسلیم کریں گے۔

اسرائیل نے ان کے تمام منصوبوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ حماس کے لیے انعام کی نمائندگی کرتے ہیں۔

دریافت کیجیے
ترکیہ کی طرف سے چار فلسطینیوں کی ہلاکت اور اسرائیل کی 'نسل کشی پالیسی' کی مذمت
شمال مغربی پاکستان میں پولیس چوکی پر دہشت گرد حملہ، 15 افراد لقمہ اجل
اقوام متحدہ کے سربراہ کا 17 سال بعد دورہ دمشق
ٹرمپ: اب ایران مذاکرات کے لیے زیادہ سنجیدگی سے کام لے رہا ہے
شمالی یوکرین میں سومی ڈاک خانے پر روسی ڈراون حملے میں 2 افراد ہلاک
فرانس اور ہسپانیہ میں بے قابو ہونے والی جنگلات کی آگ کے باعث دو لاکھ افراد فرار
ترکیہ: یوروفائٹر ٹائیفون کی تربیت کے لئے پہلا پائلٹ گروپ برطانیہ بھیجا جا رہا ہے
ایران، جنگ کی بھاری قیمت چُکا رہا ہے: روبیو
امریکی اسٹاک مرکیٹوں میں تناو، تیل 100 ڈالر سے اوپر چلا گیا
اسرائیلی فوج نے تین فلسطینیوں کو قتل کر کے لاشیں قبضے میں لے لیں
روسی گودام پر یوکرینی ڈرون حملے
جاپان امید کرتا ہے کہ فلسطین کے لیے حمایت میں اضافہ ہوگا
ترکیہ COP31 پروگرام میں رضاکار بننے کے لیے درخواستیں جاری
چین نے آبنائے تائیوان میں دو روزہ فوجی مشقیں شروع کر دیں
ایران: ہمارا دفاعی نظریہ بالکل واضح ہے، "آنکھ کے بدلے آنکھ"