اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے منگل کو خبردار کیا کہ دو ریاستی حل کے لیے بین الاقوامی حمایت کو سفارتی بیانات سے آگے بڑھنا ہوگا اور کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ہونے والی پیش رفت رفتہ رفتہ ایک قابل عمل فلسطینی ریاست کے امکانات کومعدوم کر رہی ہے۔
گوتریش نے نیویارک میں 81ویں جنرل اسمبلی کے حوالے سے ہونے والی دو ریاستی حل اور غزہ کے جامع امن منصوبے پر اعلیٰ سطحی وزارتی اجلاس کے دوران کہا کہ "فلسطینیوں اور وہ تمام لوگ جو مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے حق میں ہیں، انہیں دو ریاستی حل کی حمایت محض الفاظ سے آگے بڑھانی چاہیے۔"
گوتریش نے کہا کہ ایک آزاد، جمہوری، مسلسل ربط کی حامل اور خودمختار فلسطینی ریاست کے لیے درکار شرائط منظم طور پر کمزور کی جا رہی ہیں، اور اس کی مثال کے طور پر انہوں نے قابض مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیاں بنانے، وہاں کی دیگر پالیسیاں اور غیر قانونی آبادکاروں کے حملوں کا حوالہ دیا۔
گوتریش: فلسطینی زمینی تسلسل کو خطرہ
اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے خاص طور پر مقبوضہ مغربی کنارے کے ایک اسٹریٹجک طور پر اہم علاقے میں E1غیر قانونی بستیوں کے منصوبے میں مجوزہ تعمیرات پر خدشات کا اظہار کیا ۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ان منصوبوں کو آگے بڑھانا "ایک مسلسل اور قابل عمل فلسطینی ریاست کے امکان کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہوگا۔"
گوترِش نے کہا کہ غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کو وسعت دینا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور زور دیا کہ پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ دو ریاستیں لازمی طور پر 1967 میں طے شدہ معاہدے کی بنیاد پر تسلیم شدہ سرحدوں کے اندر رہیں، اور القدس دونوں کا دارالحکومت ہو۔
انہوں نے کہا، "سادہ لفظوں میں کوئی متبادل موجود نہیں اور وقت ختم ہوتا جا رہا ہے" انہوں نے دو ریاستی فریم ورک کو خطے کے وسیع تر استحکام سے جوڑا۔
کوستا: غزہ کے امن منصوبے پر عمل درآمد لازمی ہے
یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوستا نے کہا کہ دو ریاستی حل کے بارے میں بین الاقوامی اتفاق رائے تا حال مطلوبہ حد تک عملی اقدامات میں تبدیل نہیں ہوا۔
کوستا نے یاد دہانی کرائی کہ گزشتہ سال 142 ممالک نے نیویارک اعلامیہ برائے دو ریاستی حل کی تائید کی تھی، اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 نے غزہ کے امن منصوبے کے لیے ایک عملی فریم ورک فراہم کیا تھا۔ گزشتہ سال کے دوران صورتحال "مشکل سے بہتر ہوئی" ہے، مگر ناکافی ہے۔
انہوں نے غزہ کے لیے روڈ میپ پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا اور خبردار کیا کہ دو ریاستی حل روزانہ کے حساب سے مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف حصوں، بشمول مشرقی القدس میں خطرے میں پڑ رہا ہے۔
کوستا نے بتایا کہ "امن کے راستے کو برقرار رکھنا" ایک فوری اجتماعی کارروائی کا تقاضا پیش کرتا ہے تاکہ اسرائیل کے ساتھ محفوظ رہتے ہوئے ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست قائم کی جا سکے۔
یہ اجلاس 81ویں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی ہفتے کے دوران ہوا، جہاں دو ریاستی حل اور غزہ کے مستقبل بین الاقوامی ایجنڈے پر مزید اہم موضوعات پر بات ہو رہی ہے۔




















