دنیا
3 منٹ پڑھنے
ہنگری:اوربان کا 16 سالہ اقتدار ختم ،ماگیار کو واضح برتری
قومی دفتر برائے انتخابات  کے نتائج، جن میں 81٪ سے زائد ووٹ گنے جا چکے ہیں، ظاہر کرتے ہیں کہ ماگیار کی ٹیزا پارٹی 68.84٪ ووٹ حاصل کر کے شاندار کامیابی کی جانب بڑھ رہی ہے، جس سے ہنگری کی پارلیمان میں تقریباً 137 نشستیں حاصل ہوں گی
ہنگری:اوربان کا 16 سالہ اقتدار ختم ،ماگیار کو واضح برتری
پیٹر میگیار / Reuters

ایک سیاسی زلزلے میں جو وسطی یورپ کے منظرنامے کو نئی شکل دینے کا امکان رکھتا ہے، ہنگری کے اپوزیشن رہنما پیٹر ماگیار ملک کے عام انتخابات میں فاتح بن کر ابھرے ہیں۔

 قومی دفتر برائے انتخابات  کے نتائج، جن میں 81٪ سے زائد ووٹ گنے جا چکے ہیں، ظاہر کرتے ہیں کہ ماگیار کی ٹیزا پارٹی 68.84٪ ووٹ حاصل کر کے شاندار کامیابی کی جانب بڑھ رہی ہے، جس سے ہنگری کی پارلیمان میں تقریباً 137 نشستیں حاصل ہوں گی۔

کامیابی کا پیمانہ اتنا فیصلہ کن تھا کہ موجودہ وزیر اعظم وکٹر اوربان نے اتوار کی رات شکست تسلیم کر لی  جو یورپی یونین کے سب سے طویل عرصہ خدمات انجام دینے والے رہنما ہیں ۔

اوربان، جو 2010 سے ہنگری کی سیاست پر غالب رہے ہیں انہوں نے تصدیق کی کہ انہوں نے ماگیار کو مبارکباد دینے کے لیے فون کیا۔

 اوربان نے اپنے حامیوں سے کہا کہ نتیجہ واضح اور تکلیف دہ ہے ،ہم اپوزیشن سے اپنے ملک کی خدمت کریں گے اور کبھی ہمت نہیں ہاریں گے۔

 دوسری جانب ،یورپی دارالحکومتوں سے ردعمل تیز اور بڑی حد تک مثبت تھا۔

جرمن چانسلر فریڈرک مرٹز نے دلی مبارکباد پیش کی اور "متحدہ یورپ" کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا، جبکہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ماگیار سے براہ راست بات کر کے اس کامیابی کو براعظمی استحکام کے لیے ایک موڑ قرار دیا۔

اسی دوران، برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اسے یورپی جمہوریت کے لیے "تاریخی لمحہ" قرار دیا، اور ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے اس نتیجے کو "یورپی اقدار" کی جیت قرار دیا۔

اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے ماگیار کو ان کی "واضح فتح" پر مبارکباد دی اور مسلسل تعمیری تعاون کا وعدہ کیا۔

ماگیار کی فتح یوکرین کی جنگ کے لیے گہرے اثرات رکھتی ہے، جہاں صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اپوزیشن رہنما کو مبارکباد دی اور کیف کی جانب سے تعلقات مضبوط کرنے اور "تعاون کو آگے بڑھانے" کی آمادگی ظاہر کی۔

برسوں تک اوربان کیف کے لیے یورپی یونین کے امدادی پیکجوں میں سب سے بڑی رکاوٹ رہے وہ  اکثر اپنی ویٹو طاقت استعمال کرتے ہوئے اربوں یورو کی امداد کو روک دیتے تھے۔

اب ماگیار کی قیادت میں، یورپی یونین کے  یوکرین کے لیے 90 ارب یورو کے قرض کو حتمی شکل دینے کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔

اگرچہ ماگیار نے مہم کے دوران جنگ کے بارے میں محتاط رویہ اختیار کیا  اور  انہوں نے روسی اثر و رسوخ کی سخت مذمت کی۔

گزشتہ ماہ، انہوں نے کریملن سے مطالبہ کیا کہ وہ ہنگری کے عوام کو دھمکانے سے باز رہے، جو اوربان کے ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ قریبی تعلقات سے ایک واضح انحراف ہے۔

اوربان عالمی "MAGA" تحریک کے ایک اہم ستون اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کھلے حمایتی تھے۔

ووٹنگ سے چند دن قبل، ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ اگر اوربان جیت گئے تو امریکہ کی "مکمل اقتصادی طاقت" ہنگری کی مدد کے لیے استعمال کی جائے گی اور نائب صدر جے ڈی وینس نے ہنگری کا دورہ کر کے اوربان کی آخری ریلی میں حمایت کی  تھی  جسے ماگیار نے غیر ملکی مداخلت قرار دیا۔

 

 

دریافت کیجیے
سرحدی بارودی سرنگ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے تو شمالی کوریا نے ایک بیلسٹک میزائل داغا
امریکی عہدیدار ایران کے خلاف اقدامات پر بات چیت کے لیے کیمپ ڈیوڈ میں یکجا ہوئے، ایکسیوس
ٹرمپ کا ترکیہ پر عائد CAATSA پابندیوں کو ہٹانے پر مثبت موقف کا مظاہرہ
بھارت نے پنجاب کی سرحدوں کے قریب دو پاکستانی شہریوں کو  مار ڈالا
حکومتِ یمن: "طائز میں حوثیوں کے ساتھ گھمسان کی جنگ ہو رہی ہے"
ترکیہ وزیر برائے قومی دفاع یاشار گولیر کی آذربائیجان اور جارجیا کے ہم منصبوں سے ملاقات
متحدہ امریکہ نے شام کو دفاعی تجارتی پابندیوں کی فہرست سے  خارج کر دیا
جنوبی کوریا امریکہ میں 200 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا
ریحانلی قتل عام کا ملزم گرفتار کرتےہوئے ترکیہ لایا گیا
ٹینیسی: زہریلے انجیکشنز کے باوجود  سزائے موت پانے والی خاتون بچ گئی: وکلا
اسرائیل کا حملہ، صحافی النجار ہلاک
امریکہ:200 سال بعد خاتون کو سزائے موت دینے کا فیصلہ
فلائی دبئی : پائلٹوں کی لڑائی کی وجہ سے پرواز سعودی عرب میں اتر گئی
میانمار : شمالی راکھائن میں کم از کم 50 افراد ہلاک
ٹوکیو میں بارشوں کا 34 واں مسلسل دن