وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، جب ایران نےآبنائے ہرمز میں اپنے حملے تیز کر دیے ہیں تو پینٹاگون وسطِ مشرق بھی مزید جنگی جہاز بھیجنے پر غور کر رہا ہے۔
جمعہ کو تین امریکی اہلکاروں کے حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا کہ محکمہ دفاع کے سیکرٹری پیٹ ہیگسیٹھ نے امریکی سینٹرل کمانڈ کی اُس درخواست کی منظوری دی جس میں ایک آمفیبیئس ریڈی گروپ کے ایک عنصر اور اس سے منسلک میرین ایکسپڈیشنری یونٹ کی فراہمی کی درخواست کی گئی تھی، جو عام طور پر چند جنگی جہازوں اور 5 ہزار بحری پیادوں پر مشتمل ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، دو اہلکاروں نے بتایا کہ جاپان میں تعینات یو ایس ایس ٹرپولی اور اس سے منسلک بحری پیادے اب مشرقِ وسطیٰ کی طرف روانہ ہو رہے ہیں۔
اہلکاروں نے کہا کہ بحری افواج پہلے ہی ایران کے خلاف جنگ میں تعاون کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں موجود ہیں۔
جب انادولو نے مستقبل کے فوجی تعیناتی منصوبے کے بارے میں دریافت کیا تو پینٹاگون نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
اس سے قبل ہیگسیٹھ نے اس تشویش کو رد کیا کہ ایران کے خلاف جنگ آبنائے ہرمز کے طویل مدت تک بند رہنے کا سبب بنے گی۔
ہیگسیٹھ نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز میں"لاچارگی" کا مظاہرہ کر رہا ہے، تا ہم ،ہم اس کا مقابلہ کر رہے ہیں، اور آپ کو اس بارے کوئی فکر نہیں ہونی چاہیے۔"
آبنائے ہرمز کب مکمل طور پر دوبارہ فعال ہو جائے گا؟ سوال کے جواب میں ہیگسیٹھ نے کہا کہ عبور میں رکاوٹ پیدا کرنے والی “واحد چیز” ایران کی جانب سے جہازوں پر فائر کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: “ہمارے پاس ہر ممکنہ آپشن کے لیے منصوبہ موجود ہے۔ ہم اپنے بین الادارتی شراکت داروں کے ساتھ کام کر رہے ہیں، اور ہم اسے مقابلہ زدہ رہنے یا تجارتی سامان کی ترسیل میں خلل پڑنے کی اجازت نہیں دیں گے۔




